ڈیجیٹل دور میں آنکھوں کی حفاظت، آپٹیشن کا کردار،تحریر: انجینیئر علی رضوان چودھری
نقطہ نظر
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ موبائل فون، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور دیگر ڈیجیٹل آلات ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ تعلیم ہو، کاروبار ہو، ملازمت ہو یا تفریح، ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ اسکرین کے سامنے گزرتا ہے۔ سہولت اور رفتار کے اس دور نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں آنکھوں کے لیے نئے چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔ آنکھوں میں تھکن، خشکی، جلن، پانی آنا، دھندلا دکھائی دینا، سر درد اور قریب کی چیزوں پر مسلسل توجہ برقرار رکھنے میں دشواری جیسی شکایات عام ہوتی جا رہی ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف موبائل یا کمپیوٹر کو ذمہ دار قرار دے دینا کافی ہے؟ یقیناً نہیں۔ آنکھوں کی صحت کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ ہم اسکرین کو کس فاصلے پر، کتنے وقت تک، کس روشنی میں اور کس انداز سے استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو بصارت کی کمزوری ہے تو درست نظر کا معائنہ اور مناسب چشمہ بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ڈیجیٹل اسکرین استعمال کرتے وقت سب سے بنیادی احتیاط یہ ہے کہ آنکھوں کو مسلسل ایک ہی فاصلے پر مرکوز رکھنے کے بجائے وقفہ دیا جائے۔ ماہرین کی جانب سے عام طور پر 20-20-20 اصول کا مشورہ دیا جاتا ہے، یعنی تقریباً ہر 20 منٹ بعد 20 سیکنڈ کے لیے تقریباً 20 فٹ دور کسی چیز کو دیکھا جائے۔ اس معمول سے آنکھوں کو مسلسل قریب دیکھنے کے دباؤ سے وقفہ مل سکتا ہے۔
اسکرین کی چمک بھی مناسب ہونی چاہیے۔ بہت زیادہ روشن یا بہت مدھم اسکرین آنکھوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔ کمرے کی روشنی اور اسکرین کی روشنی میں بہت زیادہ فرق نہ ہو۔ موبائل فون کو آنکھوں کے بالکل قریب رکھ کر مسلسل استعمال کرنے کے بجائے مناسب فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے۔ خاص طور پر بچوں کو موبائل فون دیتے وقت والدین کو اسکرین ٹائم، فاصلے اور وقفوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
ایک اور اہم مسئلہ پلکیں جھپکنے کی کمی ہے۔ اسکرین کو غور سے دیکھتے ہوئے انسان لاشعوری طور پر کم پلکیں جھپکاتا ہے، جس سے آنکھوں کی سطح پر خشکی اور بے آرامی محسوس ہو سکتی ہے۔ اس لیے اسکرین استعمال کرتے ہوئے شعوری طور پر پلکیں جھپکانے اور وقفے لینے کی عادت مفید ہے۔
یہاں آپٹیشن کا کردار بھی بہت اہم ہو جاتا ہے۔ آپٹیشن کا کام صرف چشمہ بنا کر صارف کے حوالے کرنا نہیں بلکہ بصارت سے متعلق بنیادی ضروریات کو سمجھنا، درست پیمائش کے مطابق چشمہ تیار کرنا، مناسب فریم اور لینز کے انتخاب میں رہنمائی دینا اور صارف کو چشمے کے درست استعمال کے بارے میں آگاہ کرنا بھی ہے۔ اگر کسی شخص کو بار بار سر درد، دھندلا پن، آنکھوں میں تکلیف یا نظر میں واضح تبدیلی محسوس ہو تو صرف اپنی مرضی سے چشمہ تبدیل کرنے کے بجائے مناسب بصری معائنہ کروانا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
کانٹیکٹ لینز استعمال کرنے والوں کے لیے بھی احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ لینز کا انتخاب، فٹنگ، صفائی، ذخیرہ اور استعمال مقررہ ہدایات کے مطابق ہونا چاہیے۔ کانٹیکٹ لینز کو غیر ضروری طور پر زیادہ دیر پہننا یا صفائی کے اصولوں کو نظر انداز کرنا آنکھوں کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ آنکھ میں درد، شدید سرخی، روشنی سے غیر معمولی حساسیت یا اچانک نظر متاثر ہونے کی صورت میں لینز کا استعمال روک کر فوری طور پر ماہرِ چشم سے رابطہ کرنا چاہیے۔
بچوں کی بصارت پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر بچہ کتاب بہت قریب لا کر پڑھتا ہے، ٹی وی یا موبائل کے قریب بیٹھتا ہے، آنکھیں بار بار ملتا ہے، دور کی چیزیں دیکھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے یا اسکول میں بورڈ واضح نہیں دیکھ پاتا تو والدین کو اسے معمولی عادت سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت بصری معائنہ مستقبل میں پیدا ہونے والی مشکلات کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آنکھوں کی حفاظت صرف چشمہ پہننے کا نام نہیں۔ مناسب نیند، متوازن غذا، اسکرین کے استعمال میں اعتدال، مناسب روشنی، باقاعدہ وقفے اور ضرورت کے مطابق بصارت کا معائنہ—یہ سب آنکھوں کی دیکھ بھال کا حصہ ہیں۔
ڈیجیٹل دور ختم ہونے والا نہیں؛ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا مزید اہم حصہ بنے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو چھوڑنے کے بجائے اسے ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا سیکھیں۔ آپٹیشن اس سفر میں عوام کی رہنمائی کرنے والا اہم کردار ادا کر سکتا ہے، لیکن آنکھوں کی بیماری یا پیچیدہ مسئلے کی تشخیص اور علاج کے لیے ماہرِ چشم سے رجوع ضروری ہے۔
آخرکار ہماری آنکھیں صرف دیکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ قدرت کی ایک عظیم نعمت ہیں۔ موبائل کی اسکرین چند لمحوں کی تفریح دے سکتی ہے، کمپیوٹر روزگار کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر ان سب سے بڑھ کر ضروری ہے کہ ہم اپنی بصارت کی حفاظت کریں۔ کیونکہ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کو آسان بنا سکتی ہے، لیکن دنیا کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے صحت مند آنکھیں ہی اصل سرمایہ ہیں۔
مزید پڑھیں





