پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

‎کرپشن ہمارے خون میں ہے یا ہمارے نظام میں، تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

‎ اردو زبان و ادب کے معروف دانش ور، ادیب اور مزاح نگار کا یہ طنزیہ بیان کہ" مغرب میں لوگوں کو وراثت میں بالوں اور آنکھوں کے رنگ ملتے ہیں، جب کہ ہمارے ہاں بے ایمانیاں، شوگر، بلڈ پریشر، گنجاپن اور سودی قرضے ورثے میں ملتے ہیں." بظاہر ایک لطیفہ ہے، مگر اس میں ہمارے معاشرتی رویّوں کی ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ یہ جملہ ہنساتا ضرور ہے، لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والی خاموشی ہمیں اپنے اجتماعی کردار پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

‎

‎مجھے زیادہ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب بعض لوگ اس طنز کی تائید میں اپنی بے بسی کا اعتراف بھی کرنے لگتے ہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ انسان فرشتہ نہیں، ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خامی ہوتی ہے، اور جسے بدعنوانی کا موقع نہیں ملا، وہی خود کو شریف سمجھتا ہے۔ گویا دیانت داری کوئی اخلاقی قدر نہیں بلکہ موقع نہ ملنے کی مجبوری ہے۔

‎

‎یہی وہ مقام ہے جہاں ایک معاشرہ اپنے اخلاقی زوال کو معمول کا حصہ بنا لیتا ہے۔ جب غلط کام کرنے والا خود کو مجرم سمجھنے کے بجائے حالات کا شکار قرار دے، اور دیانت دار شخص کو سادہ لوح یا بے وقوف سمجھا جانے لگے، تو خرابی صرف چند افراد کے کردار میں نہیں رہتی؛ وہ اجتماعی سوچ میں سرایت کرنے لگتی ہے۔

‎

‎

‎ایک سرکاری محکمے کے ملازم سے میرے ایک دوست نے پوچھا کہ آخر بدعنوانی ختم کیوں نہیں ہوتی؟ اس کا جواب تھا: ’’یہ اب ہمارے خون میں شامل ہو گئی ہے۔‘‘

‎

‎یہ ایک مایوس شخص کا جملہ تھا، مگر اس میں ایک اہم سماجی حقیقت موجود تھی۔ یقیناً بدعنوانی کسی کے خون یا جینز میں براہِ راست منتقل نہیں ہوتی، لیکن جب ایک بچہ اپنے بڑوں کو ناجائز فائدہ اٹھاتے، قانون سے بچنے کے راستے تلاش کرتے اور رشوت کو معمول سمجھتے دیکھتا ہے، تو وہ انہی رویّوں کو زندگی گزارنے کا قابلِ قبول طریقہ سمجھ سکتا ہے۔

‎

‎یوں ایک نسل کی بدعملی دوسری نسل کی تربیت بن جاتی ہے۔ پھر وہی تربیت عادت، عادت معاشرتی روایت اور روایت ایک ایسے نظام کو جنم دیتی ہے جس میں دیانت داری استثنا اور بدعنوانی معمول دکھائی دینے لگتی ہے۔

‎

‎تدریس اور حیاتیاتی علوم کے مطالعے کے دوران میرا مشاہدہ ہے کہ بار بار دہرائے جانے والے سماجی رویّے عادت اور تربیت کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہو سکتے ہیں، اگرچہ وہ جینیاتی وراثت نہیں بنتے۔

‎

‎

‎اس سماجی مسئلے کا ایک اور پہلو انسانی صحت سے تعلق رکھتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں فرد کو ہر قدم پر سفارش، رشوت، ناانصافی اور معاشی عدم تحفظ کا سامنا ہو تو اس کی زندگی مسلسل ذہنی دباؤ کی زد میں رہ سکتی ہے۔ روزگار کی فکر، بچوں کی تعلیم، علاج کے اخراجات، بجلی اور گیس کے بل، بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت انسان کی نفسیاتی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔

‎

‎طویل مدتی ذہنی دباؤ نیند، مزاج اور جسمانی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اور بعض بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ تاہم ذیابیطس اور بلند فشارِ خون جیسی بیماریوں کو صرف کرپشن یا ذہنی دباؤ کا نتیجہ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں؛ ان کے اسباب میں موروثی رجحانات، طرزِ زندگی، عمر اور دیگر طبی عوامل بھی شامل ہیں۔

‎

‎اس کے باوجود یہ سوال اہم ہے کہ اگر کسی معاشرے کے شہری اپنی زندگی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد میں گزار دیں تو ان کے پاس تخلیقی سوچ، تحقیق، مطالعے اور نئی ایجادات کے لیے کتنی ذہنی توانائی باقی رہ جاتی ہے؟

‎

‎

‎یہاں سے بحث انفرادی بدعنوانی سے نکل کر ریاستی ذمہ داری اور معاشی انصاف تک پہنچ جاتی ہے۔

‎پاکستان جیسے ملک میں عوام کو بار بار مشکل معاشی فیصلوں، مہنگائی، محصولات میں اضافے اور اخراجات میں کمی کی ضرورت سمجھائی جاتی ہے۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ حالات کی بہتری کے لیے قربانی دینا ہوگی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قربانی کا بوجھ کس پر زیادہ پڑتا ہے؟ کیا اس کا منصفانہ حصہ ان طبقات پر بھی عائد ہوتا ہے جو دولت، اختیار اور وسائل تک زیادہ رسائی رکھتے ہیں؟

‎

‎جب عام شہری اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک، رہائش، تعلیم، علاج اور توانائی پر خرچ کرنے پر مجبور ہو، تو اس کے لیے زندگی محض دال روٹی کا حساب بن جاتی ہے۔ دوسری طرف اگر کسی بااثر طبقے کے پاس غیر معمولی دولت، بیرونِ ملک اثاثے اور مالی تحفظ کے ایسے ذرائع موجود ہوں جن تک عام شہری کی رسائی نہیں، تو معاشرے میں محرومی اور ناانصافی کا احساس بڑھنا فطری ہے۔

‎

‎بیرونِ ملک اثاثے رکھنا بذاتِ خود غیر قانونی یا بدعنوانی کا ثبوت نہیں۔ بہت سے افراد جائز ذرائع سے بھی بیرونِ ملک سرمایہ رکھتے ہیں۔ اصل سوال دولت کے ذرائع، اس کی قانونی حیثیت، ٹیکس کی ادائیگی، اثاثوں کے درست اعلانات اور عوامی عہدے سے وابستہ جواب دہی کا ہے۔ اگر کسی عہدے دار نے عوامی اختیار کا ناجائز استعمال کرکے دولت جمع کی ہو تو اس کی شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق احتساب ضروری ہے۔

‎

‎اسی طرح جب ریاست قرض لیتی ہے تو اس کے استعمال، شرائط اور نتائج کی ذمہ داری بھی اہم ہو جاتی ہے۔ قرض اگر تعلیم، صحت، پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ ہو تو وہ ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے؛ لیکن اگر عوامی وسائل ضائع ہوں، مالی بدانتظامی ہو یا اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جائے تو قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بالآخر عام شہریوں تک پہنچ سکتا ہے۔

‎

‎یہی وہ تضاد ہے جس پر سنجیدہ سوال اٹھنا چاہیے: کیا مشکل فیصلے صرف عوام کے لیے ہیں، یا اقتدار اور دولت رکھنے والوں کو بھی اپنے حصے کی جواب دہی قبول کرنا ہوگی؟

‎

‎

‎کوئی معاشرہ صرف اس لیے ترقی نہیں کرتا کہ اس کے پاس قدرتی وسائل یا نوجوان آبادی موجود ہے۔ ترقی کے لیے ایسے حالات بھی درکار ہوتے ہیں جن میں انسان سوچ سکے، سوال اٹھا سکے، تجربہ کر سکے اور ناکامی کے خوف کے بغیر کچھ نیا تخلیق کر سکے۔

‎

‎جب نوجوان کی تمام تر توجہ روزگار کی تلاش، معاشی مشکلات اور بنیادی ضروریات پوری کرنے پر مرکوز ہو، جب تحقیق کے لیے وسائل کم ہوں، جب میرٹ کے مقابلے میں سفارش کو اہمیت ملنے کا تاثر پیدا ہو اور جب محنت کا صلہ غیر یقینی ہو، تو تخلیقی صلاحیتوں کو پنپنے کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔

‎

‎یہ کہنا درست نہیں کہ مشکلات میں گھرا ہوا انسان تخلیقی نہیں ہو سکتا؛ تاریخ میں بے شمار تخلیق کاروں نے نامساعد حالات میں بھی غیر معمولی کام کیا ہے۔ لیکن یہ ضرور حقیقت ہے کہ ایک منصفانہ، محفوظ اور مواقع فراہم کرنے والا معاشرہ زیادہ لوگوں کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کا موقع دیتا ہے۔

‎

‎ہماری اصل آزمائش یہ نہیں کہ ہم اپنے معاشرے کی خرابیوں کو کتنی خوب صورتی سے بیان کر سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم انہیں بدلنے کے لیے کیا کرتے ہیں۔ اگر ہم ہر بدعنوانی کو انسانی کمزوری، ہر ناانصافی کو حالات کی مجبوری اور ہر غلط عمل کو معاشرتی روایت کہہ کر قبول کرلیں تو اصلاح کا دروازہ خود اپنے ہاتھوں بند کر دیں گے۔

‎

‎ممکن ہے ہمارے بچوں کو ہمارے بالوں کا رنگ، بعض جسمانی خصوصیات اور کچھ موروثی رجحانات ملیں؛ لیکن انہیں جھوٹ بولنا، حق مارنا، رشوت دینا یا قانون سے بالاتر ہونے کا تصور سکھانا ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح انہیں دیانت داری، محنت، انصاف اور دوسروں کے حقوق کا احترام سکھانا بھی ہمارے اختیار میں ہے۔

‎

‎کرپشن اگر واقعی ہمارے معاشرے کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے تو اس کا علاج مایوسی یا اسے تقدیر سمجھ کر قبول کرلینا نہیں، بلکہ قانون کی بالادستی، شفاف احتساب، بہتر تربیت اور اپنے روزمرہ کے کردار سے آغاز کرنا ہے۔

‎

‎معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اس میں بدعنوان لوگ موجود ہیں؛ اصل المیہ اس وقت جنم لیتا ہے جب دیانت دار رہنے کے لیے دلیلیں دینا پڑیں اور بدعنوانی کے لیے صرف ایک جملہ کافی ہو: ’’موقع ملتا تو آپ بھی یہی کرتے۔‘‘

‎

‎شاید ہمیں اپنی اگلی نسل کے لیے دولت اور جائیداد سے بڑھ کر ایک ایسا معاشرہ چھوڑنے کی فکر کرنی چاہیے جہاں دیانت داری کمزوری نہ سمجھی جائے، قانون طاقت ور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہو، اور عام شہری کو اپنی تمام توانائی محض زندہ رہنے کے بجائے زندگی کو بہتر بنانے میں صرف کرنے کا موقع مل سکے۔

‎