Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جب استاد کا منصب، طالبہ کے خوف میں بدل جائے،تحریر:شمسہ رانی

نقطہ نظر
shamsa rani

تعلیمی ادارے صرف اینٹوں، کتابوں اور لیکچر ہالز کا مجموعہ نہیں ہوتے۔ یہ وہ جگہیں ہیں۔ جہاں ایک قوم اپنی آنے والی نسلوں کے خواب رکھتی ہے۔ استاد اس خواب کا محافظ ہوتا ہے، مگر جب یہی منصب اعتماد کے بجائے خوف کی علامت بننے لگے تو سوال صرف ایک طالبہ کا نہیں رہتا، پورے تعلیمی نظام کی روح کٹہرے میں آ کھڑی ہوتی ہے۔


حالیہ دنوں رحیم یار خان کی خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق سوشل میڈیا پر بعض ایسے مبینہ پیغامات سامنے آئے جن میں ایک طالبہ نے ایک لیکچرار پر نامناسب رابطوں، ملاقات کے لیے دباؤ اور انکار کی صورت میں تعلیمی نقصان کی دھمکیوں کے الزامات عائد کیے۔ معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ دستیاب اسکرین شاٹس اور دیگر ریکارڈ کی بنیاد پر حقائق کا تعین کیا جا سکے۔


یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے: الزام اور جرم ایک چیز نہیں۔ کسی بھی شخص کے خلاف حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات ضروری ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی پوری شدت سے موجود ہے کہ اگر کسی طالبہ کو واقعی اس نوعیت کے دباؤ، ہراسانی یا تعلیمی انتقام کا سامنا کرنا پڑا تو اسے انصاف کے لیے کتنے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں گے؟


استاد اور طالبہ کا تعلق اعتماد کا تعلق ہے۔ استاد کے ہاتھ میں صرف قلم نہیں ہوتا، اس کے پاس نمبروں، گریڈز اور طالب علم کے مستقبل پر اثر انداز ہونے کی طاقت بھی ہوتی ہے۔ یہی طاقت اگر ذاتی مفاد کے لیے استعمال ہونے لگے تو یہ محض بد اخلاقی نہیں رہتی، اختیار کے ناجائز استعمال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔


ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ وہ تعلیم حاصل کریں؛ ہمیں انہیں یہ اعتماد بھی دینا ہوگا کہ اگر کوئی بااختیار شخص انہیں خوف زدہ کرے، نامناسب رویہ اختیار کرے یا ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے تو وہ خاموش رہنے پر مجبور نہیں ہیں۔


اور والدین کے لیے بھی یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔


گھر وہ پہلی درس گاہ ہے جہاں بیٹی کو یہ یقین ملنا چاہیے کہ اگر کبھی اس کے ساتھ کوئی غلط رویہ اختیار کرے تو اسے ڈانٹ نہیں، پہلے سنا جائے گا؛ اسے موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جائے گا بلکہ اس کی بات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ بہت سے واقعات اس لیے خاموشی میں دفن ہو جاتے ہیں کہ متاثرہ لڑکی کو یہ خوف ہوتا ہے کہ گھر والے خود اسی سے سوال کریں گے۔


خاموشی ہمیشہ شرافت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی ظالم کے لیے سب سے محفوظ پناہ گاہ بن جاتی ہے۔


تاہم اس مسئلے کا حل محض سوشل میڈیا پر کسی فرد کو رسوا کرنا بھی نہیں۔ اصل حل شفاف ادارہ جاتی نظام ہے؛ ایسا نظام جہاں شکایت کرنے والی طالبہ کو انتقام کا خوف نہ ہو، ۔جہاں شکایت کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں، جہاں شوائد محفوظ کیے جائیں اور جہاں ثابت ہونے والی خلاف ورزی پر بالا امتیاز کارؤائی ہو۔

تعلیمی ادارے کسی فرد کی جاگیر نہیں ہوتے ۔یونیورسٹی کی دیواروں کے اندر کسی طالبہ کا مستقبل کسی کی ذاتی خواہش کا یر غمال نہیں بن سکتا ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات مکمل شفافیت غیر جانبداری اور طالبات کے تحفظ کے ساتھ کی جائیں۔ اگر الزامات درست ثابت ہوئے ہیں۔ تو ذمہ دار فرد کے خلاف قانون اور ادارہ جاتی ضابطوں کے مطابق سخت کاروائی ہونی چاہیے۔ اور اگر الزامات ثابت نہیں ہوئے تو حقائق بھی اسی شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے انے چاہیے کیونکہ انصاف صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں انصاف یہ بھی ہے کہ بے گناہ کو بے گناہ کہا جائے اور مظلوم کو مظلوم رہتے ہوئے تنہا نہ چھوڑا جائے۔

ہمیں ایسی یونیورسٹیاں چاہیے ۔جہاں بیٹیاں ڈگریاں لینے جائیں تو ان کے ہاتھ میں کتاب ہو، دل میں خواب ہوں اور انکھوں میں مستقبل کی روشنی ہو۔ نہ کہ کسی باختیار شخص کے رویے کا خوف۔

ایک طالبہ کا نہیں صرف ایک لفظ نہیں ہوتا۔ یہ اس کی مرضی اس کی عزت اور اس کے حق کے انتخاب کی اواز ہوتی ہے ۔اور کسی بھی تعلیمی ادارے کی اصل عظمت اس وقت ثابت ہوتی ہے۔ جب وہ اس اواز کو دبانے کے بجائے پوری قوت سے اس کی حفاظت کرے۔۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL