پیٹر دی گریٹ ۔۔۔ زین اللہ خٹک

پیٹر دی گریٹ سترھویں صدی کے عظیم روسی سربراہ مملکت گزرے ہیں۔ آپ نے روس کو جدید خطوط پر یورپ کا ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ پیٹر دی گریٹ سے پہلے روس ہر لحاظ سے یورپ کا پسماندہ ترین ملک تھا۔ مذہبی طبقہ نے اقتدار کی ایوانوں میں پنجے گاڑھ رکھے تھے۔ علاقائی "ارباب” کی بدمعاشی قائم تھی۔ تاجر طبقے نے عوام کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ ملک داخلی اور خارجی سطح پر عدم استحکام کا شکار تھا۔ ان حالات میں پیٹر دی گریٹ نے عقلمندی اور شعور سے کام لیتے ہوئے ملک میں اصلاحات کا عمل شروع کیا۔ کسی بھی ملک میں اصلاحات کے لیے مضبوط فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر فوج کمزور ہو تو اصلاحات ایک خواب رہ جاتی ہے۔ افغانستان کے امیر امان اللہ خان کمزور فوج کی وجہ سے اصلاحات کا عمل ادھورا چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پیٹر دی گریٹ نے سب سے پہلے فوج کو مضبوط اور ہمنوا کیا۔ تاکہ اصلاحات کے عمل میں کوئی خلل نہ پڑے۔ مضبوط فوج کی موجودگی میں پیٹر ہر شعبہ زندگی میں اصلاحات لانے کے عمل میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ آپ نے پہلی بار روس میں اخبار شروع کیا۔کیونکہ کسی نظریے اور اصلاحات کی ترویج کے لیے اخبار کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ روسی کلچر کو پروموٹ کیا۔ تعلیمی اصلاحات نافذ کیں۔ جدید خطوط پر نظام تعلیم کو استوار کیا۔ سائنس کو اہمیت دی۔ معاشی نظام کو بہتر کیا۔ تاجروں پر ٹیکس لگایا۔ مذہبی طبقہ کو محدود کیا۔غریبوں کے لیے وظائف مقرر کیے۔ پیٹر برگ کے نام سے جدید شہر آباد کیا۔ جس کو بعد میں دارالحکومت کا درجہ دیا گیا۔ یہ شہر اپنی خوبصورتی اور طرز تعمیر سے جدیدیت کا بے نظیر نمونہ پیش کر رہا ہے۔ پیٹر دی گریٹ نے مختصر عرصے میں اصلاحات کی بدولت پسماندہ ترین روس کو یورپ کا جدید ترین ملک بنا دیا۔ کسی ملک میں اصلاحات اور تبدیلی کے لیے مضبوط فوج، باعمل حکمران اور سوچ و جذبہ کار فرما ہونا بہت ضروری اور لازمی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.