سعودی اتحاد کے صنعاء پر فضائی حملے، آرامکو کی ریفائنری کے قریب آگ اور دھواں

سعودی عرب کی سب سے بڑی توانائی کمپنی ’آرامکو‘ کی دارالحکومت ریاض میں واقع تنصیب کے قریب آگ اور دھوئیں کے گہرے بادل چھائے نظر آرہے ہیں-
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایک عینی شاہد نے تصدیق کی کہ ہفتے کے روز ریاض میں واقع ’آرامکو‘ کی تنصیب کے قریب آگ کے شعلے اور شدید دھواں اٹھتے دیکھا گیا ہے, سعودی حکام کی جانب سے تاحال اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی آرامکو نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔
https://x.com/MarioNawfal/status/2106318339354300904?s=20
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے,تاہم اب تک حوثیوں سمیت کسی دیگر گروہ نے ریاض پر بھی کسی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں نے ینبع میں آرامکو تنصیبات کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس پر سعودی عرب نے طائف اور ینبع کی جانب فائر کیے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب ہفتے کے روز ہی یمنی دارالحکومت صنعاء بھی میں کم از کم پانچ زوردار دھماکے سنے گئے ہیں، فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ نے عینی شاہدین کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے ہفتے کو 2 جنگی طیاروں نے صنعاء شہر پر فضائی بمباری کی، جس کی حوثیوں کے زیرِ انتظام ’المسیرہ ٹی وی‘ نے بھی تصدیق کی ہے، تاہم واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
المسیرہ ٹی وی کے مطابق صنعاء پر مبینہ فضائی حملوں سے قبل شمال مغربی صوبے ’الصعدہ‘ میں بھی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یمن کا صوبہ ’الصعدہ‘ حوثیوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ ہے سعودی عرب نے حالیہ لڑائی کے دوران یمن کے دارالحکومت صنعاء پر بمباری کی جسے حالیہ لڑائی کے دوران جولائی کے بعد صنعاء پر سعودی عرب کا پہلا بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔




