روسی تیل تنصیبات پر حملے، امریکا کی یوکرین کو دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے روس کی تیل ریفائنریوں اور توانائی تنصیبات پر یوکرین کے حملے رکوانے کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی معطل کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی حکام نے ہفتے اور اتوار کو امریکی حکام کی جانب سے موصول ہونے والی فون کالز اور بریفنگز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ واشنگٹن روسی تیل تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے کوششیں کررہا ہے,یورپی حکام کے مطابق امریکا اس مقصد کے لیے یوکرین اور یورپی ممالک پر مسلسل سفارتی دباؤ ڈال رہا ہے۔
حکام کے مطابق امریکی پیغام میں یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور ہتھیاروں کی فراہمی کے نظام کو منقطع کرنے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد یوکرین کو روس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے روکنا بتایا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر اچانک اعلان کیا کہ یوکرین اور روس ایک دوسرے کے توانائی کے بنیاد ی ڈھانچے پر حملے روکنےپر متفق ہوگئے ہی تاہم اس معاہدے کی تفصیلات اور اس پر عمل درآمد کی صورت حال کے بارے میں مزید معلو مات سامنے نہیں آئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ روس سے ڈیزل کی فراہمی کے معاملے پر بھی بات چیت کررہی ہے گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس امریکا اور عالمی منڈی کو تین لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا۔
امریکی صدر کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ان کی گفتگو انتہائی کامیاب رہی روس نومبر میں پانچ لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا، جبکہ اس کے بعد مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل کی فراہمی بھی متوقع ہے۔
روسی توانائی تنصیبات پر حملوں اور ڈیزل کی فراہمی سے متعلق یہ پیش رفت امریکا، روس اور یوکرین کے درمیان توانائی، سلامتی اور جنگی حکمت عملی کے معاملات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
مزید پڑھیں





