Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خاموشی کا قفل اورقلم کی بغاوت،تحریر:مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

آج کے جدید لیکن فکری طور پر پسماندہ دور میں جب سچ بولنا، لکھنا اور اسے تسلیم کرنا ایک مشکل ترین عمل بن چکا ہے، قلم کی اہمیت اور اس کی حرمت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشرے جمود کا شکار ہوئے، استحصالی قوتوں نے سر اٹھایا اور عام انسان کی آواز کو دبایا گیا، تو یہ قلم ہی تھا جس نے خاموشی کا قفل توڑا۔ قلم صرف کاغذ پر بکھری سیاہی یا چند الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ مظلوم کی وہ طاقتور اور بے باک آواز ہے جو ایوانوں کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ معاشرے کے ان تاریک گوشوں میں سچائی کی روشنی پھیلاتا ہے جہاں عام طور پر مصلحتوں کے اندھیرے راج کر رہے ہوتے ہیں۔ایک حقیقی اور باضمیر لکھاری کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اردگرد پھیلی ناانصافیوں، عورتوں کے حقوق کی پامالی، طبقاتی تفریق اور سماجی ناہمواریوں پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنے لفظوں کو ڈھال بنائے۔ ہماری اخلاقی اور ادبی ذمہ داری صرف خوبصورت اور سحر انگیز الفاظ بننا یا خیالی دنیا کی عکاسی کرنا نہیں ہے، بلکہ ان تلخ اور ننگی سچائیوں کو بے نقاب کرنا ہے جن سے معاشرہ اکثر خوف یا لاپرواہی کی وجہ سے آنکھیں چرا لیتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں مثبت اور پائیدار تبدیلی تب تک جنم نہیں لے سکتی جب تک کہ وہاں کا قلم کار کسی خوف، دباؤ یا ذاتی لالچ کے بغیر حق کا ساتھ نہ دے۔ ادیب اور کالم نگار کا کام صرف مسائل کی نشاندہی کرنا ہی نہیں، بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے عوام میں شعور اور بیداری کی ایسی لہر دوڑانا ہے جو انہیں سوچنے پر مجبور کر دے۔یہاں یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ "بغاوت" کا مطلب ہمیشہ انتشار، افراتفری یا قانون شکنی نہیں ہوتا۔ ادب کی زبان میں بغاوت سے مراد ظلم، جہالت، کرپشن اور صدیوں پرانی فرسودہ روایات کے خلاف فکری طور پر کھڑے ہونا ہے۔ یہ معاشرتی برائیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کا نام ہے۔


جب ہم اپنے اردگرد کسی غریب کا حق مارے جاتے دیکھتے ہیں، جب کسی بیٹی کو تعلیم اور بنیادی حقوق سے محروم کیا جاتا ہے، یا جب انصاف کے ترازو کو بکتے دیکھتے ہیں، تو اس وقت ایک سچے لکھاری کا ضمیر تڑپ اٹھتا ہے۔ اس تڑپ کو جب الفاظ کا روپ دیا جاتا ہے، تو وہ "قلم کی بغاوت" کہلاتی ہے۔ یہ بغاوت دراصل امن، انصاف اور انسانیت کی بحالی کی ایک پرامن جدوجہد ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشرے میں جہاں بہت سے سماجی مسائل جڑ پکڑ چکے ہیں، قلم کاروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جب تک ہمارے معاشرے کے کسی بھی کونے میں ایک بھی مظلوم موجود ہے، جب تک طبقاتی نظام غریب کو کچل رہا ہے، تب تک قلم کو اپنی فکری جنگ جاری رکھنی ہوگی۔ الفاظ کی یہ جنگ مصلحتوں، ذاتی مفادات اور وقتی فائدوں سے بالاتر ہو کر ہی جیتی جا سکتی ہے۔ یہی ایک سچے قلم کار کا اصل امتحان اور اس کی معراج ہے۔لہٰذا، اگر ہمیں ایک فلاحی اور شعور یافتہ معاشرہ تشکیل دینا ہے، تو ہمیں اپنے قلم کو امانت سمجھ کر استعمال کرنا ہوگا۔ سچائی کا راستہ کٹھن ضرور ہے، لیکن یہی وہ راستہ ہے جو دیرپا تبدیلی لاتا ہے اور تاریخ میں لکھنے والے کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتا ہے۔ ایک باضمیر لکھاری کبھی اپنے لفظوں کا سودا نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ آنے والی نسلوں کی سوچ کا رخ متعین کرے گا۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL