شاعر اور نثر نگار نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

0
46

نریش کمار شاد کی شخصیت کی مختلف جہتیں تھیں وہ اچھے شاعر بھی تھے ، نثر نگار بھی انہوں نےترجمے بھی کئے اور کئی رسالوں کی ادارت بھی کی ۔ نریش جتنے پرگو شاعر تھے اتنے ہی بڑے بلا نوش بھی ، ان کیلئے شاعری اور شراب دونوں زندگی کی بدصورتیوں کو انگیز کرنے کا ایک ذریعہ تھیں ۔ نریش کی شراب یاد رکھی گئی اور ان کی شاعری بھلا دی گئی ۔ حالانکہ نریش کی غزلیں، نظمیں اور کئی نئی مغربی اصناف میں ان کے تخلیقی تجربے ان کی شاعرانہ اہمیت کو روشن کرتے ہیں ۔

شاد کی پیدائش ۱۱ دسمبر ۱۹۲۷ کو ہوشیار پور پنجاب میں ہوئی ۔ ان کے والد درد نکودری بھی شاعر تھے اور حضرت جوش ملسیانی کے خاص شاگردوں میں سے تھے ۔ گھر کے شعری ماحول نے شاد کو بھی شاعری کی طرف مائل کردیا اور وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی شعر کہنے لگے ۔ شاد کی تعلیم لاہور میں ہوئی انہوں نے گورمینٹ ہائی اسکول چونیاں ضلع لاہور سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحام پاس کیا ۔ اس کے بعد بہ سلسلۂ ملازمت راولپنڈی اور جالندھر میں مقیم رہے لیکن جلد ہی سرکاری ملازمت ترک کرکے لاہور آگئے اور وہاں ماہنامہ’ شالیمار ‘ کی ادارت کے فرائض انجام دینے لگے ۔

تقسیم کے بعد شاد کچھ مدت کانپور میں رہے اور یہاں حفیظ ہوشیارپوری کے ساتھ مل کر ’چندن‘ کے نام سے ایک رسالہ نکالا ۔ اس رسالے کے بند ہو جانے کے بعد دلی اگئے اور بلدیو متر بجلی کے ماہنامہ ’ راہی ‘ سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک رسالہ ’ نقوش ‘ کے نام سے بھی نکالا ۔ آخر ہاؤسنگ اینڈ رینٹ آفس میں ملازمت اختیار کی ۔

شعری مجموعے : بتکدہ ، فریاد ، دستک ، للکار ، آہٹیں ، قاشیں ، آیات جنوں ، پھوار ، سنگم ، میرا منتخب کلام ، میراکلام نو بہ نو ، وجدان ،
نثری کتابیں: سرخ حاشیے ، راکھ تلے ، سرقہ اور توارد ، ڈارلنگ ، جان پہچان ، مطالعے ، غالب اور اس کی شاعری ، پانچ مقبول شاعر اور ان کی شاعری ، پانچ مقبول طنز ومزاح نگار ۔ ادب اطفال : شام نگر میں سنیما آیا، چینی بلبل اور سمندری شہزادی ۔

۲۰ مئی ۱۹۶۹ کو شاد جمنا کے کنارے پر مرے ہوئے پائے گئے۔

اشعار
۔۔۔۔۔۔
اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر
تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

خدا سے کیا محبت کر سکے گا
جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو
ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو

زندگی سے تو خیر شکوہ تھا
مدتوں موت نے بھی ترسایا

گناہوں سے ہمیں رغبت نہ تھی مگر یا رب
تری نگاہ کرم کو بھی منہ دکھانا تھا

زندگی نام ہے جدائی کا
آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا

محسوس بھی ہو جائے تو ہوتا نہیں بیاں
نازک سا ہے جو فرق گناہ و ثواب میں

محفل ان کی ساقی ان کا
آنکھیں اپنی باقی ان کا

خدا سے لوگ بھی خائف کبھی تھے
مگر لوگوں سے اب خائف خدا ہے

عقل سے صرف ذہن روشن تھا
عشق نے دل میں روشنی کی ہے

کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانا تھا
ہمارے دل کو بہرحال ٹوٹ جانا تھا

یہ سوچ کر بھی ہنس نہ سکے ہم شکستہ دل
یاران غم گسار کا دل ٹوٹ جائے گا

طوفان غم کی تند ہواؤں کے باوجود
اک شمع آرزو ہے جو اب تک بجھی نہیں

تو مرے غم میں نہ ہنستی ہوئی آنکھوں کو رلا
میں تو مر مر کے بھی جی سکتا ہوں میرا کیا ہے

Leave a reply