اٹلی کی وزیراعظم ڈیپ فیک ویڈیوز کا شکار،نازیبا ویڈیو وائرل،عدالت پہنچ گئیں

0
190
itly pm

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی بھی ڈیپ فیک ویڈیوز کا شکار ہوگئی ہیں

غیرملکی میڈیا کے مطابق اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کا چہرہ کسی دوسرے شخص کے جسم کے ساتھ لگا کر نازیبا ویڈیو بنائی گئیں اور ان غیر اخلاقی ویڈیو کو انٹرنیٹ پر اپلوڈ کر دیا گیا،تحقیقاتی کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس کام میں دو افراد ملوث ہیں

اٹلی کی 47 سالہ وزیراعظم جارجیا میلونی کی نازیبا ویڈیو سامنے آئیں جس میں انکی تصویر کا غط استعمال کیا گیا تھا تو وہ خاموش نہ رہیں اور کیس دائر کر دیا، اب دو جولائی کو اٹلی کی وزیراعظم ملزمان کے خلاف گواہی دینے کے لئے عدالت میں جائیں گی،تحقیقاتی اداروں نے اٹلی کی وزیراعظم کی نازیبا ویڈیو بنانے کے حوالہ سے 40 سالہ شخص اور اسکے 73 سالہ والد پر الزام عائد کر رکھا ہے،

عدالت میں دائر کئے گئے ہتک عزت کے مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ویڈیوز امریکا میں ایک فحش ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی تھیں اور کئی مہینوں کے دوران اسے لاکھوں بار دیکھا گیا،پولیس کے مطابق یہ ڈیپ فیک ویڈیو 2022ء کی ہے یعنی یہ ویڈیو جارجیا میلونی کے وزیر اعظم بننے سے پہلے کی ہیں،

اطالوی وزیراعظم کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ جارجیا میلونی ہرجانے کی پوری رقم مردوں کے تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کی مدد کے لیے عطیہ کریں گی،انہوں نے ایک لاکھ یورو ہرجانہ مانگا ہے، معاوضے کا مطالبہ ان خواتین کو پیغام دے گا جو اس قسم کی ناجائز طاقت کا شکار ہیں

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، آپ نہیں مگر آپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کیا ہے؟جس نے بڑے بڑے مضبوط اعصاب والے انسانوں کوبے بس کررکھا ہے

آخر یہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کیا ہے؟

ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’ٹیک ٹارگٹ ڈاٹ کام‘ کے مطابق لفظ ’ڈیپ فیک‘دو الفاظ ’ڈیپ لرننگ‘ اور ’فیک‘ کے ملاپ سے وجود میں آیا ہے۔یہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے جعلی تصاویر، آڈیوز اور ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے کئی مثبت استعمالات بھی ہیں، مثلاً خبریں پڑھنے میں اور اپنے ملازمین کو مختلف زبانوں کی تربیت دلوانے سمیت کئی معاملات میں کمپنیاں اور نشریاتی ادارے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہے ہیں۔خیال رہے کیونکہ ہر ٹیکنالوجی کی طرف اس کے منفی استعمالات بھی ہیں۔

اس کے ذریعے مشہور شخصیات کو فحش فلموں کے اداکار بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے یا پھر سیاست دانوں کی ویڈیوز بنا کر اشتعال انگیز اور گمراہ کن بیانات پھیلا دیئے جاتے ہیں ۔ایسی جعلی ویڈیوز، آڈیوز یا تصاویر بنانے کے لیے مخصوص سافٹ ویئرز استعمال ہوتے ہیں جوڈیپ لرننگ اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے لیس ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ ڈیپ فیک ویڈیو بنانے کے لیے اس سافٹ ویئر کو ٹارگٹ کے متعلق بہت سے معلومات فراہم کرنی ہوتی ہیں،۔مثلاً وہ دیکھنے میں کیسا ہے، بولتا کیسے ہے، بولتے وقت اس کی حرکات و سکنات کیسی ہوتی ہیں، وہ کس طرح کی صورتحال میں کیا ردعمل دیتا ہے، وغیرہ۔

ٹارگٹ کے متعلق تمام معلومات مہیا کرنے کے بعد یہ سافٹ ویئر آپ کی مرضی کی ویڈیو، آڈیو یا تصویر بنانے کا کام شروع کر دیتا ہے اور نتیجے کے طور پر جو مواد بنتا ہے وہ حقیقت کے قریب تر ہوتا ہے جس کے جعلی ہونے کا فوری طور پر پتا چلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ماہرین کا اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے کہنا ہے کہ ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ڈیپ فیک اور حقیقی ویڈیوز میں فرق کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ یہ ان میں موجود معمولی فرق بھی ختم ہو جائے گا۔

Leave a reply