Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حکومت اور اپوزیشن کےدرمیان مذاکرات کا دوسرا دور, پی ٹی آئی نے لانگ مارچ ختم کرنے کیلیےشرط رکھ دی


وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور قومی اسمبلی کے اسپیکر چیمبر میں جاری ہے,حکومت نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پی ٹی آئی سے 4 اکتوبر کا مجوزہ لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے جواب میں اپوزیشن نے مارچ کی منسوخی یا تاخیر کے اعلان کو با نی پی ٹی آئی سے ملاقات کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔


مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آج دوپہر 2 بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا، جسے آج صبح تبدیل کرکے 3 بجے کر دیا گیا تھا تاہم تقریباً 2 گھنٹے کی تاخیر کے بعد باقاعدہ مذاکرات جاری ہیں۔


چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر اسد قیصر اور راجا ناصر عباس پی ٹی آئی اور حکومتی وفد کے دیگر ارکان کی پارلیمنٹ ہاؤس آمد کے کافی دیر بعد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے اس تاخیر کی وجہ بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ایک اہم حکومتی شخصیت سے ملاقات ہے، جس میں مذاکرات کے دوران اپوزیشن کے مطالبات اور ان کے جوابات پر گفتگو ہوئی ہے۔


https://x.com/NAofPakistan/status/2106356068381045109?s=20


ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے باقاعدہ آغاز سے قبل اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کے چیمبر میں اپوزیشن رہنماؤں کی بیٹھک ہوئی ہے، جس میں بیرسٹر گوہر، راجا ناصرعباس، اسد قیصر اور سلمان اکرم راجہ نے حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات پر مشاورت کی ہے۔


اسپیکر چیمبر میں جاری اس اہم بیٹھک میں اسپیکر سردار ایاز صادق، وفاقی وزرا محسن نقوی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ جب کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی شریک ہیں۔


اپوزیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر سینیٹ راجا ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، حلیم عادل شیخ اور عامر ڈوگر بھی اجلاس میں موجود ہیں۔


وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ کر کے انہیں مذاکرات میں اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا ہے اور اپوزیشن کے مطالبات کی تفصیلات بھی ان کے سامنے رکھی ہیں۔


ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومتی ٹیم نے مطالبہ کیا کہ بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اپوزیشن اپنے مجوزہ لانگ مارچ کا فیصلہ واپس لے۔ اس موقع پر حکومتی اراکین نے اپوزیشن ٹیم کے اختیار پر بھی سوال اٹھایا اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لانگ مارچ پر قائم رہنے سے متعلق حالیہ ٹویٹ پر بھی اعتراض کیا۔


حکومتی اعتراضات کے جواب میں راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم مکمل طور پر بااختیار ہے۔ اپوزیشن نے زور دیا کہ معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت کو پہلے ان کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔


حکومت کی جانب سے سہیل آفریدی کے ٹویٹ پر اعتراض کے جواب میں اپوزیشن وفد نے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ کا حوالہ دیا۔


بیرسٹر گوہر کے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر صحافیوں کی جانب تاخیر کی وجہ پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ اہم معاملات میں تاخیر ہوجاتی ہے، ابھی ہم مذاکرات کے لیے جارہے ہیں اور آج کا راؤنڈ بڑا اہم ہے۔


واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جو اس سے قبل 27 ستمبر کو ہونا تھا, جمعر ات کو چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بتایا تھا کہ اپوزیشن اتحاد کے متفقہ فیصلے کی روشنی میں تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت قبول کر لی ہے۔


حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ روز، جمعے کو قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں ہوا تھا,اس نشست میں حکومتی اور اپوزیشن وفود نے سیاسی صورت حال اور دیگر معاملات پر اپنے اپنے مؤقف سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا تھا,کئی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد دونوں جانب سے ہفتے کو دوبارہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔