Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دیہات کو کیش فری اکانومی میں کیسے شامل کریں ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

پاکستان کی مجموعی معیشت کا مستقبل اس کے زرخیز کھیتوں، مویشیوں کے باڑوں اور ان دیہی بستیوں سے جڑا ہے جہاں آبادی کا اکثریتی حصہ زندگی بسر کرتا ہے۔ ہم اکثر معاشی اصلاحات کا تذکرہ کرتے ہوئے بڑے شہروں، بینکاری کے ہیڈ کوارٹرز اور جدید صنعتی مراکز تک محدود رہتے ہیں، حالانکہ قومی پیداوار کا اصل محور دیہی خطے ہیں۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہے اور روایتی نوٹوں کا چلن محدود ہو کر اسمارٹ سسٹمز میں تبدیل ہو رہا ہے، مگر ہمارے دیہات آج بھی نقدی کے محتاج ہیں۔ جب تک دیہی آبادی کو کیش فری یعنی ڈیجیٹل معیشت کے دائرے میں شامل نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور معاشی خوشحالی کی منزل پانا ممکن نہیں ہو سکتا۔ دیہات کو اس جدید نظام میں شامل کرنے کا مطلب محض شہروں کے اصول وہاں لاگو کرنا نہیں، بلکہ دیہی زمینی حقائق، زرعی تقاضوں اور مقامی نفسیات کے مطابق ایک ٹھوس لائحہ عمل تشکیل دینا ہے۔

دیہات میں کیش فری نظام رائج کرنے کی راہ میں سب سے بنیادی ضرورت ایک مخصوص اور پائیدار مواصلاتی ڈھانچے کی ہے۔ دیہی علاقوں کا کسان یا محنت کش مہنگے اسمارٹ فونز اور مسلسل انٹرنیٹ پیکیجز کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لیے سب سے پہلا عملی اقدام آف لائن ادائیگیوں کا فروغ ہے۔ عام بٹنوں والے سادہ فون پر کام کرنے والی یو ایس ایس ڈی ٹیکنالوجی کو عام کیا جائے تاکہ بغیر انٹرنیٹ کے صرف مخصوص کوڈ ڈائل کر کے بھی رقوم کی منتقلی ممکن ہو۔ اس کے ساتھ دیہی علاقوں میں بجلی کے تعطل کا مستقل حل ناگزیر ہے، جس کے لیے سیلولر ٹاورز اور وائی فائی ہاٹ اسپاٹس کو لازمی سولر توانائی پر منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ ادائیگی کے وقت نیٹ ورک غائب ہونے کا عذر ختم ہو۔ ایک اور سنگین رکاوٹ بوڑھے کسانوں اور مشقت کرنے والے مزدوروں کے مٹے ہوئے فنگر پرنٹس ہیں، جس کے ازالے کے لیے بائیو میٹرک ڈیوائسز میں چہرے کی شناخت اور آنکھ کی پتلی کے اسکین کی قانونی و تکنیکی سہولت فراہم کرنا لازمی ہے۔

اس نظام کو کامیابی سے چلانے کا اصل انجن زرعی ویلیو چین اور کسان کی آمدن کی ڈیجیٹلائزیشن ہے۔ دیہات میں پیسہ زراعت اور لائیو اسٹاک سے آتا ہے۔ اگر غلہ منڈیوں، پاسکو، شوگر ملز اور آڑھتیوں پر قانوناً لازم کر دیا جائے کہ وہ فصلوں کی قیمت کسان کو نقد گڈیوں کی شکل میں دینے کے بجائے اس کے نامزد راست اکاؤنٹ یا موبائل والٹ میں منتقل کریں، تو روپوں کی اصل گردش پہلے مرحلے میں ہی ڈیجیٹل ہو جائے گی۔ جب کسان کی محنت کی کمائی اس کے فون میں آئے گی تو وہ اخراجات بھی اسی کھاتے سے کرنے پر مجبور اور آمادہ ہوگا۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے کھاد، بیج، زرعی ادویات اور ٹیوب ویل کی بجلی پر دی جانے والی تمام تر سبسڈیز کو براہِ راست ڈیجیٹل کسان کارڈ یا موبائل واؤچرز سے مشروط کیا جائے تاکہ کسان کو فائدہ صرف اس وقت ملے جب وہ ادائیگی فون سے کرے۔ دودھ اکٹھا کرنے والے مراکز اور مویشی منڈیوں میں بھی کیش لیس کاؤنٹرز قائم کر کے رقم کے ڈیجیٹل بہاؤ کو ہر سمت سے یقینی بنانا ہوگا۔

مقامی سطح پر اس نظام کی قبولیت تبھی ممکن ہے جب رقم خرچ کرنے کے تمام راستے بھی کیش لیس ہوں۔ گاؤں کے کریانہ اسٹورز، آٹا چکیوں، کھاد کے ڈیلروں اور ادویات کی دکانوں پر بغیر کسی بینک کٹوتی کے یونیورسل کیو آر کوڈز آویزاں کیے جائیں اور چھوٹے دکانداروں کو یہ مکمل قانونی تحفظ اور گارنٹی دی جائے کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے پر ان کے کھاتے ٹیکس کے شکنجے میں نہیں آئیں گے۔ دوسری طرف سرکاری سطح پر دیہی خدمات کی نقد وصولی سختی سے بند کرنی ہوگی۔ پٹوار خانے کی فرد فیس، زمین کے انتقال کی سرکاری فیس، نہری پانی کا آبیانہ اور یونین کونسل میں پیدائش و وفات کے سرٹیفکیٹس کی فیسیں جب صرف موبائل سے وصول کی جائیں گی تو عام شہری خود بخود یہ طریقہ سیکھے گا۔ اس کے ساتھ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسی فلاحی رقوم کو ایجنٹوں کے ہاتھوں نقد تقسیم کرنے کے بجائے مستحق خواتین کے بائیو میٹرک والٹس میں ڈالا جائے تاکہ وہ مقامی دکانوں سے راشن براہِ راست اپنے موبائل سے خرید سکیں۔

اس نظام کے نفاذ کے بعد دیہی عوام اس سے بے شمار طریقوں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ مالیاتی تحفظ کی صورت میں ملتا ہے۔ فصل کی کٹائی کے وقت دیہات میں ڈکیتی، چوری اور جعلی کرنسی نوٹ تھما دیے جانے کے خدشات معمول کی بات ہیں، کیش لیس نظام سے یہ تمام خطرات جڑ سے ختم ہو جاتے ہیں۔ دوسرا بڑا فائدہ کسان کی مڈل مین کے چنگل سے آزادی ہے۔ جب کسان کو منڈی کے براہِ راست سرکاری ریٹس اور ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت ملتی ہے تو آڑھتی اس کا استحصال نہیں کر پاتا۔ اس سے بھی بڑھ کر، جب کسان کے لین دین کا باقاعدہ ڈیجیٹل ریکارڈ بنتا ہے تو بینکوں کے لیے اسے بغیر زمین گروی رکھے فصل کی بنیاد پر آسان شرائط پر قرض دینا ممکن ہو جاتا ہے، جس سے کسان ساہوکاروں کے بھاری سود سے نجات پاتا ہے۔

علاوہ ازیں، دیہی عوام کو اپنے معمولی مالی کاموں، بلوں کی جمع آوری اور پینشن کے حصول کے لیے شہروں کے مہنگے اور تھکا دینے والے سفر سے نجات ملتی ہے، جس سے ان کا قیمتی وقت اور سفری اخراجات بچتے ہیں۔ دیہی خواتین کے لیے یہ نظام خود مختاری کی نوید لاتا ہے، کیونکہ مویشیوں یا سلائی کڑھائی سے ہونے والی آمدن براہِ راست ان کے ذاتی موبائل اکاؤنٹ میں محفوظ رہتی ہے اور وہ اپنے گھر کے فیصلے خود کرنے کے قابل بنتی ہیں۔ اگر ایپس کو مقامی زبانوں مثلاً پنجابی، سندھی، پشتو، سرائیکی اور بلوچی میں صوتی ہدایات کے ساتھ پیش کیا جائے اور گاؤں کے نوجوانوں کو باعزت معاوضے پر ڈیجیٹل معاون مقرر کیا جائے تو ناخواندگی کی رکاوٹ بھی خود بخود دور ہو جائے گی۔

دیہات میں کیش فری نظام محض ٹیکنالوجی کا کھیل نہیں بلکہ یہ سماجی انصاف اور پائیدار معاشی خودمختاری کی تحریک ہے۔ جب تک کھیت میں کام کرنے والے ہاری اور منڈی میں بیٹھے کاشتکار کو اس نظام میں شراکت دار نہیں بنایا جائے گا، قومی معیشت کبھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست روایتی نعروں سے نکل کر دیہی معیشت کو ڈیجیٹل پٹری پر چڑھانے کے لیے عملی اقدامات کرے، کیونکہ پاکستان کی حقیقی خوشحالی اور معاشی بقا کا راستہ کسی ایئرکنڈیشنڈ دفتر سے نہیں بلکہ دیہات کے بااختیار کسان کے ہاتھ سے ہو کر گزرتا ہے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL