بدلتے حالات اور پاکستان،تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ
نقطہ نظر
کیا یہ سچ ہے کہ مستقبل کے فیصلے آج کرنا ہوں گے
جی ہاں دنیا بدل رہی ہے، بلکہ شاید ہماری سوچ سے بھی زیادہ تیزی سے بدل رہی ہے۔ کبھی طاقت کا معیار بڑی فوج، وسیع رقبہ اور قدرتی وسائل ہوا کرتا تھا، مگر آج دنیا کی طاقت کا پیمانہ معیشت، ٹیکنالوجی، علم، مصنوعی ذہانت، توانائی، تعلیم، پیداوار اور مضبوط ادارے بن چکے ہیں۔ جو ممالک اس تبدیلی کو سمجھ کر اپنے فیصلے کر رہے ہیں وہ آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ جو قومیں ماضی کے طریقوں سے چمٹی ہوئی ہیں وہ بدلتی دنیا میں اپنے لیے جگہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔زمینی حقائق بتائیں گے ہم آج کہاں کھڑے ہیں ہمارا مستقبل کیا ہوگا ۔آج ہم اپنے قارئین کو اس کے بارے میں آگاہ کریں گے ۔
پاکستان بھی اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔جسکا راستہ تلاش کرنے کے لئے لالٹین نہیں جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے ۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دنیا ہمارے انتظار میں نہیں۔ عالمی تجارت کے راستے بدل رہے ہیں، مصنوعی ذہانت معیشت اور روزگار کی نوعیت تبدیل کر رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی زراعت اور پانی کو متاثر کر رہی ہے، توانائی عالمی سیاست کا اہم ترین موضوع بن چکی ہے اور مختلف خطوں میں کشیدگی نے معیشت کو براہِ راست متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان کے سامنے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ دنیا کہاں جا رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کو کہاں جانا ہے؟یہ ایک بہت اہم سوال ہے جس کا جواب یقیناً ہم چاہتے ہیں
تاریخ کا طالب علم جب ماضی پر نظر ڈالتا ہے تو ایک حقیقت بالکل واضح نظر آتی ہے کہ قومیں صرف وسائل سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ وسائل کے درست استعمال، مضبوط اداروں، مسلسل پالیسی اور اجتماعی سوچ سے ترقی کرتی ہیں۔ پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، نوجوان آبادی بھی، زرعی زمین بھی، معدنی ذخائر بھی، سمندر بھی، جغرافیائی اہمیت بھی اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے لاکھوں پاکستانی بھی۔ کمی اگر ہے تو ان وسائل کو قومی طاقت میں تبدیل کرنے کی مستقل اور مربوط حکمت عملی کی ہے۔جسکا فقدان آج تک ہے
آج ہماری سب سے بڑی ضرورت معاشی استحکام کے ساتھ معاشی خود انحصاری ہے۔
ہمیں قرضوں کے دائرے سے نکلنے کے لیے صرف اخراجات کم نہیں کرنے بلکہ اپنی پیداوار بڑھانی ہوگی۔اگر اخراجات کی بات کی جائے تو یہ حقیقت ہے کہ ہم نے اپنے اخراجات کے حوالہ سے حاتم طائی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے معیشت کا ذکر کیا جائے تو ہم دنیا کو کیا فروخت کرسکتے ہیں، یہ سوال ہماری قومی پالیسی کا مرکز ہونا چاہیے۔ ٹیکسٹائل، زراعت، آئی ٹی، معدنیات، انجینئرنگ، فوڈ پروسیسنگ، حلال مصنوعات اور دیگر شعبوں میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات بڑھانا ہوں گی۔
صرف خام مال بیچنے والی قومیں محدود آمدنی حاصل کرتی ہیں، جبکہ خام مال کو تیار مصنوعات میں تبدیل کرنے والی قومیں اپنی معیشت کو مضبوط کرتی ہیں۔
پاکستان کی زراعت بھی ایک نئے دور کی منتظر ہے۔ ہمارا کسان آج بھی پانی، مہنگی کھاد، بیج، بجلی، موسمی خطرات اور منڈی کے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ہمیں زراعت کو صرف فصل اگانے کا عمل نہیں بلکہ ایک مکمل زرعی صنعت بنانا ہوگا۔ جدید آبپاشی، زرعی تحقیق، کولڈ اسٹوریج، فوڈ پروسیسنگ اور برآمدی نظام کو دیہی معیشت سے جوڑنا ہوگا۔
اور اس سب کے درمیان پانی کا مسئلہ شاید آنے والے وقت کا سب سے بڑا سوال بننے والا ہے۔
جس ملک کے پاس پانی محفوظ نہیں، اس کی زراعت، خوراک اور معیشت محفوظ نہیں ہوسکتی۔ ہمیں پانی کے ضیاع کو روکنے، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، جدید آبپاشی اختیار کرنے اور زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
لیکن پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ زمین یا معدنیات نہیں، پاکستان کا نوجوان ہے۔
یہ نوجوان اگر بے ہنر ہے تو بوجھ بن سکتا ہے، لیکن اگر تعلیم، ہنر، ٹیکنالوجی اور روزگار سے جڑ جائے تو یہی نوجوان پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتا ہے۔
آج دنیا میں ایک نوجوان پاکستان میں بیٹھ کر امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ یا کسی بھی دوسرے خطے کے لیے کام کرسکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سائبر سیکیورٹی اور ای کامرس نے روزگار کی جغرافیائی حدود بدل دی ہیں۔
اس لیے ہمیں اپنی تعلیمی پالیسی پر بھی نئے سرے سے غور کرنا ہوگا۔
ہمیں صرف ڈگریاں نہیں، قابلِ استعمال ہنر چاہیے۔
ہمیں ایسے نوجوان چاہیے جو ملازمت تلاش کرنے کے ساتھ ملازمت پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔
پاکستان کے مستقبل کا ایک اور اہم فیصلہ توانائی کے شعبے میں ہوگا۔ صنعت سستی اور قابلِ اعتماد بجلی کے بغیر عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ہمیں شمسی، پن بجلی، ہوا اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع کے ساتھ ایک ایسا توانائی نظام تشکیل دینا ہوگا جو عام آدمی، صنعت اور زراعت تینوں کے لیے قابلِ برداشت ہو۔
لیکن ترقی صرف معیشت کا نام نہیں۔
ایک ایسا ملک جہاں عام شہری کو انصاف کے لیے سالہا سال انتظار کرنا پڑے، جہاں سرکاری اداروں میں شفافیت کا فقدان ہو، جہاں پالیسیوں کا تسلسل نہ ہو اور جہاں میرٹ پر سوال اٹھتے رہیں، وہاں معاشی ترقی بھی دیرپا نہیں ہوسکتی۔
پاکستان کو سیاسی اختلافات کے باوجود کچھ بنیادی قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ تعلیم، صحت، پانی، توانائی، برآمدات، صنعتی ترقی اور نوجوانوں کے روزگار کو حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومتیں پانچ سال کے لیے آتی ہیں، مگر قومیں صدیوں کے لیے بنتی ہیں۔
آج پاکستان کو جذباتی نعروں سے زیادہ حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ اگلے دس، بیس اور تیس سال میں پاکستان کی معیشت کہاں ہوگی، ہماری صنعت کیا پیدا کرے گی، ہماری زراعت دنیا کو کیا دے گی، ہمارے نوجوان کون سے ہنر سیکھیں گے اور دنیا میں پاکستان کی شناخت کیا ہوگی۔
دنیا بدل چکی ہے اور تبدیلی کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔
پاکستان کے پاس دو راستے ہیں: یا ہم بدلتی دنیا کو دیکھتے رہیں اور ہر بحران کے بعد وقتی حل تلاش کرتے رہیں، یا آج ہی اپنے مستقبل کے بنیادی فیصلے کرلیں۔
تاریخ قوموں کو موقع دیتی ہے، لیکن موقع ہمیشہ دروازے پر دستک نہیں دیتا۔
پاکستان کے پاس آج بھی وقت ہے، وسائل ہیں، نوجوان ہیں، صلاحیت ہے اور مواقع موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اختلافات سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد کو ترجیح دیں، اداروں کو مضبوط کریں، معیشت کو پیداوار سے جوڑیں، تعلیم کو ہنر سے ملائیں اور اپنی خارجہ و معاشی پالیسی کو بدلتی دنیا کے تقاضوں کے مطابق تشکیل دیں۔
کیونکہ آنے والی نسلیں ہم سے یہ نہیں پوچھیں گی کہ ہمارے دور میں کون جیتا اور کون ہارا۔
وہ صرف یہ پوچھیں گی:
جب دنیا بدل رہی تھی تو آپ نے پاکستان کے مستقبل کے لیے کیا فیصلہ کیا تھا؟
یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آج ہمیں دینا ہے، کیونکہ مستقبل خود نہیں بنتا، مستقبل کے فیصلے آج کرنے پڑتے ہیں۔اخر کب تک
مزید پڑھیں





