نوجوانوں میں اضطراب اور بے چینی،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

موجودہ دور میں ہماری نوجوان نسل جس تیز رفتار اور پیچیدہ سماجی و معاشی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، اس نے ان کے اندازِ فکر اور نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ آج کا نوجوان چاہے وہ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہو یا زندگی کی عملی دوڑ میں قدم رکھ چکا ہو، ایک عجیب طرح کی بے نام بے چینی اور مسلسل اضطراب کا شکار نظر آتا ہے۔ اعتماد کی کمی اور مستقبل کی بے رحم فکر نے ان کے ذہنوں کو اس طرح گھیر رکھا ہے کہ وہ اپنی ہی صلاحیتوں پر شک کرنے لگے ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مناسب اور باوقار روزگار کا حصول، معاشی ناہمواری، اور معاشرے میں خود کو ایک کامیاب فرد کے طور پر ثابت کرنے کی ترپ بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ شدید ذہنی تناؤ اور خوف کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس بحران کی سب سے بڑی وجہ وہ غیر حقیقی توقعات اور تقابلی دوڑ ہے جو سوشل میڈیا اور ہماری سماجی بناوٹ نے مل کر پیدا کر دی ہے۔ ہر شخص دوسرے کی ظاہری کامیابی دیکھ کر اپنے اندر ایک محرومی اور ناکامی کا احساس پروان چڑھانے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں اندرونی سکون رخصت ہو جاتا ہے اور اضطراب جڑ پکڑنے لگتا ہے۔
اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ ذہنی اور نفسیاتی دباؤ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں میں پایا جاتا ہے، لیکن دونوں کے تجربات، سماجی حیثیت اور ان سے وابستہ توقعات کے باعث اس کی نوعیت میں کچھ واضح فرق موجود ہیں۔
سب سے پہلے لڑکوں کا ذکر کیا جائے تو ان پر معاشی اور خاندانی کفالت کا ایک بہت بڑا بوجھ بچپن ہی سے ڈال دیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں مرد کی کامیابی کا واحد معیار اس کی مالی استقامت اور مادّی وسائل کی فراہمی کو سمجھا جاتا ہے۔ گاڑی، گھر اور بینک بیلنس کی یہ شرط کسی بھی نوجوان لڑکے کے لیے ایک ایسا ناپید خواب بن جاتی ہے جس کی تعبیر حاصل نہ ہونے کی صورت میں وہ خود کو معاشرے کی نظروں میں گرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ کیریئر کے ابتدائی مراحل میں ذرا سی ناکامی یا تاخیر اسے اس خوف میں مبتلا کر دیتی ہے کہ وہ ایک ناکام مرد ثابت ہو رہا ہے۔
اس کے برعکس لڑکیوں کے مخصوص چیلنجز بالکل مختلف نوعیت کے ہیں۔ ہماری باصلاحیت اور تعلیم یافتہ لڑکیاں اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کے باوجود اکثر اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے اور خاندانی یا سماجی پابندیوں کے درمیان ایک کٹھن کشمکش سے گزرتی ہیں۔ انہیں بیک وقت پیشہ ورانہ زندگی میں خود کو ثابت کرنے اور مستقبل میں گھریلو ذمہ داریوں کو سنبھالنے کا دوہرا دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد کیریئر کا کیا بنے گا اور کیا وہ اپنے خوابوں کو پورا کر سکیں گی، یہ سوالات لڑکیوں کو مسلسل بے چین رکھتے ہیں۔
ان الگ الگ چیلنجز کے ساتھ ساتھ دونوں اصناف میں چند انتہائی سنگین مشترکہ مسائل بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں اپنی ذات پر عدم اعتماد، ہر وقت کسی نامعلوم ناکامی کا خوف، اور اندرونی تنہائی کا احساس ہے۔ نوجوان اپنے اندر اٹھنے والے اس طوفان اور گھبراہٹ کو اپنے والدین یا دوستوں سے شیئر کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ لوگ انہیں کمزور یا نالائق سمجھیں گے۔ یہ خاموش گھٹن ان کے اعصاب کو مزید مفلوج کر دیتی ہے۔ ان حالات سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان چند بنیادی اور عملی طریقے اپنی زندگی میں شامل کریں۔ سب سے پہلے انہیں دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ کرنا بند کرنا ہوگا۔ زندگی کی دوڑ میں ہر انسان کا سفر اور وقت الگ ہوتا ہے۔ مستقبل کے بڑے اور خوفناک اہداف کو ایک ساتھ دیکھنے کے بجائے روزمرہ کے چھوٹے اور قابلِ حصول اہداف مقرر کرنے چاہئیں۔ ناکامی کو زندگی کا اختتام سمجھنے کے بجائے اسے ایک نیا سبق مان کر آگے بڑھنا چاہیے اور اپنے جذبات کا اظہار اپنے پیاروں کے سامنے کھل کر کرنا چاہیے۔ جسمانی مشقت، متوازن خوراک اور مناسب نیند بھی اعصابی تناؤ کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں مریض کی نفسیاتی علامات اور شخصیت کو مدنظر رکھ کر ادویات تجویز کی جاتی ہیں جو اعصابی نظام کو قدرتی طور پر متوازن کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی نوجوان کو مستقبل کی فکر، امتحان یا انٹرویو سے پہلے شدید گھبراہٹ، دست لگنا، اور ناکامی کا دل دہلا دینے والا خوف ہو تو 'جیلسی میئم' ایک بہترین دوا ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر بے چینی اس قدر شدید ہو کہ مریض ایک جگہ ٹک کر نہ بیٹھ سکے، راتوں کو نیند نہ آئے، اور موت یا ناکامی کا خوف مسلسل سوار رہے تو 'آرسنک البم' ایسے اضطراب کو دور کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔
بعض اوقات نوجوان ماضی کی غلطیوں یا کسی بڑے صدمے کی وجہ سے خاموش افسردگی اور دل ہی دل میں گھٹنے کے عارضے میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جہاں وہ کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، ایسی صورت حال میں 'اگناشیا' بہترین علاج فراہم کرتی ہے۔ وہ نوجوان جو دن رات پڑھائی یا کام کے دباؤ کے باعث ذہنی طور پر مفلوج محسوس کرتے ہیں، جن کی یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے اور معمولی بات پر غصہ یا چڑچڑاپن آتا ہے، ان کے لیے 'نکس بھومیکا' اور 'کالی فاس ' اعصابی تقویت کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتی ہیں۔ اگر نوجوان کے اندر شدید احساسِ کمتری ہو، اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت ختم ہو رہی ہو اور وہ خود کو دوسروں سے کم تر سمجھے تو 'سلیکون' اس کے اندر خود اعتمادی کو بحال کرنے میں مدد دیتی ہے۔
نوجوان نسل ہمارا اصل اثاثہ ہے۔ انہیں اضطراب اور بے چینی کی دلدل سے نکالنے کے لیے مثبت سوچ، صحیح سمت اور معاشرتی تعاون کی ضرورت ہے۔





