پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک شام امیر خسروؒ کے نام، امروھا فاؤنڈیشن کے تحت عالمی مشاعرہ ،شاہد نسیم چوہدری

نقطہ نظر
shahid naseem

ادب محض الفاظ کی ترتیب کا نام نہیں، بلکہ یہ تہذیبوں کے درمیان محبت کے پل تعمیر کرنے، دلوں کو قریب لانے اور نسلوں تک فکر و فن کی روشنی پہنچانے کا وسیلہ ہے۔ جب اہلِ قلم کسی عظیم شاعر اور عارف کی یاد میں یکجا ہوتے ہیں تو دراصل وہ اپنے ماضی کی خوشبو کو حال کے دامن میں سمیٹ کر مستقبل کے حوالے کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ایک خوب صورت ادبی کاوش امروہا فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ’’ایک شام امیر خسروؒ کی یاد میں‘‘ عالمی مشاعرے کی صورت میں سامنے آئی، جس نے برصغیر کی مشترکہ تہذیبی روایت، شعری عظمت اور انسانی محبت کے پیغام کو اجاگر کیا۔

یہ محفل صرف ایک شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تقریب نہیں تھی، بلکہ اس عظیم ادبی ورثے سے تجدیدِ عہد بھی تھی جس کی بنیاد محبت، رواداری، روحانیت اور زبان و بیان کی دل آویزی پر استوار ہے۔ امیر خسروؒ کا نام آتے ہی ہمارے سامنے ایک ایسی شخصیت کا تصور ابھرتا ہے جس نے شعر کو عبادت کی لطافت، موسیقی کو روح کی زبان اور تہذیب کو انسانوں کے درمیان رشتے کا وسیلہ بنا دیا۔ ان کی یاد میں منعقد ہونے والی محفل دراصل اسی وسیع انسانی اور تہذیبی تصور کی تجدید تھی۔

امیر خسروؒ: محبت کی زبان، تہذیب کی پہچان

حضرت امیر خسروؒ برصغیر کی ادبی، فکری اور روحانی تاریخ کا ایسا روشن نام ہیں جن کی شخصیت صدیوں کا فاصلہ طے کرنے کے باوجود آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔ وہ فارسی کے قادرالکلام شاعر، ہندوستانی تہذیب کے نباض اور صوفیانہ روایت کے درخشاں نمائندے تھے۔ ان کے کلام میں عشق کی وارفتگی، معرفت کی گہرائی، زبان کی شیرینی اور انسانی احساسات کی ایسی رنگا رنگی ملتی ہے جو قاری کو اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔

امیر خسروؒ کی عظمت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے مختلف تہذیبی اور لسانی روایتوں کے درمیان قربت پیدا کی۔ ان کی شاعری ہمیں بتاتی ہے کہ زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، مگر محبت کا جذبہ ہر دل میں ایک ہی طرح دھڑکتا ہے۔ ان کا ذکر آج بھی ہندوستان اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے اہلِ ادب کو ایک مشترکہ ثقافتی رشتے کی یاد دلاتا ہے۔

وہ ایسے عہد میں سامنے آئے جب ہندوستان مختلف تہذیبی، لسانی اور مذہبی اثرات کے باہمی میل جول سے ایک نئی شناخت تشکیل دے رہا تھا۔ امیر خسروؒ نے اس میل جول کو محض دیکھا نہیں، بلکہ اسے اپنی تخلیقی شخصیت کا حصہ بنایا۔ ان کے ہاں فارسی کی نزاکت، ہندوستانی لوک روایت کی سادگی، صوفیانہ فکر کی گہرائی اور عوامی زبان کی شیرینی ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ یہی امتزاج انہیں اپنے عہد سے بلند کر کے آنے والی صدیوں کا شاعر بنا دیتا ہے۔

امیر خسروؒ کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو ان کی اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیاؒ سے بے مثال عقیدت ہے۔ ان کی روحانی وابستگی نے ان کے کلام کو محض لفظی حسن نہیں دیا بلکہ اسے باطن کی روشنی بھی عطا کی۔ ان کے ہاں عشق صرف محبوب کے حسن کا بیان نہیں، بلکہ حقیقت کی تلاش، انسان سے محبت اور خدا کی قربت کا راستہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام خانقاہوں سے لے کر عوامی محفلوں تک، درباروں سے لے کر گھروں تک، ہر جگہ اپنی تاثیر قائم رکھتا ہے۔

ایسے عہد میں جب اختلافات کے شور میں مکالمے کی آواز کمزور پڑنے لگے، امیر خسروؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی ادبی محفلیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ فن کی اصل طاقت تقسیم میں نہیں، دلوں کو جوڑنے میں ہے۔ ان کا پیغام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ تہذیب کسی ایک طبقے، زبان یا خطے کی ملکیت نہیں ہوتی؛ یہ مختلف تجربات، آوازوں اور روایتوں کے ملاپ سے تشکیل پاتی ہے۔

امروہا فاؤنڈیشن: ادب کے چراغ روشن رکھنے کی کاوش

امروہا فاؤنڈیشن نے اس عالمی مشاعرے کے ذریعے امیر خسروؒ کی یاد کو تازہ کرنے اور دنیا بھر کے اہلِ سخن کو ایک ادبی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی۔ اس تقریب کے اعلان میں ’’Inspiring the Generations‘‘ کا پیغام بھی نمایاں تھا، جو نئی نسل تک ادبی و تہذیبی ورثہ منتقل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

اس نوعیت کی تقریبات کی معنویت محض ایک شام کی ادبی سرگرمی تک محدود نہیں رہتی۔ یہ نوجوانوں کو اپنے کلاسیکی شعری سرمائے سے متعارف کراتی ہیں، زبان و ادب سے وابستگی بڑھاتی ہیں اور مختلف ملکوں میں مقیم تخلیق کاروں کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ آج کے تیز رفتار اور مادّی دور میں، جب نوجوان نسل کا بڑا حصہ فوری تفریح اور مختصر مواد کی دنیا میں گھرا ہوا ہے، ایسی محفلیں اسے ٹھہرنے، سننے، سوچنے اور اپنے تہذیبی ماضی سے رشتہ جوڑنے کی دعوت دیتی ہیں۔

امروہا فاؤنڈیشن کے صدر فرمان حیدر نقوی صاحب اور چیف پیٹرن محترمہ زیب النساء زیب صاحبہ کی ادبی سرگرمیاں اسی تناظر میں قابلِ تحسین ہیں۔ ادب کی خدمت تسلسل، خلوص اور اجتماعی تعاون کی متقاضی ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنی مصروفیات کے باوجود اہلِ قلم کو یکجا کرنے، مشاعروں کا انعقاد کرنے اور ادبی شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے وقت نکالتے ہیں، وہ تہذیبی روایت کے تسلسل میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

کسی بھی ادبی ادارے کی اصل قوت اس کے وسائل سے زیادہ اس کے مقصد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر مقصد محض تقریب منعقد کرنا نہ ہو بلکہ ادب کو معاشرے کی فکری زندگی سے جوڑنا ہو، تو ایک چھوٹی سی نشست بھی بڑے اثرات پیدا کر سکتی ہے۔ امروہا فاؤنڈیشن کی یہ کاوش اسی احساس کی ترجمان دکھائی دیتی ہے کہ ادبی ورثے کو زندہ رکھنے کے لیے محض کتابیں کافی نہیں، بلکہ زندہ محفلیں، مکالمہ، سماعت اور باہمی ربط بھی ضروری ہیں۔

دنیا بھر سے اہلِ سخن کی شرکت

اس مشاعرے کے اشتہاری پوسٹر میں پاکستان، بھارت، امریکہ، ملائیشیا اور تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والی ادبی شخصیات کی شرکت اور نمائندگی درج ہے۔ یہی بین الاقوامی تنوع اس تقریب کے عنوان کو معنویت عطا کرتا ہے۔ ادب کی کوئی سرحد نہیں ہوتی؛ ایک شعر اپنے خالق کے وطن سے نکل کر ہزاروں میل دور بیٹھے قاری کے دل میں بھی گھر کر سکتا ہے۔

تقریب میں امریکہ سے جناب محسن رضا علوی، بھارت سے ڈاکٹر شفیع ستاپوری، پاکستان سے جناب مقبول شاکر، ملائیشیا سے محترمہ قدسیہ قدسی اور پاکستان سے جناب شاہد نسیم چوہدری کی شرکت کی۔

اسی طرح دوسری صف میں ڈاکٹر فریحہ باجوہ، جناب ایم اے ناشاد، جناب عروج واثی، جناب شبیر شاہد اور امریکہ سے محترمہ تبسم محسن علوی کے نام شامل تھے۔ ان مختلف ادبی شخصیات کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ اردو زبان اور اس کا شعری سرمایہ جغرافیائی حدود سے آگے بڑھ کر دنیا کے مختلف خطوں میں اپنا اثر قائم رکھے ہوئے ہے۔

یہ منظر اردو زبان کی عالمی زندگی کا ایک خوب صورت استعارہ بھی ہے۔ اردو صرف ایک خطے میں بولی جانے والی زبان نہیں رہی؛ یہ ہجرتوں، یادوں، محبتوں اور ثقافتی تجربات کے ساتھ دنیا کے مختلف شہروں میں پھیل چکی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم اردو شعرا اپنے ساتھ صرف زبان نہیں لے کر گئے، بلکہ اپنے آبائی شہروں کی گلیاں، ماؤں کی دعائیں، تہواروں کی خوشبو، موسموں کی یاد اور تہذیبی حافظہ بھی لے گئے۔ اسی لیے ان کے کلام میں وطن سے دوری کا دکھ بھی ہوتا ہے اور نئی سرزمین سے مکالمے کی خواہش بھی۔

ایسے مشاعرے اہلِ قلم کو نہ صرف اپنا کلام پیش کرنے کا موقع دیتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ادبی ذوق، فکری زاویوں اور تخلیقی تجربات سے واقفیت کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ایک شاعر جب دوسرے شاعر کو سنتا ہے تو وہ صرف شعر نہیں سنتا، بلکہ ایک مختلف زندگی، ایک مختلف شہر اور ایک مختلف احساس سے آشنا ہوتا ہے۔ یہی آشنائی ادب کو انسانی تجربے کی مشترکہ زبان بناتی ہے۔

صدرِ مشاعرہ، سرپرست اور منتظمین کا کردار

کسی بھی ادبی تقریب کی کامیابی میں اس کے منتظمین، سرپرستوں اور شریک اہلِ قلم کی مشترکہ محنت شامل ہوتی ہے۔ جناب مقبول شاکر کی شرکت نمایاں ہے، جبکہ جناب محسن رضا علوی اور ڈاکٹر شفیع ستاپوری کے نام بھی بالترتیب صدارت اور مہمانِ خصوصی کے عنوانات کے تحت درج دکھائی دیتے ہیں۔

محترمہ زیب النساء زیب صاحبہ، بطور چیف پیٹرن، اور جناب فرمان حیدر نقوی صاحب، بطور صدر امروہا فاؤنڈیشن، اس ادبی کاوش کے نمایاں منتظمین میں شامل ہیں۔ ان کی یہ کوشش خراجِ عقیدت کی اس روایت کو آگے بڑھانے کی ایک صورت ہے جس کے ذریعے کلاسیکی شعرا کی یاد نئی نسل کے شعری اور فکری شعور سے مربوط ہوتی ہے۔

پوسٹر میں جناب شاہد نسیم چوہدری کا نام بھی بطور شریکِ مشاعرہ درج ہے۔ ان کے لیے یہ اعزاز یقیناً باعثِ مسرت ہے کہ انہیں ایک ایسی عالمی ادبی نشست میں شرکت کا موقع ملا جس کا عنوان برصغیر کے ایک عظیم شاعر کی یاد سے وابستہ تھا۔

ادبی تقریبات کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب انتظامی کاوشیں، علمی احترام اور تخلیقی آزادی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ یہی ہم آہنگی مشاعرے کو محض رسمی تقریب کے بجائے ایک یادگار ادبی تجربہ بناتی ہے۔ منتظمین کا کام صرف شعرا کو دعوت دینا یا پروگرام ترتیب دینا نہیں ہوتا؛ انہیں ایک ایسا ماحول بھی فراہم کرنا ہوتا ہے جہاں شاعر اطمینان سے اپنا کلام پیش کر سکے، سامعین توجہ سے سن سکیں اور ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ فکری تجربے کے طور پر محسوس کیا جا سکے۔

مشاعرے کی روایت میں نظامت، ترتیب، وقت کی پابندی، شعرا کا احترام اور سامعین کی شمولیت سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ ایک کامیاب مشاعرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر شاعر کو اپنی آواز کے اظہار کا موقع ملے اور ہر سامع اپنے اندر کوئی نیا احساس لے کر واپس جائے۔ امیر خسروؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی ایسی محفلوں سے یہی توقع وابستہ کی جا سکتی ہے کہ وہ شعر کو محض سماعت کا تجربہ نہیں بلکہ دل و دماغ کی بیداری کا وسیلہ بنائیں گی۔

امیر خسروؒ اور موسیقی کی روحانی دنیا

امیر خسروؒ کا ذکر شاعری کے ساتھ موسیقی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ برصغیر کی موسیقی کی روایت میں ان کا نام ایک ایسے تخلیق کار کے طور پر لیا جاتا ہے جس نے صوتی حسن، لے، تال اور روحانی کیفیت کے درمیان ایک گہرا رشتہ قائم کیا۔ قوالی کی مقبول روایت میں ان کا حصہ ہو یا صوفیانہ کلام کی عوامی پذیرائی، ہر جگہ ان کی تخلیقی بصیرت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

ان کے ہاں موسیقی محض کانوں کو بھانے والی آواز نہیں، بلکہ دل کو نرم کرنے اور باطن کو بیدار کرنے کا وسیلہ ہے۔ صوفیانہ محفل میں جب شعر، آواز اور ساز ایک دوسرے میں مدغم ہوتے ہیں تو انسان اپنے روزمرہ کے اضطراب سے بلند ہو کر ایک ایسی کیفیت میں داخل ہوتا ہے جہاں ذات کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔ امیر خسروؒ کی روایت اسی روحانی تجربے کو عام انسان کے قریب لاتی ہے۔

آج بھی جب ان سے منسوب کلام قوالی کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے تو مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک ہی کیفیت میں شریک ہو جاتے ہیں۔ کوئی فارسی کے تمام الفاظ نہیں سمجھتا، کوئی ہندی کے ہر استعارے سے واقف نہیں ہوتا، مگر آواز کی تاثیر، تکرار کی لے اور عشق کی کیفیت دل تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی فن کی وہ طاقت ہے جو ترجمے کی محتاج نہیں ہوتی۔

اس عالمی مشاعرے کا عنوان بھی اسی وسیع روایت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ امیر خسروؒ کو یاد کرنا صرف ان کے اشعار پڑھنا نہیں، بلکہ اس تہذیبی مزاج کو یاد کرنا ہے جس میں شعر، موسیقی، روحانیت اور انسانی محبت ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔

اردو شاعری: سرحدوں سے بلند ایک رشتہ

اردو شاعری کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ شعر نے ہمیشہ فاصلے کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ میر کی دردمندی، غالب کی فکری وسعت، اقبال کا پیغامِ خودی اور امیر خسروؒ کی تہذیبی و روحانی رنگا رنگی اپنے اپنے انداز میں انسانی احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

جب پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک کے شعرا ایک ہی مشاعرے میں شریک ہوتے ہیں تو ان کی آوازیں صرف انفرادی تخلیقات نہیں رہتیں، بلکہ ایک وسیع ادبی روایت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر فن اور ادب کے ذریعے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش انسانی معاشرے کے لیے ہمیشہ مفید رہتی ہے۔

اردو شاعری نے ہمیشہ انسان کو اس کی داخلی دنیا سے روشناس کرایا ہے۔ کبھی یہ تنہائی کی آواز بنتی ہے، کبھی جدائی کا نوحہ، کبھی امید کا چراغ اور کبھی مزاحمت کا استعارہ۔ اس زبان میں محبت بھی ہے، احتجاج بھی؛ تصوف بھی ہے، زندگی کی تلخیوں کا شعور بھی۔ یہی وسعت اردو شاعری کو مختلف طبقوں اور خطوں کے لوگوں سے جوڑتی ہے۔

مشاعرے کی روایت بھی اسی اجتماعی شعور کی نمائندہ ہے۔ شاعر اکیلا لکھتا ہے، مگر مشاعرے میں اس کا شعر اجتماعی سماعت کا حصہ بن جاتا ہے۔ سامعین کی داد، خاموشی، حیرت اور کبھی کبھی بے ساختہ مسکراہٹ شعر کے معنی کو مزید وسیع کر دیتی ہے۔ ایک اچھا شعر جب محفل میں پڑھا جاتا ہے تو وہ صرف شاعر کا نہیں رہتا؛ ہر سننے والا اسے اپنے تجربے کے مطابق نئے معنی عطا کرتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے مشاعروں کو ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے نئی نسل تک پہنچایا جائے، کلاسیکی شاعری کی تشریح و تفہیم کے لیے نشستیں منعقد ہوں اور امیر خسروؒ جیسے عظیم شعرا کے کلام کو جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے عام کیا جائے۔ اس طرح خراجِ عقیدت محض ایک تقریب تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک مستقل علمی و ادبی تحریک کی شکل اختیار کر سکے گا۔

نئی نسل اور تہذیبی ورثے کی ذمہ داری

آج کی نسل ایک ایسے دور میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں معلومات کی فراوانی ہے مگر گہری توجہ کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔ چند لمحوں میں دنیا بھر کی خبریں، تصاویر اور آوازیں ہمارے سامنے آ جاتی ہیں، لیکن کسی ایک شعر کے اندر چھپی ہوئی کیفیت کو سمجھنے کے لیے جو ٹھہراؤ درکار ہے، وہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں امیر خسروؒ کی یاد ہمیں ٹھہرنے، سننے اور محسوس کرنے کا ہنر سکھاتی ہے۔

نئی نسل کو کلاسیکی ادب سے جوڑنے کے لیے صرف نصابی حوالہ کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ امیر خسروؒ کے کلام کو موسیقی، ڈرامے، دستاویزی فلموں، پوڈکاسٹ، آن لائن لیکچرز اور جدید بصری ذرائع کے ذریعے پیش کیا جائے۔ نوجوان جب کسی شاعر کو اپنی زبان، اپنے سوالات اور اپنے عہد کے تناظر میں سمجھیں گے تو کلاسیکی ادب ان کے لیے ماضی کا بوجھ نہیں بلکہ حال کی معنویت بن جائے گا۔

اس سلسلے میں ادبی اداروں، جامعات، اسکولوں اور ثقافتی تنظیموں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ امیر خسروؒ کی شاعری پر مطالعاتی نشستیں ہوں، ان کے عہد کی تاریخ پر گفتگو کی جائے، ان کی زبان اور اسلوب کا تعارف کرایا جائے اور ان کے کلام میں موجود انسانی اقدار کو موجودہ معاشرتی مسائل سے جوڑا جائے۔ اگر ادب کو زندگی سے الگ کر دیا جائے تو وہ محض محفوظ متن بن کر رہ جاتا ہے؛ لیکن جب اسے زندگی کے سوالات سے جوڑا جائے تو وہ رہنمائی اور روشنی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

محبت کا پیغام، نسلوں کے نام

امیر خسروؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی یہ عالمی ادبی نشست اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ تہذیبیں صرف عمارتوں، یادگاروں اور تاریخی کتابوں سے زندہ نہیں رہتیں؛ انہیں زندہ رکھنے کے لیے شعر، موسیقی، زبان، فکر اور انسانی محبت کی مسلسل آبیاری ضروری ہے۔

امیر خسروؒ کا اصل ورثہ شاید یہی ہے کہ انہوں نے انسان کو اس کی مشترکہ شناخت یاد دلائی۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اختلافات کے باوجود دلوں میں ایک ایسی جگہ موجود ہے جہاں محبت، حسن، سچائی اور روحانی جستجو سب کو جمع کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کلام ہمیں نفرت کے مقابلے میں محبت، تعصب کے مقابلے میں وسعت اور خاموشی کے مقابلے میں مکالمے کا راستہ دکھاتا ہے۔

آج دنیا مختلف نوعیت کے بحرانوں سے دوچار ہے۔ کہیں جنگ کا خوف ہے، کہیں مذہبی اور لسانی تعصب، کہیں معاشی ناہمواری اور کہیں انسان کی تنہائی۔ ایسے وقت میں امیر خسروؒ کی یاد محض ماضی پر فخر کرنے کا موقع نہیں، بلکہ اپنے حال کا جائزہ لینے کی دعوت بھی ہے۔ اگر ہم ان کے نام پر محفل سجائیں مگر ان کے پیغامِ محبت کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہ دیں تو ہماری عقیدت ادھوری رہ جائے گی۔

ادب کا مقصد صرف خوب صورت الفاظ پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو بہتر انسان بنانا بھی ہے۔ ایک شعر اگر کسی دل میں نرمی پیدا کر دے، کسی ذہن میں سوال جگا دے، کسی غم زدہ شخص کو سہارا دے یا دو اجنبی دلوں کے درمیان قربت پیدا کر دے تو وہ شعر اپنی معنویت ثابت کر دیتا ہے۔ امیر خسروؒ کی شاعری اسی انسانی تاثیر کی روشن مثال ہے۔

میری دعا ہے کہ امروہا فاؤنڈیشن کی یہ محفلِ سخن محبت، اخوت اور تخلیقی توانائیوں کا پیغام عام کرے، خواجہ امیر خسروؒ کی فکر و فن کی خوشبو نسل در نسل پھیلتی رہے اور جناب فرمان حیدر نقوی صاحب اور محترمہ زیب النساء زیب صاحبہ کی ادبی کاوشیں مزید کامیابیوں سے ہم کنار ہوں۔

خسروؒ کا ذکر ہو تو لفظوں میں خوشبو اترتی ہے، اور اہلِ ادب جمع ہوں تو تہذیب کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ یہ چراغ اسی وقت دیر تک روشن رہیں گے جب ہم اپنے ادبی ورثے کو محض ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ حال کی ضرورت اور مستقبل کی امانت سمجھیں گے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تہذیبی ورثہ کسی عجائب گھر میں رکھی ہوئی بے جان شے نہیں ہوتا۔ یہ ہماری گفتگو، ہمارے رویوں، ہماری ترجیحات اور ہماری اجتماعی یادداشت میں زندہ رہتا ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کو امیر خسروؒ کا شعر سناتے ہیں، جب کسی محفل میں صوفیانہ کلام گونجتا ہے، جب مختلف ملکوں کے شعرا ایک دوسرے کو سنتے ہیں اور جب ادب اختلاف کے باوجود احترام کا راستہ دکھاتا ہے، تب یہ ورثہ ہمارے اندر سانس لیتا ہے۔

ایسی محفلیں ہمیں اپنے ماضی سے جوڑتے ہوئے مستقبل کی طرف دیکھنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ زبانیں بدل سکتی ہیں، ذرائع بدل سکتے ہیں، زمانے کے انداز بدل سکتے ہیں، مگر محبت، حسن، سچائی اور انسان دوستی کی ضرورت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ امیر خسروؒ اسی لازوال ضرورت کے شاعر ہیں، اور ان کی یاد میں سجنے والی ہر محفل دراصل انسان کے بہتر مستقبل کی امید کو زندہ کرتی ہے۔

فرقان حیدر نقوی ، زیب النساء زیبی تمام منتظمین، شعرا اور اہلِ ذوق کو اس خوب صورت عالمی ادبی کاوش پر دلی مبارک باد۔