پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام لڑکیوں کے عالمی دن کی تقریب
پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کے قومی ہیڈکوارٹرز میں 20 اکتوبر 2026 کولڑکیوں کا عالمی دن منایا گیا۔
اس تقریب میں ملک بھر سے 600 سے زائد گرل گائیڈز اور طالبات نے شرکت کی۔ اس اہم تقریب کا انعقادیونیسف پاکستان اور نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ کے اشتراک سے کیا گیا۔ تقریب کے دوران گا ئیڈز کو صحت، غذائیت، جذباتی صحت اور قائدانہ صلاحیتوں سے متعلق مختلف معلوماتی اور عملی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے، خود اعتمادی بڑھانے اور اپنی برادریوں میں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی۔تقریب کے معزز مہمانوں میں وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی پارلیمانی سیکریٹری محترمہ رابعہ وسیم فاروقی، پاکستان میں آئرلینڈ کی سفیر محترمہ میری او نیل، محترمہ نادیہ ممبر نیشنل کمیشن آن رائیٹس آف چلڈرن اور یونیسف پاکستان کے چیف سوشل اینڈ بیہیویئر چینج اور قائم مقام سربراہ برائے جینڈر اینڈ ڈیولپمنٹ مسٹر ایلنور علییف شامل تھے۔
پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کی نیشنل کمشنر محترمہ ماریہ موعود صابری نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے تنظیم کے پروگراموں اور سرگرمیوں کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ گائیڈنگ مستقبل کی قائدین تیار کر رہی ہے اور لڑکیوں کو ہر موقع پر آگے بڑھ کر قیادت کرنے کا حوصلہ اور صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گائیڈنگ صرف معلومات اور مہارتیں سیکھنے کا نام نہیں بلکہ ایک مؤثر طرزِ تعلیم ہے۔ "عمل کے ذریعے سیکھنا" اور "تفریح کے ساتھ سیکھنا" گائیڈنگ کا بنیادی اصول ہے، جس کے ذریعے سیکھنے کا عمل لڑکیوں کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔
تقریب کا ایک اہم حصہ عالمی یومِ دختر کے موضوع کے حوالے سے ایک پینل مباحثہ تھا۔ اس مباحثے میں پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کی اعزازی صدر محترمہ فرحانہ عظیم، ادارۂ تعلیم و آگہی کی چیف ایگزیکٹو محترمہ بیلا رضا جمیل اور وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی جینڈر اسپیشلسٹ محترمہ بریرہ حنیف نے بطور پینلسٹ شرکت کی۔پینلسٹس نے لڑکیوں کی تعلیم، حقوق، قیادت اور مواقع میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ یہی وہ اقدامات ہیں جو بچپن کی شادی کے خاتمے اور ایک منصفانہ و ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کی بصیرت افروز گفتگو نے شرکاء کو اپنے خوابوں پر یقین رکھنے، بڑے مقاصد طے کرنے اور مستقبل میں غیر روایتی کردار اپنانے کی ترغیب دی۔تقریب میں پاکستان کے مختلف علاقوں بشمول تربت، کوئٹہ، بدین، کراچی، تھرپارکر، کوٹلی، مظفرآباد، ملتان، چکوال، ساہیوال اور لاہور سے آنے والی گائیڈ چیمپئنز نے اپنی کامیابی کی کہانیاں بھی پیش کیں۔ ان کہانیوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ گائیڈنگ کس طرح لڑکیوں کو اپنی زندگیوں اور اپنے معاشروں میں مثبت تبدیلی لانے کے قابل بناتی ہے۔
گرل گائیڈز کی آواز: اگر آپ ہم سے پوچھیں کے تحت گائیڈز نے اپنی سفارشات اور مطالبات پیش کیے جو پالیسی سازوں، کمیونٹی رہنماؤں اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے ایک مؤثر پیغام تھے۔ ان مطالبات میں بچپن کی شادی کے خاتمے، معیاری تعلیم تک رسائی کے فروغ، لڑکیوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی اور انہیں ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔
لڑکیوں کے عالمی دن کی یہ تقریب پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن اور اس کے شراکت دار اداروں کے اس عزم کا اعادہ تھی کہ ہر لڑکی کو سیکھنے، قیادت کرنے اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے اور ایک روشن مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکے۔





