وقت زخموں کی گہرائی اور خوشیوں کی دستک، دونوں کو پہچان لیتا ہے۔ یہی سوال صالحہ کے ذہن میں اس کی دھڑکنوں کے ساتھ تیزی سے گردش کر رہا تھا۔ وہ اپنے مرحوم شوہر کی الماری کھولے کھڑی تھی۔ الماری سے اٹھتی مانوس خوشبو کو اپنے دل میں اتار رہی تھی، جیسے اس خوشبو کے دامن سے اپنے بچھڑے ہوئے ہم سفر کی چند یادیں سمیٹ لینا چاہتی ہو۔ آنسو اس کے رخساروں پر ڈھلک رہے تھے کہ اچانک مائل کی آواز نے اس کی خاموشی توڑ دی۔
’’امی! مہمان آئے ہیں۔‘‘
صالحہ نے آنسو پونچھے، الماری بند کی اور باہر کی طرف چل دی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ آج آنے والا مہمان اس کی زندگی کی ایک ایسی حقیقت اس کے سامنے رکھنے والا ہے جس کے بعد اس کے ماضی کی ہر یاد ایک نیا معنی اختیار کر لے گی۔
جب صالحہ کمرے میں داخل ہوئی تو اس کی نگاہ سامنے بیٹھے ایک اجنبی شخص پر پڑی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چمڑے کا بستہ تھا اور سامنے میز پر چند کاغذات رکھے ہوئے تھے۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی نمایاں تھی۔
’’السلام علیکم!‘‘ صالحہ نے دھیمی آواز میں کہا۔
’’وعلیکم السلام! تشریف رکھیے۔‘‘ اس شخص نے مؤدبانہ انداز میں جواب دیا۔
مائل نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’امی! یہ وکیل صاحب ہیں۔ ابو کے سلسلے میں آپ سے کچھ ضروری بات کرنے آئے ہیں۔‘‘
ماہتاب کا نام سنتے ہی صالحہ کے دل میں ایک انجانا سا خوف جاگ اٹھا۔ اس نے خاموشی سے کرسی سنبھال لی۔ وکیل نے اپنے کاغذات درست کیے اور چند لمحے توقف کے بعد گویا ہوا:
’’صالحہ صاحبہ! میں آپ کے مرحوم شوہر ماہتاب صاحب کی وصیت کے سلسلے میں حاضر ہوا ہوں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ایک اہم فیصلہ کیا تھا، جس سے آپ کو آگاہ کرنا میری ذمہ داری ہے۔‘‘
صالحہ کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ وہ حیرت اور بے یقینی کے عالم میں وکیل کی طرف دیکھنے لگی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ان کاغذات میں اس کی زندگی کی ایک ایسی حقیقت پوشیدہ ہے جو اس کے ماضی کے کئی بند دریچوں کو کھول دے گی۔
صالحہ ابھی اٹھارہ برس کی ہوئی ہی تھی کہ اس کی شادی اپنی خالہ کے بیٹے ماہتاب سے کر دی گئی۔ وہ بھلا کیا جانتی تھی کہ سسرال کیا ہوتا ہے، رشتوں کی حقیقت کیا ہے اور ایک لڑکی کے لیے اپنا گھر چھوڑ کر کسی دوسری چھت تلے زندگی گزارنا کتنا دشوار ہوتا ہے۔
اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا، ماں کی ممتا سے محروم تھی۔ اس کی ماں سرطان کے مرض میں مبتلا تھی اور صالحہ ابھی زندگی کو سمجھنے کے قابل بھی نہ ہوئی تھی کہ موت نے اس کے سر سے ماں کا سایہ چھین لیا۔ ماں کے جانے کے بعد باپ نے بھی اس کی پرورش سے منہ موڑ لیا۔ وہ اس کی اکلوتی اولاد تھی، مگر اکلوتی ہونے کے باوجود کسی کی ترجیح نہ بن سکی۔
اٹھارہ برس کی عمر تک وہ کسی ایک گھر کی ہو کر نہ رہ سکی۔ کبھی کسی رشتے دار کے ہاں ٹھہرا دی جاتی، کبھی کسی دوسرے کے سپرد کر دی جاتی۔ جسے جب ضرورت محسوس ہوتی، اسے اپنے پاس رکھ لیتا اور جب دل بھر جاتا تو اس کی موجودگی بوجھ محسوس ہونے لگتی۔ یوں اس نے زندگی تو گزار لی، مگر اس گھر سے ہمیشہ محروم رہی جہاں انسان بے خوف ہو کر سانس لے سکے۔
اس کے دل میں ایک معصوم سی امید تھی کہ شاید شادی کے بعد اسے اپنا گھر مل جائے گا۔ مگر اسے کیا خبر تھی کہ جس خالہ کو وہ ہمیشہ ماں کا درجہ دیتی آئی تھی، وہی خالہ سسرال میں اس کے لیے ایک مختلف روپ اختیار کر لے گی۔
ماہتاب اپنے نام کی طرح گھر کا روشن چراغ تھا۔ اس کی مسکراہٹ سے گھر میں اجالا پھیلتا اور اس کی ہر خواہش پوری کرنا اس کی ماں اپنی ذمہ داری سمجھتی تھی۔ خالہ کو اپنے چاند جیسے بیٹے کے لیے صالحہ کبھی مناسب دکھائی نہ دی۔ وہ اسے بہو تو مانتی تھیں، مگر بیٹی تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھیں۔
ماہتاب کو بھی یہ سمجھنے میں بہت وقت لگا کہ بیوی محض گھر میں موجود ایک رشتہ نہیں، بلکہ احساسات رکھنے والی ایک مکمل انسان ہے۔ اس کے بھی حقوق ہیں، اس کی بھی خواہشیں ہیں اور اس کے دل کو بھی محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔
خالہ صالحہ سے گھر بھر کے کام کرواتیں، اس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر گرفت کرتیں اور اس کی کسی نیکی کو دل سے تسلیم نہ کرتیں۔ صالحہ صبح سے رات تک گھر کے کاموں میں مصروف رہتی۔ کبھی دل چاہتا کہ کوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہہ دے، ’’بیٹی! تھک گئی ہو تو کچھ دیر بیٹھ جاؤ۔‘‘ مگر اس کے حصے میں ایسے جملے کہاں تھے؟
ماہتاب اپنی کمائی اور مستقبل بنانے میں مصروف رہا۔ اسے کبھی احساس نہ ہوا کہ گھر میں اس کی بیوی اور بچے صرف اس کی کمائی کے نہیں، اس کی محبت کے بھی منتظر ہیں۔ بچے باپ کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے تھے اور صالحہ چاہتی تھی کہ کبھی ماہتاب اس کے پاس بیٹھ کر اس کا حال پوچھ لے، اس کی آنکھوں میں چھپے دکھ کو پڑھ لے اور اسے یقین دلائے کہ وہ اس گھر میں تنہا نہیں ہے۔
مگر صالحہ نے اپنی محرومیوں کو کبھی اپنی ذمہ داریوں پر غالب نہ آنے دیا۔ وہ بچوں کی پرورش کرتی، گھر سنبھالتی اور ماہتاب کی ضروریات کا خیال رکھتی رہی۔ اس نے محبت کے بڑے بڑے وعدے نہیں مانگے تھے۔ اس کی خواہش صرف اتنی تھی کہ کوئی اسے دل سے اپنا سمجھے۔
وقت گزرتا گیا۔ پھر وہ دن بھی آیا جب خالہ کو اپنی دوسری بہوؤں کے رویوں سے دکھ پہنچنے لگا۔ جن رشتوں پر انہیں ناز تھا، انہی میں انہیں بے اعتنائی کا سامنا کرنا پڑا۔ تب انہیں احساس ہوا کہ جس صالحہ کو انہوں نے ہمیشہ کمتر سمجھا، وہی ان کے بڑھاپے کا سہارا بنی ہوئی ہے۔
ایک روز انہوں نے صالحہ کو اپنے بستر کے پاس دوا لیے کھڑے دیکھا تو ان کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’صالحہ! میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا، ہے نا؟‘‘
صالحہ نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔
’’ایسی بات نہیں، خالہ۔ آپ آرام کریں۔‘‘
’’نہیں، بیٹی! میں نے تمہیں کبھی اپنی بیٹی نہیں سمجھا۔ تم سے کام کرواتی رہی، تمہاری غلطیاں گنواتی رہی، مگر تم نے میرے بڑھاپے کو میری سزا نہیں بننے دیا۔‘‘
صالحہ خاموش رہی۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے معافی کے الفاظ بھی چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ اس نے خالہ کو معاف کر دیا، مگر اس کے بچپن کی محرومیاں واپس نہیں آ سکتی تھیں۔
دوسری طرف ماہتاب کی زندگی میں بھی ایک ایسا موڑ آیا جس نے اسے اپنی غلطیوں کا احساس دلایا۔ دل کی بیماری نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ اب اسے احساس ہونے لگا کہ دولت اور کامیابی کے باوجود انسان کی زندگی کتنی ادھوری رہ جاتی ہے، اگر اس کے دکھ میں شریک ہونے والا کوئی نہ ہو۔
اس وقت اس کے پاس صالحہ تھی۔ وہی صالحہ جس کی خاموشی کو اس نے کبھی سمجھنے کی کوشش نہ کی تھی۔ وہ وقت پر دوا دیتی، اس کی طبیعت کا خیال رکھتی اور اس کے چہرے کی ذرا سی شکن سے اس کی تکلیف بھانپ لیتی۔
ایک رات ماہتاب نے اس کا ہاتھ تھام کر پوچھا، ’’صالحہ! تم نے کبھی مجھ سے شکوہ کیوں نہیں کیا؟‘‘
صالحہ نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
’’شکوہ کس سے کرتی، ماہتاب؟ جسے اپنے دل کی بات سنانی ہو، اسی سے تو شکوہ کیا جاتا ہے۔‘‘
یہ الفاظ ماہتاب کے دل میں اتر گئے۔ اسے پہلی مرتبہ اپنی بیوی کی خاموشی کے پیچھے چھپے برسوں کے دکھ کا احساس ہوا۔ اس نے آنسو بھری آنکھوں سے کہا، ’’مجھے معاف کر دو، صالحہ۔ میں نے تمہیں بہت دیر سے پہچانا۔‘‘
صالحہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ’’آپ کو احساس ہو گیا، یہی میرے لیے بہت ہے۔‘‘
مگر زندگی نے اسے زیادہ مہلت نہ دی۔ بیماری بڑھتی گئی اور ایک روز ماہتاب دنیا سے رخصت ہو گیا۔ صالحہ کی دنیا ایک بار پھر اجڑ گئی۔ اس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ جس شخص کی محبت کے انتظار میں گزارا تھا، وہ اب صرف یاد بن کر رہ گیا تھا۔
کچھ عرصے بعد ایک وکیل گھر آیا۔ اس نے اپنا تعارف کروایا اور ماہتاب کی وصیت صالحہ کے حوالے کر دی۔ اس میں ماہتاب نے اپنی جمع پونجی اور گھر صالحہ کے نام کر دیا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ جس عورت نے عمر بھر اس گھر کو سنبھالا، اسے اپنی چھت اور اپنے حق کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
وصیت پڑھتے ہوئے صالحہ کی آنکھیں دھندلا گئیں۔ اس کے سامنے بچپن کی محرومیاں، جوانی کی تنہائی اور محبت کے انتظار میں گزرے برس ایک ایک کر کے آ کھڑے ہوئے۔
آج اس کے پاس اپنا گھر تھا، مگر اس گھر کا مالک اب دنیا میں نہیں تھا۔
وہ اٹھی، ماہتاب کی الماری کھولی اور اس کے کپڑوں سے اٹھتی خوشبو کو محسوس کیا۔ اس نے ایک کپڑا سینے سے لگا لیا۔ آنسو اس کے رخساروں پر بہنے لگے۔
اسے زندگی نے بہت کچھ دیا تھا، مگر بہت دیر سے۔ وہ جس گھر میں عمر بھر اپنائیت تلاش کرتی رہی، آج اسی گھر کی مالک تھی، مگر اس کی خوشی بانٹنے والا کوئی نہ تھا۔
کھڑکی سے باہر شام اتر رہی تھی۔ صالحہ نے آنکھیں بند کیں اور دھیرے سے کہا:
’’کاش، آپ نے مجھے تھوڑا پہلے پہچان لیا ہوتا، ماہتاب!‘‘
وقت گزر چکا تھا۔ زخم اپنی جگہ موجود تھے، یادیں اپنی جگہ اور صالحہ کی خاموش محبت بھی اپنی جگہ۔
اس کی کہانی ایک سوال چھوڑ گئی:
کیا کسی انسان کی قدر کرنے کے لیے اس کا کھو جانا ضروری ہے؟
مزید پڑھیں






