اے آئی پی ایچ پی اور انٹرنیٹ کا لاک ڈاؤن ،تحریر: محمد سبحان شوق
نقطہ نظراکیسویں صدی میں انسان نے اپنی زندگی کو جس شے کے گرد سمیٹ لیا ہے وہ انٹرنیٹ ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک ہماری زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ باقی رہ گیا ہو جو کسی نہ کسی صورت ڈیجیٹل دنیا سے وابستہ نہ ہو۔ ہماری معیشت، کاروبار، تعلیم، صحافت، بینکاری، سرکاری نظام، سفری سہولتیں اور باہمی رابطے سب اسی ایک نیٹ ورک کے سہارے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم نے اپنی سہولت کے لیے ایک ایسی دنیا تعمیر کی جس میں فاصلے سمٹ گئے، معلومات کی رفتار بڑھ گئی اور دنیا ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہو گئی۔ مگر اکتوبر 2026 کے آخری عشرے میں سامنے آنے والے سائبر سکیورٹی بحران نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ جس ڈیجیٹل دنیا کو ہم اپنی ترقی کی ضمانت سمجھتے ہیں، وہ کس قدر محفوظ ہے؟
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے پی ایچ پی نامی معروف پروگرامنگ زبان میں دو سنگین سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی ہوئی تو دنیا کے مختلف ممالک میں سرکاری اداروں، کاروباری کمپنیوں اور دیگر تنظیموں نے اپنی بعض ویب سائٹس اور آن لائن خدمات عارضی طور پر بند کر دیں۔ یہ اقدام کسی عالمی انٹرنیٹ لاک ڈاؤن کے باقاعدہ اعلان کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ممکنہ سائبر حملوں سے بچاؤ کے لیے کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود جب یورپ سے امریکا، جاپان اور دیگر خطوں تک ویب سائٹس کی بندش کی خبریں سامنے آئیں تو عام صارفین کے ذہن میں ایک فطری سوال نے جنم لیا کہ کیا دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں انٹرنیٹ کی بندش کسی جنگ، وبا یا قدرتی آفت کی طرح عالمی نظام کو متاثر کر سکتی ہے؟
اس واقعے کی سنگینی سمجھنے کے لیے پی ایچ پی کی اہمیت جاننا ضروری ہے۔ پی ایچ پی ایک پروگرامنگ زبان ہے جو دنیا کی بڑی تعداد میں ویب سائٹس اور ویب ایپلی کیشنز کو چلانے میں استعمال ہوتی ہے۔ ویب سائٹ پر مواد دکھانے، صارفین کے اکاؤنٹس سنبھالنے، معلومات کو ڈیٹابیس سے منسلک کرنے اور مختلف آن لائن سہولتیں فراہم کرنے میں اس کا کردار اہم ہے۔ جب ایسی وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی میں کوئی بنیادی خامی سامنے آتی ہے تو اس کا اثر کسی ایک ویب سائٹ تک محدود نہیں رہتا۔ مختلف اداروں کے سرورز، کاروباری پلیٹ فارمز اور دوسری سافٹ ویئر مصنوعات بھی متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
اکیس اکتوبر 2026 کو یورپی یونین کے سائبر سکیورٹی اداروں اور دیگر متعلقہ تنظیموں نے پی ایچ پی کی دو سنگین خامیوں کے بارے میں مشترکہ تنبیہ جاری کی۔ ان خامیوں کے باعث بعض حالات میں حملہ آور متاثرہ سرور پر بغیر کسی پیشگی اجازت کے نقصان دہ کوڈ چلا سکتے تھے۔ امریکا کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے بھی فوری حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور واضح کیا کہ جن اداروں کے لیے فوری اپ ڈیٹ ممکن نہ ہو وہ اپنے متاثرہ نظاموں کو عارضی طور پر آف لائن کرنے پر غور کریں۔ پی ایچ پی کے منتظمین نے ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے سکیورٹی اپ ڈیٹس بھی جاری کیں۔
یہاں مصنوعی ذہانت کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ان خامیوں کی دریافت میں جدید اے آئی ماڈلز نے محققین کی مدد کی۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس کی تحقیقی کوششوں اور شراکت داروں کے تعاون سے پی ایچ پی کی ایک سنگین خامی سامنے آئی، جب کہ دوسری خامی کی شناخت میں بھی الگ سے تحقیق کی گئی۔ اس عمل نے ثابت کیا کہ مصنوعی ذہانت اب صرف مضامین لکھنے، تصاویر بنانے یا سوالات کے جواب دینے تک محدود نہیں رہی بلکہ پیچیدہ سافٹ ویئر کا تجزیہ کرکے ایسی کمزوریوں کی نشاندہی بھی کر سکتی ہے جو دنیا بھر کے ڈیجیٹل نظاموں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اے آئی کی صلاحیت انسانی ترقی کے لیے امید بھی بنتی ہے اور ایک نئے خدشے کو بھی جنم دیتی ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت دفاع کرنے والوں کو خامیاں تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے تو بدنیت عناصر بھی اسی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایک طرف محققین کمزوری دریافت کرکے اس کا حل تیار کرتے ہیں، دوسری طرف حملہ آور اسی کمزوری کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس طرح مستقبل کی سائبر سکیورٹی کی جنگ میں رفتار، معلومات اور حفاظتی تیاری بنیادی اہمیت اختیار کر جائیں گی۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مصنوعی ذہانت نے انٹرنیٹ کو بند کر دیا ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اے آئی نے ایسی خامیوں کی شناخت میں مدد دی جن کے ممکنہ اثرات وسیع تھے، لیکن ان خامیوں کا حل بھی انسانی ماہرین، پروگرامنگ ٹیموں اور سکیورٹی اداروں ہی نے تیار کیا۔ اصل خطرہ ٹیکنالوجی کی موجودگی نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال، پرانے اور غیر محفوظ نظام، حفاظتی اقدامات میں تاخیر اور اداروں کی کمزور تیاری ہے۔
اس بحران کے دوران دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے سرکاری بیانات نے معاملے کی اہمیت کو واضح کیا۔ یورپی یونین کے اداروں نے فوری اپ ڈیٹس نصب کرنے، متاثرہ نظاموں کی شناخت کرنے اور ضرورت پڑنے پر عوامی نیٹ ورک سے انہیں عارضی طور پر الگ کرنے کی ہدایت دی۔ امریکا کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے بھی اداروں کو اپنے انٹرنیٹ سے منسلک نظاموں کا جائزہ لینے اور تازہ حفاظتی پیچ لگانے کی تاکید کی۔ کینیڈا کے سائبر سکیورٹی مرکز نے اپنے بیان میں کہا کہ متاثرہ نظاموں کی حفاظت کے لیے اقدامات جاری ہیں اور بعض ویب سائٹس سکیورٹی اپ ڈیٹس کے دوران عارضی طور پر دستیاب نہیں ہو سکتیں۔
یہ بیانات اس بات کی علامت تھے کہ معاملہ محض تکنیکی ماہرین کے درمیان ہونے والی گفتگو تک محدود نہیں رہا تھا۔ حکومتوں کو اپنی ڈیجیٹل خدمات، حساس معلومات اور عوامی اعتماد کی حفاظت کے لیے فوری فیصلے کرنا پڑ رہے تھے۔ تاہم ان بیانات کو یہ سمجھنا درست نہیں کہ تمام حکومتوں نے اپنے اپنے ممالک میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ ان کی بنیادی ہدایات متاثرہ نظاموں کو محفوظ بنانے، حفاظتی اپ ڈیٹس نصب کرنے اور ضرورت کے مطابق مخصوص خدمات کو عارضی طور پر الگ کرنے سے متعلق تھیں۔
اکیس اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق جرمنی، فرانس، بیلجیم، نیدرلینڈز، فن لینڈ اور جمہوریہ چیک سمیت متعدد یورپی ممالک میں کچھ سرکاری ویب سائٹس اور آن لائن خدمات بند کی گئیں۔ نیدرلینڈز میں سرکاری پورٹل، بندرگاہ سے متعلق بعض خدمات اور دیگر اداروں کے ڈیجیٹل نظام متاثر ہوئے۔ فرانس میں مقامی انتظامی دفاتر کی ویب سائٹس عارضی طور پر غیر فعال کی گئیں۔ جاپان میں بھی مختلف اداروں اور کاروباری تنظیموں نے احتیاطی اقدامات کیے۔ برطانیہ میں متعدد سرکاری خدمات عارضی طور پر آف لائن ہوئیں، جب کہ کچھ بین الاقوامی اداروں نے بھی اپنی متاثرہ ویب سائٹس بند کرکے حفاظتی اپ ڈیٹس نصب کرنے کا عمل شروع کیا۔
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آیا۔ بعض ویب سائٹس کو اس لیے بند کیا گیا کہ ان میں ممکنہ کمزوری موجود تھی، نہ کہ اس لیے کہ ان پر حملہ کامیاب ہو چکا تھا۔ برطانیہ میں سرکاری حکام نے متعدد خدمات کی عارضی بندش کو حفاظتی اقدام قرار دیا۔ کینیڈا نے بھی اپنے سرکاری نظاموں یا معلومات کے متاثر ہونے کا مصدقہ ثبوت نہ ملنے کی وضاحت کی۔ نیدرلینڈز کے سائبر سکیورٹی ادارے نے تئیس اکتوبر کی تازہ کاری میں بتایا کہ اس وقت تک بیرون ملک ممکنہ کامیاب حملے کی ایک اطلاع زیرِ غور تھی، مگر اس کی کامیابی کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ بعد کی معلومات میں یہ بھی سامنے آیا کہ خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں سامنے آئی تھیں، لیکن ہر کوشش کو کامیاب ہیکنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس صورتِ حال سے واضح ہوتا ہے کہ سائبر سکیورٹی میں خطرے کا امکان اور ثابت شدہ نقصان دو الگ چیزیں ہیں۔ اگر کسی عمارت میں آگ لگنے کا خدشہ پیدا ہو تو انتظامیہ لوگوں کو باہر نکال سکتی ہے، حالاں کہ اس وقت پوری عمارت شعلوں کی لپیٹ میں نہ آئی ہو۔ اسی طرح کسی سرور میں سنگین کمزوری موجود ہو تو اسے عارضی طور پر بند کرنا احتیاطی اقدام ہو سکتا ہے۔ اس عمل کو ناکامی کے بجائے بعض حالات میں ذمہ دارانہ فیصلہ بھی سمجھا جانا چاہیے۔
مگر اس واقعے کا اصل اثر صرف ان ویب سائٹس تک محدود نہیں رہتا جو چند گھنٹوں یا چند دنوں کے لیے بند ہو جاتی ہیں۔ اس کے اثرات ان شعبوں تک پھیل سکتے ہیں جن کا انحصار انٹرنیٹ پر ہے۔ اگر کسی بینک کی آن لائن خدمات متاثر ہوں تو صارفین کو رقم کی منتقلی، اکاؤنٹ تک رسائی اور ادائیگیوں میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اگر کسی آن لائن تجارتی پلیٹ فارم کو بند کرنا پڑے تو فروخت، آرڈر وصول کرنے اور صارفین سے رابطے کا عمل رک سکتا ہے۔ اگر کسی سرکاری پورٹل کی خدمات دستیاب نہ ہوں تو شہریوں کو دستاویزات، درخواستوں، ٹیکس یا دوسری انتظامی کارروائیوں کے لیے انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح صحافت اور اطلاعات کی دنیا بھی اس صورتِ حال سے متاثر ہو سکتی ہے۔ اخبارات، خبر رساں اداروں اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کی ویب سائٹس عارضی طور پر بند ہوں تو قارئین تک معلومات کی رسائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ صورتِ حال خاص طور پر اس وقت زیادہ حساس ہو جاتی ہے جب کسی ملک میں سیاسی کشیدگی، قدرتی آفت یا ہنگامی صورتِ حال موجود ہو۔ ایسے وقت میں عوام کو مستند معلومات کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور ڈیجیٹل خدمات کی بندش افواہوں کو پھیلنے کا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔
تعلیم کا شعبہ بھی اس خطرے سے الگ نہیں۔ آن لائن کلاسیں، تعلیمی پورٹل، امتحانی نظام، ڈیجیٹل لائبریریاں اور تحقیقی پلیٹ فارم متاثر ہوں تو طلبہ اور اساتذہ کے کام میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے ریکارڈ، اپائنٹمنٹ کے نظام، لیبارٹری رپورٹس اور دیگر ڈیجیٹل خدمات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، اگر متعلقہ نظام متاثرہ سافٹ ویئر پر منحصر ہوں۔ تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر ہسپتال، ہر بینک یا ہر تعلیمی ادارہ پی ایچ پی کی خامیوں سے لازماً متاثر نہیں ہوتا۔ نقصان کا انحصار اس بات پر ہے کہ متعلقہ ادارہ کون سا سافٹ ویئر استعمال کرتا ہے اور اس کی حفاظتی تیاری کتنی مؤثر ہے۔
عالمی معیشت پر بھی اس نوعیت کے واقعات کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی تجارت، آن لائن اشتہارات، ڈیجیٹل ادائیگیوں، بکنگ سروسز اور کاروباری رابطوں میں تعطل پیدا ہو تو کمپنیوں کو مالی نقصان، اضافی اخراجات اور صارفین کے اعتماد میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بڑی کمپنیوں کے پاس اکثر ماہرین اور وسائل موجود ہوتے ہیں، مگر چھوٹے کاروبار، مقامی ادارے اور محدود بجٹ رکھنے والی تنظیمیں سکیورٹی اپ ڈیٹس، تکنیکی جانچ اور بحالی کے اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات محسوس کر سکتی ہیں۔
یہ بحران ایک اور حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ جدید دنیا میں کسی ایک سافٹ ویئر کی خامی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی۔ ایک ملک میں تیار ہونے والی ٹیکنالوجی دوسرے ملک میں استعمال ہو سکتی ہے، کسی تیسرے ملک کا سرور اسے چلا سکتا ہے اور اس سے وابستہ صارفین دنیا کے مختلف خطوں میں موجود ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائبر سکیورٹی کا مسئلہ اب صرف قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون کا تقاضا کرتا ہے۔ حکومتوں، سافٹ ویئر تیار کرنے والوں، ہوسٹنگ کمپنیوں، تحقیقی اداروں اور سائبر سکیورٹی ماہرین کو ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا اور بروقت حفاظتی اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی اس واقعے میں ایک اہم سبق موجود ہے۔ ہمارے ہاں بینکاری، ای کامرس، سرکاری خدمات، آن لائن تعلیم، صحافت اور کاروبار میں انٹرنیٹ کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اگر کسی عالمی سافٹ ویئر میں سنگین خامی پیدا ہوتی ہے تو پاکستان کے وہ ادارے بھی خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں جو اسی سافٹ ویئر کے متاثرہ ورژن استعمال کر رہے ہوں۔ تاہم تئیس اکتوبر 2026 تک سامنے آنے والی ان عالمی خبروں کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان میں ملک گیر انٹرنیٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
پاکستان میں عوامی سطح پر سب سے اہم ضرورت مستند معلومات کی فراہمی ہے۔ اگر کسی مخصوص ویب سائٹ کو بند کیا جائے تو متعلقہ ادارے کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ بندش حفاظتی اپ ڈیٹ کے لیے ہے، کسی حملے کی وجہ سے ہے یا کسی دوسرے انتظامی فیصلے کے تحت ہوئی ہے۔ اسی طرح اگر موبائل انٹرنیٹ یا براڈبینڈ کی کسی سروس میں خلل آئے تو اس کی وجہ معلوم کیے بغیر اسے عالمی سائبر بحران سے جوڑ دینا درست نہیں ہوگا۔
عام صارف کے لیے بھی چند احتیاطیں اہم ہیں۔ اپنے موبائل فون اور کمپیوٹر کے سافٹ ویئر کو تازہ رکھنا، مضبوط اور منفرد پاس ورڈ استعمال کرنا، دو مرحلوں پر مشتمل تصدیق فعال رکھنا، مشکوک لنکس سے بچنا اور اہم معلومات کا بیک اپ محفوظ رکھنا ڈیجیٹل حفاظت کے بنیادی اصول ہیں۔ ویب سائٹس کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ اپنے سرورز اور پی ایچ پی کے ورژنز کی جانچ کریں، متعلقہ حفاظتی اپ ڈیٹس نصب کریں اور مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ اگر وہ خود یہ کام نہیں کر سکتے تو اپنے ہوسٹنگ فراہم کنندہ یا تکنیکی ماہر سے فوری رابطہ کریں۔
یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سکیورٹی اپ ڈیٹس جاری ہونے کے بعد خطرہ خود بخود ختم نہیں ہو جاتا۔ ہر ادارے کو یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ اس نے درست اپ ڈیٹ نصب کر لی ہے، اس کے زیرِ استعمال دیگر مصنوعات بھی محفوظ ہیں اور اس کے نظام میں پہلے سے کوئی غیر مجاز سرگرمی تو نہیں ہوئی۔ اسی لیے سکیورٹی ماہرین فوری اپ ڈیٹ کے ساتھ مسلسل نگرانی اور ضرورت پڑنے پر متاثرہ نظاموں کی جانچ پر بھی زور دیتے ہیں۔
اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ مستقبل میں اے آئی کے ذریعے خامیوں کی دریافت اور ان سے فائدہ اٹھانے کی رفتار مزید بڑھ سکتی ہے۔ آج کسی ماہر ٹیم کو جس مسئلے کی نشاندہی اور تصدیق میں طویل وقت لگتا ہے، کل جدید ماڈلز اس کام کے بعض مراحل کو کہیں تیزی سے انجام دے سکتے ہیں۔ لیکن یہی پیش رفت دفاعی ٹیموں کو بھی پہلے سے زیادہ مؤثر بننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس لیے مستقبل کا انحصار صرف اے آئی کی طاقت پر نہیں ہوگا بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ دنیا کے ادارے اس طاقت کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں کیسے استعمال کرتے ہیں۔
انٹرنیٹ کے مکمل عالمی لاک ڈاؤن کا تصور یقیناً خوف پیدا کرتا ہے، مگر پی ایچ پی کی خامیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی عارضی ویب سائٹ بندشوں کو اس تصور کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ انٹرنیٹ ایک ہی کمپیوٹر یا ایک ہی پروگرام پر مشتمل نہیں بلکہ باہم منسلک نیٹ ورکس، سرورز اور خدمات کا وسیع نظام ہے۔ کسی پروگرامنگ زبان کی خامی اس نظام کے بعض حصوں کو متاثر کر سکتی ہے، مگر اس سے لازماً پوری دنیا کا انٹرنیٹ بند نہیں ہو جاتا۔ کسی عالمی بندش کے دعوے کے لیے الگ اور مضبوط شواہد درکار ہوں گے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ ضرور بتاتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں کوئی بھی ادارہ اپنی حفاظت کو معمولی نہیں سمجھ سکتا۔ ٹیکنالوجی پر ہمارا انحصار جتنا بڑھتا جائے گا، اس کی حفاظت کے لیے ہماری ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ ہمیں صرف نئی ایجادات پر فخر نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کے ممکنہ نقصانات کو سمجھنے، خطرات کی پیشگی شناخت کرنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنی چاہیے۔
اے آئی اور پی ایچ پی کی اس جنگ میں اصل مقابلہ دو مشینوں یا دو ٹیکنالوجیز کے درمیان نہیں بلکہ انسانی ذہانت، انسانی غفلت اور انسانی ذمہ داری کے درمیان ہے۔ مصنوعی ذہانت نے ایک خامی تلاش کرنے میں مدد دی، سافٹ ویئر کے ماہرین نے اس کا حل تیار کیا، حکومتوں نے اپنے نظاموں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے اور دنیا نے ایک بار پھر محسوس کیا کہ ڈیجیٹل تحفظ کے بغیر جدید ترقی کا تصور ادھورا ہے۔
شاید مستقبل میں سائبر سکیورٹی کے بحران مزید سامنے آئیں، شاید ویب سائٹس کو بار بار اپ ڈیٹ کرنا پڑے اور شاید اداروں کو اپنے نظاموں کی حفاظت پر پہلے سے زیادہ سرمایہ خرچ کرنا پڑے۔ لیکن اس کا حل خوف، افواہ یا انٹرنیٹ کے مکمل خاتمے کی پیش گوئی میں نہیں بلکہ تیاری، تعاون اور بروقت کارروائی میں پوشیدہ ہے۔
کیونکہ آنے والے زمانے میں دنیا کو صرف یہ نہیں دیکھنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کتنی تیزی سے سوچ سکتی ہے، بلکہ یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ انسان اس کی پیدا کردہ طاقت کو اپنی حفاظت کے لیے کس قدر دانش مندی سے استعمال کرتا ہے۔
مزید پڑھیں




