خودمختار عورت اور معاشرے کے بدلتے رویّے،تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
معاشرہ عورت کو ہمیشہ سے مختلف کرداروں میں دیکھتا آیا ہے۔ کبھی اسے گھر کی عزت کہا گیا، کبھی خاندان کی غیرت اور کبھی قربانی کی علامت۔ اس کے گرد رشتوں، ذمہ داریوں اور توقعات کا ایسا حصار قائم کیا گیا کہ وہ اکثر اپنی ذات کو پہچاننے سے پہلے دوسروں کی ضرورتوں کو سمجھنے لگی۔ اس نے بیٹی، بہن، بیوی اور ماں بن کر اپنے حصے کی ذمہ داریاں نبھائیں، اپنے خوابوں کی ترتیب بدلی اور دوسروں کی خوشیوں میں اپنی خوشی تلاش کی۔ مگر جب اسی عورت نے اپنی زندگی کے فیصلوں میں اپنی رائے کو اہمیت دینا چاہی، اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کی یا اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کی تو معاشرے کے رویّوں میں ایک عجیب سی تبدیلی محسوس ہونے لگی۔
سوال یہ ہے کہ کیا عورت کی خودمختاری واقعی ایک مسئلہ ہے، یا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایسی عورت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو اپنی زندگی میں اپنی رائے بھی رکھتی ہو؟
خودمختاری کا مطلب محض ملازمت کرنا یا مالی طور پر مستحکم ہونا نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا، اپنے حقوق سے آگاہ ہونا اور اپنی زندگی کے فیصلوں میں شریک ہونا بھی ہے۔ عورت کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی بات کہہ سکے، اختلاف کر سکے اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کر سکے، بغیر اس خوف کے کہ اس کے اعتماد کو غرور، صاف گوئی کو بدتمیزی اور اختلاف کو نافرمانی سمجھ لیا جائے گا۔
ہمارے معاشرے میں ایک دلچسپ تضاد موجود ہے۔ ہم اپنی بیٹی کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں، اس کی کامیابیوں پر فخر بھی کرتے ہیں، لیکن جب وہی بیٹی اپنی رائے پیش کرتی ہے یا اپنی زندگی کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی حدود یاد دلائی جانے لگتی ہیں۔ ہم عورت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، مگر اتنا ہی مضبوط جتنا ہماری سہولت کے مطابق ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ گھر سنبھالے، معاشی مسائل میں ہاتھ بٹائے، بچوں کی تربیت کرے اور مشکل وقت میں خاندان کا سہارا بنے، لیکن جب وہ اپنی تھکن کا ذکر کرے یا اپنی ذمہ داریوں میں تعاون مانگے تو اس کی قربانیوں کو فرض قرار دے کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
شاید مسئلہ عورت کی کمزوری نہیں، بلکہ اس کی مضبوطی سے وابستہ ہماری توقعات ہیں۔ ہم اس کی برداشت کو خوبی سمجھتے ہیں، مگر بھول جاتے ہیں کہ برداشت کرنے والا انسان بھی تھک سکتا ہے۔ ہم اس کی خاموشی کو رضامندی سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ بعض اوقات خاموشی اس خوف کا نام ہوتی ہے کہ بولنے کے بعد اسے سمجھنے کے بجائے اسی کو قصوروار ٹھہرا دیا جائے گا۔
وقت بدلا ہے۔ عورت نے تعلیم حاصل کی، پیشہ ورانہ میدانوں میں اپنی جگہ بنائی، کاروبار شروع کیے اور اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا۔ آج بہت سی عورتیں گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ معاشی ذمہ داریاں بھی نبھا رہی ہیں۔ وہ اپنے والدین کا سہارا ہیں، بچوں کی کفالت کرتی ہیں اور خاندان کی مشکلات میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ اس کے باوجود ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا عورت کی ترقی کے ساتھ معاشرے کی سوچ بھی بدلی ہے؟
بظاہر ہم جدید ہو گئے ہیں۔ ہماری گفتگو میں برابری کے الفاظ شامل ہو گئے ہیں، مگر گھر کے اندر فیصلوں اور اختیار کی تقسیم کے معاملے میں اکثر پرانی سوچ نئے الفاظ کا لباس پہن لیتی ہے۔ عورت کو آزادی تو دی جاتی ہے، لیکن اس کے استعمال کی حدود دوسروں کی مرضی سے طے کی جاتی ہیں۔ اسے کامیاب ہونے کی اجازت تو ملتی ہے، مگر اس کامیابی کی قیمت اکثر اسے ذہنی دباؤ، ذاتی خواہشات کی قربانی اور احساسِ جرم کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
ایک ملازمت پیشہ عورت دفتر میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتی ہے اور اپنی قابلیت ثابت کرتی ہے، مگر گھر واپس آ کر بھی اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تمام گھریلو معاملات تنہا سنبھالے۔ اگر وہ تھک جائے تو اسے اپنی ترجیحات درست کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، لیکن اس کی تھکن بانٹنے کے لیے کتنے لوگ آگے آتے ہیں؟ مسئلہ یہ نہیں کہ عورت گھر سنبھالے یا ملازمت کرے، بلکہ مسئلہ اس سوچ کا ہے جو اس کی ہر کامیابی کے ساتھ نئی ذمہ داریاں تو جوڑ دیتی ہے، مگر ان ذمہ داریوں کو تقسیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔
اسی طرح جب عورت اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتی ہے تو اسے ضدی یا بدزبان کہا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ خاموش رہ کر سب کچھ برداشت کرے تو اس کی خاموشی کو اچھی تربیت اور اعلیٰ ظرفی کی مثال بنا دیا جاتا ہے۔ گویا عورت کے لیے قابلِ قبول ہونے کا پیمانہ آج بھی یہی ہے کہ وہ اپنی ذات کو اتنا نمایاں نہ کرے کہ کسی دوسرے کے اختیار پر سوال اٹھنے لگے۔
تاہم خودمختاری کا مطلب ذمہ داریوں سے فرار یا دوسروں کے حقوق کو نظرانداز کرنا بھی نہیں۔ اس کے ساتھ شعور، اخلاق اور دوسروں کے احترام کا ہونا ضروری ہے۔ ایک صحت مند معاشرے میں عورت کی خودمختاری مرد کی شکست نہیں، بلکہ باہمی احترام پر قائم تعلقات کی بنیاد ہے۔ مرد کی قدر عورت کو کمتر ثابت کرنے سے نہیں بڑھتی، اور عورت کی ترقی مرد کی اہمیت کو کم نہیں کرتی۔ دونوں ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں، بشرطیکہ تعلقات کی بنیاد اختیار کے بجائے اعتماد اور احترام پر رکھی جائے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر عورت کی خودمختاری کا راستہ مختلف ہو سکتا ہے۔ کسی کے لیے تعلیم حاصل کرنا بڑی کامیابی ہے، کسی کے لیے معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہونا اور کسی کے لیے ایسے ماحول میں اپنی رائے کا اظہار کرنا جہاں اسے ہمیشہ خاموش رہنے کی عادت ڈالی گئی ہو۔ گھر سنبھالنے والی عورت بھی اتنی ہی عزت کی حق دار ہے جتنی ملازمت کرنے والی عورت۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ عورت کو اپنی صلاحیتوں، حالات اور ذمہ داریوں کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو، اور اس کے انتخاب کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔
معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ کتنی عورتیں ملازمت کر رہی ہیں یا اعلیٰ عہدوں پر پہنچ چکی ہیں۔ ترقی کا اصل پیمانہ یہ بھی ہے کہ گھر میں عورت کی بات کتنی توجہ سے سنی جاتی ہے، اس کی محنت کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے اور اختلاف کی صورت میں اس کے ساتھ کتنا انصاف کیا جاتا ہے۔
تبدیلی کا آغاز گھروں سے ہوتا ہے۔ بیٹیوں کو اپنے حقوق کے ساتھ ذمہ داریوں کا شعور بھی دیا جائے، جبکہ بیٹوں کو یہ سکھایا جائے کہ احترام صرف عورت کی حفاظت کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کی رائے، محنت اور شخصیت کو تسلیم کرنے کا نام بھی ہے۔ ایک باپ جب اپنی بیٹی کی رائے کو اہمیت دیتا ہے، ایک بھائی اپنی بہن کی کامیابی پر فخر کرتا ہے اور ایک شوہر اپنی شریکِ حیات کی ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹاتا ہے تو معاشرے میں تبدیلی محض نعرہ نہیں رہتی، حقیقت بننے لگتی ہے۔
آخرکار سوال عورت کے خودمختار ہونے کا نہیں، ہمارے رویّوں کا ہے۔ ہم عورت کی کامیابی پر تالیاں تو بجاتے ہیں، مگر جب اس کے فیصلے ہماری سوچ سے مختلف ہوں تو اس کی شخصیت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ ہم اس کے حوصلے کی تعریف کرتے ہیں، مگر جب وہ اپنے حق میں آواز اٹھاتی ہے تو اس کے لہجے کو موضوع بنا لیتے ہیں۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم عورت کو اپنی توقعات کے آئینے میں دیکھنے کے بجائے ایک مکمل انسان کے طور پر قبول کرنا سیکھیں؛ ایسا انسان جس کے خواب بھی ہیں، ذمہ داریاں بھی، ضروریات بھی اور اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق بھی۔
خودمختار عورت معاشرے کے لیے خطرہ نہیں، اس کی فکری اور اخلاقی بلوغت کا امتحان ہے۔ کسی معاشرے کی اصل خوب صورتی اس میں نہیں کہ وہاں عورت کتنی خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ اسے اپنی بات کہنے، اپنے خواب پورے کرنے اور باوقار زندگی گزارنے کے کتنے مواقع حاصل ہیں۔
مزید پڑھیں





