اماراتی شہزادی کوکین کی زیادتی کے بعدلندن کی سڑکوں پر بے ہوش پائی گئیں

متحدہ عرب امارات (ابوظہبی) کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ شہزادی مہرہ آل نہیان (Mahrah Al Nahyan) کوکین کی زیادتی کے بعد مغربی لندن کی ایک سڑک پر بے ہوش پائی گئیں-
برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادی مہرہ لندن کی ایک مصروف سڑک پر لوہے کے جنگلے (railings) کے ساتھ بے ہوش (slumped) حالت میں پائی گئیں۔ پولیس کے پہنچنے کے بعد بھی وہ تقریباً آدھے گھنٹے تک ہوش میں نہیں آئیں، جس وقت وہ نشے کی حالت میں سڑک پر گریں، وہ ایک 3 سالہ بچے کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔ وہ بچہ ننگے پاؤں سڑک کے قریب اکیلا کھیل رہا تھا، جس پر راہگیروں نے پولیس کو اطلاع دی۔
وہ شادی کے بعد ابوظہبی کے حکمران شاہی خاندان کا حصہ بنی ہیں۔ یہ خاندان جو دنیا کے امیر ترین اور طاقتور ترین خاندانوں میں سے ایک ہے—اس کے اثاثوں کی مالیت کا تخمینہ 250 ارب پاؤنڈ سے زائد لگایا گیا ہے، اور یہ عالمی سرمایہ کاری اور تیل کے ذخائر پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
استغاثہ کی جانب سے ریو پہلوان پور نے بتایا کہ وہاں سے گزرنے والے افراد نے دیکھا کہ "ایک بچہ سڑک پر اکیلا ہے، اس کے پاؤں میں جوتے نہیں ہیں اور اس کے پاس ایک سکوٹر ہے۔ چونکہ بچہ چلتی ہوئی ٹریفک کے انتہائی قریب دکھائی دے رہا تھا، اس لیے عام شہریوں نے مداخلت کی۔
مغربی لندن میں پولیس کے موقع پر پہنچنے کے بعد، النہیان آدھے گھنٹے تک کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کر سکیں جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے غیر معمولی رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیخ کر کہا: "یہ کوئی قصاب خانہ نہیں ہے، آپ کو اتنی پرواہ کیوں ہے؟ آپ لوگ اتنے پریشان کیوں ہیں؟"
'دی ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق، جب پولیس افسران نے اس کی تلاشی لی تو انہیں منشیات کے استعمال کا سامان تو ملا، لیکن کوئی ممنوعہ نشہ آور مادہ برآمد نہیں ہوا۔
لندن کی آئزس ورتھ کراؤن کورٹ (Isleworth Crown Court) میں سماعت کے دوران انہوں نے بچے کی دیکھ بھال میں غفلت برتنے (child neglect) کے الزام کا اعتراف کر لیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ انہوں نے واقعے سے قبل کئی روز تک مسلسل کوکین کا استعمال کیا تھا-
عدالت کو بتایا گیا کہ جون میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سے، وہ سرے (Surrey) کے علاقے ووکنگ میں واقع 'پرائوری سینٹر' (Priory centre) میں منشیات کی لت سے چھٹکارے کے لیے زیرِ علاج ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی موکلہ نے جرم کے دن کوئی نشہ نہیں کیا تھا، تاہم وہ شدید تھکن کا شکار تھیں کیونکہ انہوں نے گزشتہ دنوں کوکین کا استعمال کیا تھا قریب مستقبل کے حوالے سے ان کا ارادہ تین ماہ پر محیط پروگرام کے تمام مراحل مکمل کرنے کا ہے، جو اسی مہینے کے اختتام پر مکمل ہو جائے گا۔"
"اس کے بعد ان کا منصوبہ گلڈ فورڈ (Guildford) کے علاقے میں رہائش کرائے پر لینے اور وہاں بطور 'ڈے پیشنٹ' (day patient) رہنے کا ہے، جہاں وہ 'نارکوٹکس اینانیمس' (Narcotics Anonymous) کے اجلاسوں میں شرکت کریں گی،اس دن اس سے ایک بہت بڑی غلطی ہوئی اور وہ یہ بات جانتی ہے۔
جسٹس جانسن کے سی (KC) نے النہیان کو دو سالہ ’کمیونٹی آرڈر‘ (سماجی نوعیت کی سزا) سنائی، جس میں بحالی (rehabilitation) کے عمل سے گزرنے کی شرط بھی شامل ہےجج نے اس پر 5,000 پاؤنڈ کا جرمانہ بھی عائد کیا اور 1,000 پاؤنڈ عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا؛ یہ فیصلہ اس بات کو سننے کے بعد کیا گیا کہ اسے ماہانہ 8,000 پاؤنڈ کا الاؤنس ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نشے کی حالت میں بچے کو گلی میں ننگے پاؤں کھیلنے کے لیے چھوڑ دینا، آپ کی انتہائی لاپرواہی اور بچے کی حفاظت سے بے اعتنائی کو ظاہر کرتا ہےایک موقع پر، وہ کاغذ کے ایک ٹکڑے کے پیچھے بھاگتے ہوئے سڑک کی جانب نکل گیا، یہاں تک کہ وہاں موجود ایک عام شہری نے اسے روک لیا اگر اجنبی لوگ بروقت مداخلت نہ کرتے تو شدید خطرہ تھا کہ بچہ بری طرح زخمی ہو سکتا تھا یا اس سے بھی بدتر کچھ ہو سکتا تھا۔ وہ بھاگ سکتا تھا یا کہیں کھو سکتا تھا،ہو سکتا تھا کہ کوئی اجنبی اسے اٹھا لے جاتا یا اسے نقصان پہنچاتا، اور سڑک پر آپ اور آپ کے ساتھی کو بے ہوش دیکھ کر وہ شدید صدمے یا پریشانی کا شکار بھی ہو سکتا تھا۔





