fbpx

اجتماعی کوششوں سے زندگی اور امیدوں کو دوبارہ بحال کریں گے. وزیر اعظم

اجتماعی کوششوں سے زندگی اور امیدوں کو دوبارہ بحال کریں گے. وزیر اعظم

وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں کی جانب سے امدادی رقم کے اعلان پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری نے جنیوا کانفرنس میں بے مثال ہمدردی کا نمونہ پیش کیا ہے۔ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے لکھا کہ دنیا نے کل دیکھا کہ مصیبت زدہ انسانیت کیلئے قومیں کس طرح اکٹھی ہوتی ہیں، عالمی برادری نے کل شراکت داری کا بے مثال نمونہ پیش کیا۔


سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیراعظم نے مزید لکھا کہ جنیوا کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی اظہار ہمدردی نے بہت متاثر کیا، اجتماعی کوششوں سے زندگی اور امیدوں کو دوبارہ بحال کریں گے۔ انہوں نے بھی یہ بھی لکھا کہ بین الاقوامی ڈونر کانفرنس کی شاندار کامیابی پر سربراہان مملکت، یورپی یونین، ترقیاتی شراکت داروں کے شکر گزار ہیں، پاکستانی عوام انتونیو گوتریس کے کانفرنس میں شاندار کردار پر ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان کو جنیوا میں بین الاقوامی کانفرنس کے دوران گزشتہ برس آنے والے تباہ کن سیلاب سے بحالی کیلئے عالمی برادری اور اداروں نے بھرپور مدد کا اعلان کیا اور 10.57؍ ارب ڈالر امداد دی جائے گی جو پاکستان کی درخواست سے تقریباً ڈھائی ارب زیادہ ہے ۔ کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے عالمی شراکت داروں سے ملک میں ہونے والی تباہی کے بعد اگلے تین سال کے دوران تعمیر نو کیلئے 8؍ ارب ڈالر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا تھا کہ آدھی رقم کا انتظام خود اپنے وسائل سے کریں گے، امداد میں شفافیت پہلی ترجیح ہوگی ، تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرائیں گے۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے بھی سیلاب سے متاثرہ ملک میں بحالی کی کوششوں کے لیے بڑے پیمانے پر امداد دینے کا مطالبہ کیا اور کہا تھا کہ پاکستان کو ماحولیاتی انصاف دیا جائے۔ عالمی امداد کے اعلانات کے مطابق اسلامی ڈیولپمنٹ بینک گروپ اگلے تین برسوں میں 4.2؍ ارب ڈالر دے گا۔ عالمی بینک نے سیلاب متاثرین کیلئے 2؍ ارب ڈالر امداد کا اعلان کیا ۔ سعودی عرب ایک ارب ڈالر دے گا، یورپی یونین نے 500ملین ڈالر ، چین نے 100ملین ڈالر ، یو ایس ایڈنے 100ملین ڈالر ، جرمنی نے 88ملین ڈالر ، جاپان نے 77ملین ڈالر ، فرانس نے 345ملین ڈالر ، برطانیہ 9ملین ڈالر دینے اعلان کیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایک ارب 50؍ کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا جبکہ ایشین انفرااسٹرکچر انویسمنٹ بینک نے ایک ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا۔

جنگ اخبار کے مطابق کانفرنس میں پاکستان کے ریزیلینٹ ریکوری ، بحالی اور تعمیر نو فریم ورک (4 آر ایف) کو تفصیلی طور پر پیش کیا گیا جو کہ موسمیاتی عزم اور جامعیت پر مبنی بحالی اور تعمیر نو کی کثیر الجہتی حکمت عملی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جنیوا کانفرنس میں عالمی برادری نے پاکستان کیلئے بھرپور مدد کا اعلان کردیا ، پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے10.57ارب ڈالر سے زائد امداد کے اعلانات کیے گئے ہیں ،اسلامی ترقیاتی بینک نے سیلاب سے متاثرہ پاکستانی علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے لیے 4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی بینک نے 2 ارب،ایشیائی بنک نے ڈیڑھ ارب،چین امریکا 100, 100، یورپی یونین 500، جرمنی 88، جاپان 77، فرانس 345ملین ڈالرز دے گا۔ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی پاکستان کے لیے ایک کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔جرمنی پاکستان کو مزید 88ملین یورو فراہم کرے گا، چین کی طرف سے بھی سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے مزید 10 کروڑ ڈالر گرانٹ دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جاپان بھی مزید 77 ملین ڈالرامداد دے گا، یورپی یونین کی جانب سے بھی 93 ملین ڈالر کا اعلان ہوا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق
کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت
سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

ان کے علاوہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر امداد کا وعدہ کیا ہے، برطانیہ نے 90 لاکھ یورو اور ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک نے بھی ایک ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے عالمی شراکت داروں سے ملک میں ہونے والی تباہی کے بعد اگلے تین سال کے دوران تعمیر نو کے لیے 8 ارب ڈالر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی سیلاب سے متاثرہ ملک میں بحالی کی کوششوں کے لیے بڑے پیمانے پر امداد دینے کا مطالبہ کیا۔

کانفرنس کے شرکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر کروڑوں ڈالر دینے کا وعدہ کیا اور یہاں تک اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی اعلانات کیے گئے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری دستاویز میں بتایا گیا کہ وفود نے فوری طور پر امدادی کوششوں اور بحالی، تعمیرنو کے لیے پاکستان کے عوم کے ساتھ تعاون کا اعادہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ وفود نے اظہار یک جہتی کیا اور بحالی منصوبے میں بتائے گئے ترجیحی علاقوں اور مقاصد کا اعتراف کرتے ہوئے مالی امداد کا اعلان کیا۔ مزید بتایا گیا کہ ’وعدوں کے مطابق مجموعی رقم 9 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جس میں دو طرفہ اور کثیرالجہتی شراکت داروں دونوں شامل ہیں، مزید وفود نے مختلف پہلووں سے امداد کا اعلان کیا‘۔