پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاکستان کا فخر، برطانیہ کا اعزاز: ڈاکٹر آصف حسن کی بائیو گرافی،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

کراچی کے ڈاؤ میڈیکل کالج کے ایک عام سے طالب علم سے لے کر برطانیہ کے سب سے معتبر قومی اعزاز "پرائیڈ آف برٹش" کے اسٹیج تک کا سفر کسی معجزے سے کم نہیں۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے مسیحا کی جنہوں نے دھڑکنا بھول جانے والے معصوم دلوں کو زندگی کی تال لوٹائی، اور جب دنیا نے انہیں ان کی کٹھن خدمات پر "لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ" سے نوازا، تو وہ اعزاز صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی اور عزمِ صمیم کا استعارہ بن گیا۔


ڈاکٹر آصف حسن کی زندگی کا یہ سفر کراچی کی روشن گلیوں سے شروع ہو کر نیوکاسل کے آپریشن تھیٹرز تک پھیلا ہوا ہے۔ بچپن سے ہی طب کے شعبے سے گہری وابستگی اور انسانی دکھ درد کو کم کرنے کی تڑپ نے انہیں کراچی کے تاریخی ڈاؤ میڈیکل کالج کا رخ کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے 1979ء میں وہیں سے ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کی۔ دورانِ تعلیم ہی ان کے اساتذہ اور ساتھی یہ بھانپ چکے تھے کہ یہ طالب علم آگے چل کر طب کی دنیا میں کوئی بڑا نام پیدا کرے گا۔ طبی تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ اعلیٰ تربیت کے لیے برطانیہ منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنی انتھک محنت، شب و روز کی رفاقت اور کٹھن امتحانوں کے بعد سرجری کے میدان میں قدم رکھا۔


برطانیہ کی سرزمین پر پہنچ کر انہوں نے سب سے پہلے رائل کالج آف سرجنز آف ایڈنبرا سے فیلوشپ حاصل کی اور پھر 1991ء میں نیوکاسل کے مشہور فری مین ہسپتال سے وابستہ ہو گئے۔ یہی وہ ہسپتال تھا جو اگلے پینتیس سال تک ان کی خدمت کا محور اور ان کے ہاتھوں شفا پانے والے بچوں کی امیدوں کا مرکز بنا۔ یہاں انہوں نے بچوں کے دل کی سرجری کے انتہائی نازک اور پیچیدہ شعبے کو اپنایا۔ طب کی اس شاخ کو سب سے خطرناک مانا جاتا ہے کیونکہ اس میں مریض کوئی بالغ انسان نہیں بلکہ چند ماہ یا چند سال کے وہ معصوم فرشتے ہوتے ہیں جن کی اپنی کوئی زبان نہیں ہوتی، سوائے ان کی کمزور ہوتی ہوئی سانسوں اور تھمتے ہوئے دل کی دھڑکنوں کے۔


اپنے ساڑھے تین دہائیوں پر محیط طویل کیریئر کے دوران ڈاکٹر آصف حسن نے بچوں کے دل کی چار ہزار سے زائد اوپن ہارٹ سرجریاں کیں اور تقریباً چار سو کامیاب ہارٹ ٹرانسپلانٹ انجام دیے۔ وہ ان چند عالمی ماہرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نومولود بچوں میں دل کی پیوند کاری کی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے برلن ہارٹ نامی مکینیکل پمپ کے استعمال اور بچوں کی سرجری کے بعد سینے کی ہڈی کو محفوظ طریقے سے جوڑنے کے لیے بوٹ لیس کلوزر جیسی جدید تکنیکوں کی نہ صرف رہنمائی کی بلکہ انہیں کلینیکل پریکٹس کا حصہ بنایا۔ آپریشن تھیٹر کے اندر ان کے ہاتھ کتنے ہی پُرسکون اور ماہر کیوں نہ ہوں، لیکن اس کے باہر کھڑے والدین کی بے چینی ان سے پوشیدہ نہیں ہوتی تھی۔ وہ گھنٹوں اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر رگوں اور دل کے والوز کی پیوند کاری کرتے، اور جب آپریشن کامیاب ہو جاتا تو ان کا سکون دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔


اس تمام تر شہرت اور بلندی کے باوجود ڈاکٹر آصف حسن کی شخصیت میں عاجزی اور انکساری کا جو عنصر پایا جاتا ہے، وہی انہیں ایک عام سرجن سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک اچھے سرجن کا اصل کمال یہ نہیں کہ اس کے بغیر ہسپتال کا نظام رک جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے ایسے قابل ترین لوگ چھوڑ جائے جو اس کے بغیر بھی اسی معیار کے ساتھ کام جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے اپنے انٹرویوز میں بارہا اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد خود کو غیر ضروری بنا دینا تھا، یعنی ایسے جونیئر سرجنز کی تربیت کرنا جو ان سے بھی زیادہ ماہر اور قابل ہوں۔


اس طویل اور تھکا دینے والے سفر کا سب سے حسین اور جذباتی موڑ وہ تھا جب برطانوی میڈیا اور عوام نے انہیں "پرائیڈ آف برٹش" کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا۔ تقریب کی زرق برق روشنیوں میں جب وہ اسٹیج پر آئے تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ لیکن اس تقریب کا سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب ان کے ہاتھوں زندگی پانے والے انیس سابقہ مریض نوجوان اور بچے اچانک پردے ہٹا کر اسٹیج پر آ کھڑے ہوئے۔ یہ وہ نوجوان تھے جو ماضی میں دل کی سنگین بیماریوں کا شکار تھے، اور جن کے بچنے کی امید ڈاکٹروں نے چھوڑ دی تھی، لیکن ڈاکٹر آصف کی انگلیوں کے لمس نے انہیں نیا جیون دیا تھا۔


جب ان نوجوانوں نے مائیک سنبھال کر ڈاکٹر آصف حسن کو خراجِ تحسین پیش کیا، تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹیں اور لبوں پر تشکر کے کلمات تھے کہ آج وہ جو کچھ بھی ہیں، اسی مسیحا کی بدولت ہیں۔ اس جذباتی ماحول میں جب ڈاکٹر آصف حسن نے مائیک پر بولنے کے لیے قدم بڑھایا، تو ان کی عاجزی نے ایک بار پھر سب کو دنگ کر دیا۔ انہوں نے ان تمام تعریفوں کا جواب انتہائی سادگی سے دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو کوئی ہیرو نہیں بلکہ ایک عام "بس ڈرائیور" سمجھتے ہیں، جن کا کام مسافروں کو خطرناک راستے سے نکال کر منزل تک بحفاظت پہنچانا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل ہیرو تو یہ بچے خود ہیں جنہوں نے اس موذی مرض کے خلاف جنگ میں اتنی بہادری کا مظاہرہ کیا۔


رواں برس ستر سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ڈاکٹر آصف حسن کا یہ عزم ماند نہیں پڑا۔ وہ اب اپنی زندگی کا بقیہ حصہ فلاحی کاموں کے لیے وقف کر چکے ہیں۔ وہ پاکستان اور کینیا سمیت دنیا کے ان ترقی پذیر خطوں کا رخ کر رہے ہیں جہاں بچوں کے دل کے ماہر سرجنز کی شدید کمی ہے۔ ان کا مقصد وہاں کے مقامی ڈاکٹروں اور نوجوان سرجنز کو جدید جراحی کی مفت تربیت فراہم کرنا ہے تاکہ غریب ممالک کا کوئی بھی معصوم بچہ وسائل کی کمی کی وجہ سے موت کے منہ میں نہ جا سکے۔


ڈاکٹر آصف حسن کی یہ پوری داستان اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انسان اپنے پیشے سے خلوص، محنت اور سچی لگن رکھے، تو وہ سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر پوری انسانیت کا ہیرو بن جاتا ہے۔ کراچی کے ایک عام میڈیکل کالج سے نکل کر نیوکاسل کے آسمان پر چمکنے والا یہ ستارہ آج بھی دنیا بھر کے طبی طلباء اور نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ اصلی کامیابی کسی تمغے یا اعزاز میں نہیں، بلکہ کسی انسان کی ڈوبتی ہوئی سانسوں کو بحال کرنے اور چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے میں پوشیدہ ہے۔