ہوم اسکولنگ پاکستان میں تیزی سے پھیلتا ہوا نیا رجحان،تحریر : دانش رحمان
نقطہ نظر
ہوم اسکولنگ یعنی گھریلو تعلیم آج پاکستان میں تیزی سے پھیلتا ہوا ایک طاقتور رجحان ہے یہ ہمارے روایتی تعلیمی نظام کی گہری ناکامیوں کا واضح اور دردناک آئینہ ہے یہ والدین کے لیے ایک ذمہ دارانہ اور بہادر انتخاب ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ اسے سوچ سمجھ کر اپنایا جائے
موجودہ دور میں جب تعلیم پر حکومت صرف 8.0 فیصد جی ڈی پی خرچ کر رہی ہے جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہو چکا ہے جبکہ شرح خواندگی محض 63 فیصد تک پہنچی ہے اور تقریباً 28 فیصد بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں ایسی دل دہلا دینے والی صورتحال میں مڈل اور اپر مڈل کلاس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ والدین روایتی کلاس رومز استاد مرکز تعلیم بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کے قتل بد اخلاقی اور ناقص نصاب سے تنگ آ کر گھریلو تعلیم کی طرف مائل ہو رہے ہیں
پاکستان جرنل آف سوشل سائنس ریویو کی ایک اہم تحقیق کے مطابق یہ والدین خالص تعلیمی وجوہات کی بنا پر یہ فیصلہ کرتے ہیں نہ کہ محض نظریاتی بنیادوں پر وہ اسکولوں کو سخت ساختہ اور بچوں کی آزادی کو کچلنے والا سمجھتے ہیں جبکہ گھر کی چار دیواری میں بچہ اپنی رفتار دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق ویڈیوز آن لائن کھیلوں اور جدید ڈیجیٹل وسائل سے آزادانہ سیکھتا ہے اس عمل سے والدین اور بچوں کا رشتہ ناقابلِ تسخیر ہو جاتا ہے بچوں میں علم کی پیاس بڑھتی ہے شخصیت کی مکمل نشوونما ہوتی ہے اور خاندانی اقدار مضبوط ہوتی ہیں
کراچی کی متعد مائیں جو اسکول چھوڑ کر گھریلو تعلیم دے رہی ہیں کہتی ہیں کہ اسکول میں بچہ رٹا لگانے والی مشین بن جاتا تھا مگر گھر پر وہ تخلیقی سوچ اعتماد اور دلچسپی کے ساتھ سیکھ رہا ہے معاشی اعتبار سے بھی یہ ایک بڑا ریلیف ہے کیونکہ ماہانہ اسکول فیس ٹرانسپورٹ یونیفارم اور دیگر اخراجات سے لاکھوں روپے بچتے ہیں خاص طور پر اس وقت جب نجی تعلیم کی لاگت آسمان چھو رہی ہے
کراچی میں گھریلو تعلیم کے تعاون گروپس یعنی کوآپریٹوز کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے جہاں کئی خاندان مل کر گروپ سرگرمیاں آن لائن ہدایات اور ورکشاپس کا اہتمام کرتے ہیں یہ بچوں کو ہم عمر دوستوں سے ملنے کا موقع دیتے ہیں اور سماجی تنہائی کے مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ہیں
عالمی سطح پر کورونا وبا کے بعد یہ رجحان مزید پھیلا مگر پاکستان کے تناظر میں یہ ہمارے ناقص تعلیمی نظام کا ایک مضبوط متبادل بن سکتا ہے جہاں لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں اساتذہ کی تربیت ناکافی ہے اور نصاب تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی بجائے رٹا لگانے پر مجبور کرتا ہے
مگر حقیقت یہ ہے کہ گھریلو تعلیم بغیر چیلنجز کے نہیں سب سے بڑا مسئلہ سماجی تعامل کی کمی ہے بچے ہم عمر دوستوں سے کم ملتے ہیں جو شخصیت کی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے والدین پر بہت بڑا بوجھ پڑتا ہے خاص طور پر کام کرنے والے والدین یا ان کے لیے جن کے پاس تعلیم دینے کا کافی تجربہ نہیں سماجی دباؤ بھی شدید ہے کہ بچہ 'نارمل' بچوں سے مختلف تو نہیں ہو جائے گا
پاکستان میں گھریلو تعلیم کا کوئی واضح قانونی فریم ورک نہیں جس کی وجہ سے بورڈ امتحانات اعلیٰ تعلیم میں داخلے اور تسلیم شدگی میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں اگر والدین خود ذمہ دار نہ ہوں تو بچے کی تعلیم شدید متاثر ہو سکتی ہے اسکرین ٹائم کا زیادہ استعمال اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی بھی بچوں کی مجموعی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے
میرے خیال میں حکومت کو فوری طور پر گھریلو تعلیم کے لیے رہنما اصول آن لائن نصاب مساوی سرٹیفیکیشن اور امتحانی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں تاکہ یہ نظام منظم اور قابلِ رسائی بن سکے روایتی تعلیمی نظام کو بھی انقلاب کی ضرورت ہے اساتذہ کی تربیت کریں نصاب کو تخلیقی اور اخلاقی اقدار سے مالا مال کریں اور بنیادی سہولیات کو یقینی بنائیں تاکہ والدین کو گھریلو تعلیم کی طرف جانے کی مجبوری نہ پڑے
آخر میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ گھریلو تعلیم کوئی جادوئی حل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اور ذمہ دارانہ انتخاب ہے اگر والدین تیار ہوں وسائل دستیاب ہوں اور سماجی سرگرمیاں متوازن رکھی جائیں تو یہ ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کا ذریعہ بن سکتی ہے ورنہ یہ ایک عارضی تجربہ بھی ثابت ہو سکتی ہے
تعلیم ہی قوم کی تقدیر بدلنے کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے چاہے وہ گھر کی چار دیواری ہو یا اسکول کی عمارت اس رجحان کو سمجھنا اس کے مثبت پہلوؤں کو اپنانا اور نظامِ تعلیم کو بہتر بنانا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے
والدین! اس فیصلے سے پہلے اچھی تحقیق کریں ماہرین سے مشورہ کریں اور بچے کی فلاح و بہبود کو ہر چیز پر مقدم رکھیں کیونکہ آج کا بچہ کل کا پاکستان بنائے گا اور اس کی تعلیم پر آج کا فیصلہ قوم کے پورے مستقبل کا تعین کرے گا




