ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کےلیےانٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے،امریکی اخبار

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہےکہ ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے اہداف کی نشاندہی اور انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہےکہ ایران حوثی تنظیم انصار اللہ کو ڈرون، میزائل، ریڈار اور دیگر ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران حوثی تنظیم کے ساتھ فرنٹ لائن پر موجود ہیں۔ حوثی تنظیم کی عسکری حکمت عملی سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے ایران سے تربیت بھی مل رہی ہے۔
اخبار کا کہنا ہےکہ ایران کی مدد سے ہی حوثی اب تک سعودی عرب پر اپنے سب سے مؤثر اور جدید حملے کرنے کے قابل ہوئے ہیں, سعود ی عرب اور یمن میں حوثیوں کے مخالف اتحاد کی انٹیلی جنس سے واقف ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران حوثیوں کو ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے اہداف کی نشاندہی کرنے میں مدد دینے کے علاوہ تربیت، خفیہ معلومات اور جنگی حکمت عملی سے متعلق رہنمائی بھی فراہم کر رہا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق ایران کی یہ معاونت ظاہر کرتی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں حوثیوں جیسی مسلح تنظیموں کے ساتھ اپنے مضبوط روابط کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں دباؤ بڑھانےکی صلاحیت رکھتا ہے یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کے خلیجی اتحادیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہےکیونکہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کو اپنی شرائط پر ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس میں ایران سے متعلق شعبے کے سابق سربراہ نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا کہ ایران حوثیوں کی کا میابی میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، دونوں کے مفادات ایک دوسرے سے ملتے ہیں، یہ تعلق محض ایک سرپرست اور اس کے زیر سرپرستی گروہ کا نہیں، بلکہ مشترکہ تزویراتی تعاون پر مبنی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایران کی معاونت کے باوجود حوثی اپنی آزادانہ حیثیت پر زور دیتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ وہ اپنے کچھ ہتھیار خود تیار کرتے ہیں اور ان کی ترجیحات بنیادی طور پر یمن کے اندرونی معاملات سے متعلق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما تک وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ سے الگ رہے تھے ایک رپورٹ کے مطابق حوثی اپنے ڈرونز اور میزائلوں کے لیے بعض پرزے براہ راست چین سے بھی حاصل کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران اس دعوے کو مستردکرتا ہےکہ اس نے یمن میں ہونے والی کارروائیوں میں کوئی کردار ادا کیا ،اگر تنازع میں شامل فریق ایران سے ثالثی کی درخواست کریں تو تہران یمن کے تنازع کا پُرامن حل تلاش کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔





