fbpx

پیٹرول سے متعلق ہم نے دل پر پتھر رکھ کرفیصلہ کیا ، شہباز شریف

لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ غریب ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، ہم نے ماہانہ 28 ارب روپے قومی خزانے سے خرچ کرکے پاکستان کے پسے ہوئے کروڑوں لوگوں کے لیے سبسڈی دی ہے۔

باغی ٹی وی : لاہور کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی میں پسے ہوئے ہیں غریب لوگ رل گئے ہیں ، ان کے پاس دوائی اور علاج کرانے کے پیسے نہیں ہیں مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اور بیروزگاری ہے نوکریاں نہیں ہیں جب کہ پیٹرول سے متعلق ہم نے دل پر پتھر رکھ کرفیصلہ کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ غریب ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، ہم نے ماہانہ 28 ارب روپے قومی خزانے سے خرچ کرکے پاکستان کے پسے ہوئے کروڑوں لوگوں کے لیے سبسڈی دی ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ عوام کوجوریلیف دیاوہ ان کاحق تھا،ریلیف پیکج کے تحت پسے ہوئے لوگوں کے لیےماہانہ 2ہزار مختص کیے ،نواز شریف نے کہا کہ مجھے پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے،نواز شریف نے بڑے ممالک کے سربراہان سے تلخ انداز میں بات نہیں کی ،دھماکے نہ کرنے پر امریکہ نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی امداد کی پیش کش کی،نوازشریف نے امریکہ سے کہا آپ کی امداد کا شکریہ ہم زندہ رہیں گے پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے-

انہوں نے کہا کہ 1997سےآج تک ایک دھیلا تنخواہ نہیں لی، پیٹرول تک پاس سے ڈلواتا ہوں،ایٹمی دھماکوں پر نوازشریف کوکسی نے دھمکیاں نہیں دیں-

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس میں عدالت میں پیش ہوئے لاہور کی اسپیشل کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو طلب کیا تھا کیس کی سماعت کے آغاز پر شریک ملزم سلیمان شہباز، طاہر نقوی، ملک مقصود اور غلام شبیر کی گرفتاری سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورنے عملدرآمد رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہارکیا،عدالت نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق ملزمان تو متعلقہ ایڈریس پر موجود ہی نہیں ہیں،تفتیشی افسر نے کہا کہ متعلقہ تھانے کے ذریعے وارنٹ گرفتاری بھجوائے گئے ہیں، جو ایڈریس تھا وہاں پر ملزم موجود ہی نہیں جو ایڈریس دیا گیا وہاں ملک مقصود رہتا ہی نہیں,عدالت نے کہا کہ آپ کی کس بات ہر یقین کروں؟ ایک سال پہلے کی بات ہے، اس کا مطلب پہلے والی رپورٹ غلط تھی،جلدی پڑی ہوئی تھی کہ کسی طرح رپورٹ عدالت کو دے آؤں، کیوں ناں انویسٹی گیشن افسر کو شو کاز جاری کر دیا جائے،

جج نے شہباز شریف کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا آج باہر سیکیورٹی کے حالات ٹھیک ہیں ؟وکیل نے کہاکہ آج باہر سیکیورٹی کے حالات ٹھیک ہیں ،شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کاغذ پیش نہیں کر رہا جو حکومت کے بدلنے کے بعد ریکارڈ پر آیا ہو، تمام ریکارڈ پچھلے دور حکومت کا ہے-وکیل نے کہ کہ 10سال میں کھلنےاور بند ہونے والے کسی اکاؤنٹ کا شہباز شریف سے تعلق نہیں، پچھلی حکومت کا شہباز شریف پر مقدمات بنا کر پابند سلاسل رکھنے پرفوکس تھا، قانون کے مطابق کسی کے خلاف 10 مقدمات ہوں توباری باری گرفتاری نہیں کی جائےگی۔ سرکاری مشینری کو استعمال کر کے یہ مقدمات بنائے گئے استغاثہ کو پتہ تھا کہ یہ مقدمات بے جان ہیں عدالت میں ثابت نہیں کیے جا سکتے ،ہائیکورٹ نے نیب کیسز میں ضمانت کے وقت ان ریفرنسز کو غلط قرار دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر بیان دیا کہ میں صوبے کا خادم رہا ہوں، سرکاری خزانے سےتنخواہ لی نہ کبھی ٹی اے ڈی اے لیا، پیٹرول بھی خود ڈلواتا تھا جب کہ تنخواہ اور ٹی اے ڈی اے کی رقم 7، 8 کروڑ بنتی تھی جو میرا قانونی حق تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ میں نےتو شوگرملزکو سبسڈی نہیں دی، جس سے میرے خاندان کو 2 ارب کا نقصان ہوا، اس کیس میں مجھ پر 25 ،25 لاکھ روپے کی منی لانڈرنگ کے الزام لگائے گئے، ایک طرف تو میں اربوں روپے کا اپنے خاندان کی ملوں کو نقصان پہنچاؤں؟ کیا دوسری جانب میں 25 ،25 لاکھ روپے حرام کھاؤں گا؟

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت سے واپسی کی اجازت طلب کی جس پر عدالت نے انہیں اور حمزہ شہباز کو جانے کی اجازت دےدی۔

وزیراعظم شہباز شریف کےوکیل امجد پرویز دلائل کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ استغاثہ یہ کہتا ہے کہ اکاونٹ سلمان شہباز کی ٹرانزکشن کے لیے کھولا گیا کوئی پیسے بھی آتے ہیں تو ہر طرح سےاسے دیکھا جاسکتا ہے دیکھا جاسکتا ہے کیا یہ پیسہ کیسی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہوا انہوں نے ایف آئی آر درج کی،8ارب 45 کڑور روپےبنتے ہیں یہ بے نامی اکاؤنٹ مشتاق چینی کا ہے اکاؤنٹ میں زائد رقم آئی تو مشتاق چینی کے خلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کیا،مشتاق چینی کے خلاف ابھی تک کسی سرکاری سطح پر ذکر نہیں ہوا ،وہ پبلک ہولڈر نہیں 4ارب روپے 10 سال محتلف اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کریں تو کیا ایک اکاؤنٹ میں یہ روپے رہ سکتے ہیں ؟