پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پھولوں کا باغیچہ،تحریر: مہوش شفیق

نقطہ نظر

گاؤں کے آخری سرے پر ایک خوب صورت باغیچہ تھا، جس کی دیکھ بھال ایک بوڑھا مالی کرتا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کے کئی عشرے اس باغ کے نام کر دیے تھے۔ وہ پھولوں کو صرف پانی نہیں دیتا تھا، بلکہ ان کی ضرورت، ان کی خاموشی اور ان کے موسم کو بھی سمجھتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ہر پودے کی مٹی الگ ہوتی ہے، ہر کلی کی پیاس مختلف اور ہر پھول کے کھلنے کا وقت جدا۔وہ کبھی کسی کلی کو زبردستی کھلانے کی کوشش نہیں کرتا تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ قدرت کا اپنا ایک نظام ہے اور ہر چیز اپنے وقت پر ہی خوب صورت لگتی ہے۔

ایک شام، جب سورج کی آخری کرنیں درختوں کے پیچھے چھپ رہی تھیں اور چنبیلی کی مہک فضا میں گھل رہی تھی، اس کی پوتی زینب باغ کی منڈیر پر بیٹھی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پر اداسی تھی اور نگاہوں میں خود سے ایک خاموش شکایت۔

دادا جان اس کے پاس آ بیٹھے۔

’’کیا بات ہے بیٹی؟ آج تم اتنی خاموش کیوں ہو؟‘‘

زینب نے آہستہ سے کہا:

’’دادا جان! کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں دوسروں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ میری سہیلی مجھ سے زیادہ ذہین ہے، زیادہ قابل ہے۔ ہر جگہ اس کی تعریف ہوتی ہے، اس کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ جب میں خود کو دیکھتی ہوں تو اپنی خوبیوں کے بجائے صرف خامیاں نظر آتی ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میری اپنی پہچان کیا ہے۔‘‘

بوڑھے مالی نے اس کی بات غور سے سنی اور بغیر کوئی نصیحت کیے اس کا ہاتھ تھام کر باغ کے اندر لے گیا۔

وہ ایک سرخ گلاب کے سامنے رکا، پھر قریب کھلے پیلے گیندے کی طرف اشارہ کیا۔ کچھ فاصلے پر چنبیلی کی ننھی کلیاں تھیں، جبکہ سورج مکھی کے بلند پودے ڈھلتی روشنی کی طرف رخ کیے کھڑے تھے۔

اس نے پوچھا:

’’زینب! کیا یہ سب پھول ایک جیسے ہیں؟‘‘

’’نہیں دادا جان! ہر ایک کا رنگ، شکل اور خوشبو الگ ہے۔‘‘

’’اور کیا اسی وجہ سے یہ باغ خوب صورت نہیں لگتا؟‘‘

زینب نے باغ پر نگاہ دوڑائی۔

’’نہیں، یہ تو اپنی رنگا رنگی کی وجہ سے ہی خوب صورت ہے۔‘‘

مالی مسکرایا۔

’’بس یہی بات تمہیں سمجھنی ہے۔ اگر گلاب سورج مکھی کی بلندی پر افسوس کرتا رہے اور چنبیلی گیندے کے رنگ سے موازنہ کرتی رہے، تو کوئی بھی اپنی اصل خوب صورتی سے لطف اندوز نہیں ہو سکے گا۔ ہر پھول کی اہمیت اس کی انفرادیت میں ہے۔ اگر باغ کے سارے پھول ایک جیسے ہو جائیں تو اس کی رنگا رنگی کہاں باقی رہے گی؟‘‘

وہ چند قدم آگے بڑھے۔ ایک ننھی کلی پتھروں کے درمیان سے سر اٹھا رہی تھی، جبکہ اس کے آس پاس کئی پھول کھل چکے تھے۔

زینب نے اسے دیکھ کر کہا:

’’یہ کلی تو ابھی تک نہیں کھلی، حالانکہ باقی سب پھول کھل چکے ہیں۔‘‘

بوڑھے مالی نے جواب دیا:

’’اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ کم تر ہے۔ ممکن ہے اس کا موسم ابھی آیا ہی نہ ہو۔ کچھ پھول جلد کھلتے ہیں، کچھ کو وقت درکار ہوتا ہے۔ یہی اصول انسانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کوئی کم عمری میں کامیاب ہو جاتا ہے، کوئی اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے زیادہ وقت لیتا ہے۔ کسی کی رفتار کو اپنی زندگی کا پیمانہ بنا لینا اپنے ساتھ ناانصافی ہے۔‘‘

زینب نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔

مالی نے بات آگے بڑھائی:

’’دوسروں کی کامیابی کو اپنی ناکامی مت سمجھو۔ اگر کوئی تم سے بہتر ہے تو اس سے سیکھو، مگر خود کو اس کی نقل بنانے کی کوشش نہ کرو۔ دنیا میں تمہاری جگہ کسی دوسرے کی جگہ چھین کر نہیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر بنتی ہے۔‘‘

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد زینب نے پوچھا:

’’لیکن دادا جان! اگر لوگ میری خوبیوں کو پہچان ہی نہ سکیں تو؟‘‘

مالی نے نرمی سے کہا:

’’ہر اچھی چیز کو فوری پہچان نہیں ملتی۔ بعض اوقات انسان کی محنت کا پھل دیر سے ملتا ہے، مگر اس دوران اسے اپنی قدر پہچاننا نہیں چھوڑنی چاہیے۔ لوگوں کی تعریف خوشی دے سکتی ہے، لیکن اگر تمہارا اعتماد صرف تعریف پر قائم ہو تو ان کی خاموشی بھی تمہیں کمزور کر دے گی۔ اپنی زندگی اس طرح بناؤ کہ تمہیں اپنی کوشش پر اطمینان ہو، چاہے ہر شخص تمہیں سراہنے والا نہ ہو۔‘‘

پھر اس نے باغ کی طرف دیکھا اور کہا:

’’یاد رکھو، باغ اپنی خوب صورتی لوگوں کی تالیوں سے نہیں، اپنی جڑوں کی مضبوطی سے حاصل کرتا ہے۔ انسان کی جڑیں اس کا کردار، علم، محنت اور خود اعتمادی ہیں۔ ان پر توجہ دو۔ اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پہچانو اور ہر روز خود کو پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کرو۔‘‘

زینب کے چہرے پر چھائی اداسی آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ دوسروں کی خوبیوں کو دیکھتے ہوئے اپنی خوبیوں سے نظریں چرا رہی تھی۔

اس رات اس نے اپنی ڈائری کھولی اور پہلی بار اپنی سہیلی سے موازنہ کرنے کے بجائے اپنے خوابوں، اپنی دلچسپیوں اور ان صلاحیتوں کے بارے میں لکھا جنہیں وہ نکھارنا چاہتی تھی۔

اسے سمجھ آ گیا کہ زندگی کسی دوسرے سے آگے نکلنے کا مقابلہ نہیں، بلکہ اپنی ذات کو دریافت کرنے کا سفر ہے۔