کتنے حسین لوگ تھے کتنے تھے سربلند،شاعر،زبیر احمد
نقطہ نظر
مصنف:
منقبت در مدحت ِاصحاب ِ احد
۔
کتنے حسین لوگ تھے کتنے تھے سربلند
آقا سے فیض یاب ستاروں پہ تھی کمند
اک ایک قول یاد تھا ان کو رسول کا
فرمان ایک ایک پہ رہتے تھے کاربند
آقا نے جس سے روک دیا تو وہ رک گئے
اّن کو تھا وہ پسند جو آقا کو تھا پسند
میدان چھوڑ کر کہیں بھاگے نہیں تھے وہ
اب تک سمجھ نہیں رہے گنتی کے لوگ چند
کرتا رہوں گا مدحت اصحاب مصطفی
کرتا رہوں گا بخت کو اپنے یونہی بلند
زبیر احمد
مزید پڑھیں





