ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ، 12 افراد ہلاک، 300 سے زائد زخمی

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گزشتہ روز ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوگئے۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حوثی حملے سے ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سعودی عرب کے 4، بنگلا دیش کے 2 جبکہ امریکا، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔
حکام کے مطابق حملے کے بعد زخمیوں کو ایمبولینسوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر 2026 کو ہونے والا حملہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملہ تھا۔ حملے سے قبل سعودی عرب کے خطرے سے خبردار کرنے والے نظام کی جانب سے کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔
واضح رہے رواں ہفتے ہوائی اڈے پر ہونے والے پہلے دو حملوں میں بھی 4 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ رن وے پر کھڑے سعودی کمرشل طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حوثی حملے کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
سعودی عرب اور یمن کی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں سینکڑوں حملے کیے گئے ہیں۔ حوثیوں کے مطابق ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت شہری بھی ہلاک ہوئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔
حوثیوں کے میڈیا دفتر کے سربراہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ گروپ نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بند کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا امریکا سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف کیے جانے والے حملوں میں شامل ہوگا؟اس پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایسا کرسکتا ہے، تاہم اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکا کو تازہ حملے کے بارے میں ابھی معلوم ہوا ہے اور فیصلہ کیا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معصوم شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا واضح مظاہرہ ہے۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق گزشتہ روز ریاض آنے والی تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا اور ہوائی اڈے پر آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا گیا۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ریاض آنے والی پروازیں یا تو منسوخ کردی گئیں یا ان کا رخ تبدیل کردیا گیا,رواں ہفتے حوثیوں کے حملوں کے بعد بھی متعدد فضائی کمپنیوں بشمول پی آئی اے نے سعودی دارالحکومت کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کردی تھیں۔
حوثیوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی جانب سے پیر کو کارروائی شروع کیے جانے کے بعد سعودی فضائی حدود کو فوجی آپریشنز کا علاقہ قرار دیتے ہوئے فضائی کمپنیوں کو وہاں سے گزرنے سے گریز کرنے کا کہا تھا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شہریوں اور تنصیبات کونشانہ بنانا ناقابل قبول اور علاقائی استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہے،پرتشدد کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں جن کی فوری روک تھام ہونی چاہیے۔
ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے بھی ریاض میں شاہ خالد ائیرپورٹ پر حملے کی شدید مذمت کی گئی، دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ریاض میں حوثی ملیشیا کے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتاہے، ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا دہشت گردی کی ایک گھناؤنی کارروائی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ائیر پورٹ پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور علاقائی امن وسلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے، حوثی ملیشیا کا شہری آبادی اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اوراستحکام کےعزم کااعادہ کرتا ہے۔
جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کےتحفظ کے لیے پرعزم ہے،سعودی عرب کی سرزمین اور اہم تنصیبات کے دفاع کے جائز حق کی حمایت کرتے ہیں۔





