صحافی کالونی فیز ٹو: وعدوں کا نیا باب یا قانونی دستاویزات کا امتحان؟تحریر:محمد آصف بٹ
نقطہ نظرسی ای او روڈا کی یقین دہانیوں سے آگے بڑھ کر اصل سوالات کے جواب کون دے گا؟

السلام علیکم دوستو
میری یہ تحریر بہت بڑی ہے لیکن اس میں اٹھائیں گے سوالات فیز ٹو کے ممبران کے مستقبل اور رہائشی منصوبے کو محفوظ رکھیں گے اور اس منصوبے کی شفافیت بھی ہوگی لہذا مکمل تحریر پڑھیں اور اپنے منصوبے فیز ٹو کو محفوظ کرے اور سیاسی جگاڑیوں سے بچ جائے
شکریہ
تحریر محمد آصف بٹ
گزشتہ روز راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے سی ای او عمران امین کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خاصی گردش کرتی رہی، جس میں صحافی کالونی فیز ٹو کے حوالے سے یقین دہانیاں سامنے آئیں۔ یقین دہانیاں اپنی جگہ، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اس منصوبے کو بیانات، اعلانات اور وعدوں سے آگے لے جا کر قانونی دستاویزات، زمین کی نشاندہی اور عملی پیش رفت کے پیمانے پر پرکھا جائے۔
میں ریونیو اور سٹی بیٹ کے حوالے سے کچھ معلومات رکھتا ہوں۔ میرے ساتھ کئی دیگر صحافی اور سینئر صحافی بھی اس معاملے کے مختلف پہلوؤں سے واقف ہیں، لیکن کیمرہ مین، فوٹوگرافرز، سب ایڈیٹرز، اسائنمنٹ ایڈیٹرز، کاپی ایڈیٹرز اور پروڈیوسرز سمیت صحافی برادری کے بہت سے ارکان کے لیے ان قانونی پیچیدگیوں کو سمجھنا آسان نہیں۔ ان میں سے ہر شخص اپنے گھر کے خواب سے وابستہ ہے اور اسی امید پر اس منصوبے کا منتظر ہے۔
آج کی یہ تحریر اسی آگاہی کے لیے ہے۔ مقصد کسی کی کردارکشی کرنا نہیں، بلکہ ان سوالات کو سامنے لانا ہے جن کے جواب صحافیوں کے مفاد میں ضروری ہیں۔ جو لوگ قانونی دستاویزات طلب کرنے اور حقائق کی نشاندہی کرنے والوں کو فیز ٹو کا دشمن قرار دیتے ہیں، انہیں بھی سمجھنا چاہیے کہ سوال اٹھانا مخالفت نہیں، اپنے حق کا تحفظ ہے۔
*فیز ٹو کی مخالفت نہیں، فیز ٹو کے قانونی اور شفاف ہونے کا مطالبہ ہے۔*
گزشتہ تین برس کے وعدے، اعلانات اور یقین دہانیاں: اب حساب ہونا چاہیے
گزشتہ تین برس کے دوران صحافی کالونی فیز ٹو کے حوالے سے اخباری اشتہارات، مفاہمتی یادداشتوں (MOUs)، پریس ریلیزز، مجوزہ زمین کی لوکیشن اور مختلف اعلانات کا سلسلہ جاری رہا۔ کبھی شرق پور روڈ کی طرف جانے اور جگہ دیکھنے کی بات ہوئی، کبھی فارموں کی فراہمی کے دعوے سامنے آئے اور کبھی منصوبے کی پیش رفت کے حوالے سے نئی امیدیں دلائی گئیں۔
صحافی برادری ان تمام مراحل کی گواہ ہے۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ ان اعلانات کے نتیجے میں عملی طور پر کیا حاصل ہوا؟
- کیا زمین کی حتمی نشاندہی ہوئی؟
- کیا متعلقہ خسرہ نمبرز اور موضع کی تفصیلات اراکین کو فراہم کی گئیں؟
- کیا ہر رکن کو الاٹمنٹ یا پلاٹ کی نشاندہی سے متعلق کوئی مستند دستاویز دی گئی؟
- کیا زمین کے حصول اور منصوبے کی منظوری کا قانونی ریکارڈ سامنے آیا؟
- کیا جمع ہونے والی رقوم کے استعمال اور منصوبے کی موجودہ حیثیت پر شفاف رپورٹ فراہم کی گئی؟
اگر ان سوالات کے جواب موجود ہیں تو انہیں سامنے لانے میں تاخیر کیوں؟ اور اگر قانونی مراحل ابھی مکمل نہیں ہوئے تو اراکین کو واضح طور پر بتایا جائے کہ کون سا مرحلہ باقی ہے اور اسے مکمل کرنے کی ذمہ داری کس ادارے پر عائد ہوتی ہے۔
صحافیوں کو اب مزید مبہم اعلانات نہیں، واضح جواب درکار ہیں۔
## 2۔ کٹار بند روڈ کا مرحلہ: کیمپ، نقشے، اجلاس اور مٹھائی کی تقسیم
گزشتہ سال کا منظر اب بھی کئی صحافیوں کو یاد ہے، جب راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی انتظامیہ، شعبۂ اطلاعات کے افسران اور سیاسی شخصیات کی موجودگی میں کٹار بند روڈ پر کیمپ لگایا گیا۔ مجوزہ مقام کے بارے میں بتایا گیا، نقشے دکھائے گئے، اجلاس ہوئے، ماسٹر پلان اور تھری ڈی ویڈیو کی صورت میں منصوبے کی جھلک سامنے آئی اور مٹھائی بھی تقسیم ہوئی۔
ان سرگرمیوں نے صحافیوں میں امید پیدا کی کہ اب ان کے اپنے گھر کا خواب حقیقت بننے جا رہا ہے۔
اسی دوران، اراکین سے فی کس 62,500 روپے وصول کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی۔
لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر اس مقام پر منصوبے کی پیش رفت کا اعلان کیا جا رہا تھا تو کیا اس وقت زمین کی قانونی حیثیت، خسرہ نمبرز، حدود اور متعلقہ منظوریوں کا مکمل ریکارڈ موجود تھا؟ کیا اراکین کو ان کے پلاٹوں کی واضح نشاندہی یا الاٹمنٹ سے متعلق دستاویزات فراہم کی گئیں؟
اگر ایسا نہیں ہوا تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: کسی منصوبے کا نقشہ جاری ہونا، اس کی تھری ڈی ویڈیو دکھائی جانا یا کسی مقام پر کیمپ لگانا بذاتِ خود زمین کی قانونی حیثیت یا پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا ثبوت نہیں ہوتا۔ ان امور کی تصدیق متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور مجاز اتھارٹی کی دستاویزات سے ہی کی جا سکتی ہے۔
## 3۔ کٹار بند روڈ سے چہار باغ انکلیو تک: منتقلی کی قانونی بنیاد کیا ہے؟
بعدازاں منصوبے کے حوالے سے مقام کی تبدیلی یا منتقلی کا ذکر سامنے آیا اور چہار باغ انکلیو سے متعلق گوگل میپ اور بائیومیٹرک تصدیق کا عمل شروع ہونے کی بات کی گئی۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر منصوبے کا مقام تبدیل ہوا تو اس تبدیلی کی قانونی اور انتظامی بنیاد کیا تھی؟ کیا اس کے لیے متعلقہ اداروں کی منظوری حاصل کی گئی؟ کیا نئے مقام کی زمین کی ملکیت اور حدود کی تصدیق ہوئی؟ کیا سابقہ منصوبہ بندی میں تبدیلی کی گئی؟ اور کیا اراکین کو ان تبدیلیوں کے بارے میں تحریری طور پر آگاہ کیا گیا؟
منصوبے کی منتقلی کا لفظ استعمال کر دینا کافی نہیں۔ اس کی دستاویزی وضاحت ضروری ہے۔
- سابقہ مقام اور نئے مقام کی تفصیلات کیا ہیں؟
- نئے مقام پر کتنی زمین دستیاب ہے؟
- زمین کن مواضعات اور خسرہ نمبرز میں واقع ہے؟
- کیا متعلقہ نقشہ منظور شدہ ہے؟
- کیا فیز ٹو کے مجوزہ بلاکس اس منظور شدہ نقشے کا حصہ ہیں؟
- کیا اراکین کے حقوق، ادائیگیوں اور الاٹمنٹ کے طریقۂ کار پر مقام کی تبدیلی کے اثرات واضح کیے گئے ہیں؟
ان سوالات کے جواب سامنے آنے چاہییں تاکہ صحافی برادری محض ایک اعلان سے دوسرے اعلان تک امیدیں وابستہ کرنے کے بجائے اصل صورتِ حال جان سکے۔
## 4۔ بائیومیٹرک تصدیق: شناخت کی توثیق، قانونی منظوری کا متبادل نہیں
پہلے اراکین سے رقم وصول کیے جانے اور بعد میں بائیومیٹرک تصدیق کا عمل شروع ہونے کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔
اگر فی رکن 62,500 روپے وصول کیے گئے اور بعد میں بائیومیٹرک تصدیق کے لیے مزید 2,000 روپے لیے گئے، جیسا کہ اراکین کی جانب سے بیان کیا جا رہا ہے، تو انتظامیہ کو اس عمل کی قانونی بنیاد اور مقصد واضح کرنا چاہیے۔
بائیومیٹرک تصدیق کسی رکن کی شناخت کی توثیق میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اس سے بذاتِ خود زمین کی ملکیت، رہائشی منصوبے کی منظوری یا کسی مخصوص پلاٹ کا حق ثابت نہیں ہوتا۔
لہٰذا چند سوالات کے جواب ضروری ہیں:
1. بائیومیٹرک تصدیق شروع کرنے کا باقاعدہ حکم کس ادارے نے جاری کیا؟
2. اس عمل کے لیے فی رکن 2,000 روپے وصول کرنے کی منظوری اور قانونی بنیاد کیا ہے؟
3. تصدیق مکمل ہونے کے بعد رکن کو کون سی دستاویز فراہم کی جائے گی؟
4. کیا بائیومیٹرک عمل کا تعلق صرف اراکین کی شناخت سے ہے یا کسی باقاعدہ رجسٹریشن یا الاٹمنٹ کے مرحلے سے بھی؟
5. پہلے وصول کی گئی رقم اور بعد میں وصول ہونے والی رقم کا مکمل حساب کہاں موجود ہے؟ کیا اس میں صحافیوں کے فیز ٹو کے ممبران کے پلاٹس کے نمبر موجود ہیں؟؟؟ کیا بلاک کا نام موجود ہے ؟؟؟؟ کیا اس میں پلاٹ یا بلاک نہیں بنے ہیں تو خالی جگہ کا موضع اور خسرہ اور کتھونی نمبران موجود ہیں؟؟؟؟
ان سوالات کے جواب ملنا ضروری ہیں، کیونکہ کسی بھی رکن کی شناخت کی تصدیق اور اسے زمین کا قانونی حق فراہم کرنے کے مراحل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
## 5۔ کیا سیکشن فور، خسرہ نمبرز اور منظور شدہ نقشے کے بغیر منصوبہ آگے بڑھ سکتا ہے؟
یہ وہ سوال ہے جس پر ریونیو، لینڈ ریکارڈ اور قانونی امور کے ماہرین کو بھی اپنی رائے دینی چاہیے۔
کیا کوئی سرکاری رہائشی منصوبہ زمین کی قانونی حیثیت، اس کی حدود، متعلقہ ریونیو ریکارڈ اور ضروری منظوریوں کی وضاحت کے بغیر اراکین کو قابلِ عمل الاٹمنٹ فراہم کر سکتا ہے؟
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ دفعہ 4 (Section 4) کا اطلاق زمین کے حصول کے قانونی طریقۂ کار اور متعلقہ قانون پر منحصر ہوتا ہے۔ ہر سرکاری منصوبے یا زمین کے حصول کے معاملے میں اس کی ضرورت اور قانونی حیثیت یکساں نہیں ہوتی۔ اسی طرح سرکاری ترقیاتی منصوبے، مشترکہ منصوبے اور نجی رہائشی اسکیموں کے تقاضے بھی قانونی طور ہو پورے ہوتے ہیں۔
اس لیے اصل مطالبہ یہ ہے کہ متعلقہ حکام واضح کریں کہ فیز ٹو کے لیے زمین کس قانونی طریقے سے حاصل کی جا رہی ہے اور اس طریقۂ کار کے تحت کون سی منظوریوں کا ہونا ضروری ہے۔
صحافیوں کو کم از کم یہ دستاویزات دکھائی جانی چاہییں:
- *زمین کی ملکیت:* زمین کس موضع میں ہے اور اس کا قانونی مالک کون ہے؟
- *خسرہ نمبرز اور حدود:* مجوزہ زمین کے خسرہ نمبرز، رقبے اور حدود کی تصدیق کیسے ہوئی؟
- *زمین کے حصول کا طریقۂ کار:* کیا زمین پہلے سے سرکاری ملکیت ہے، خریدی جا رہی ہے یا کسی معاہدے کے تحت حاصل کی جا رہی ہے؟
- *جوائنٹ وینچر معاہدہ:* اگر منصوبہ مشترکہ معاہدے کے تحت ہے تو اس کی قانونی حیثیت اور شرائط کیا ہیں؟
- *منظور شدہ ماسٹر پلان:* کیا فیز ٹو اور اس کے مجوزہ بلاکس متعلقہ مجاز اتھارٹی کے منظور شدہ نقشے میں شامل ہیں؟
- *لے آؤٹ پلان:* کیا نقشے میں سڑکوں، رہائشی بلاکس، عوامی مقامات اور زمین کی حدود کی تفصیلات واضح ہیں؟
- *الاٹمنٹ کا طریقۂ کار:* کیا اراکین کو باقاعدہ الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے جا رہے ہیں یا ابھی صرف ابتدائی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے؟
یہ دستاویزات سامنے آنے سے بہت سے سوالات خودبخود حل ہو سکتے ہیں۔
## 6۔ چالیس کروڑ روپے، 62,500 روپے اور مزید 2,000 روپے: مالی شفافیت کہاں ہے؟
لاہور پریس کلب سے منسوب دعووں کے مطابق، روڈا کو تقریباً چالیس کروڑ روپے ادا کیے جانے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اراکین سے فی کس 62,500 روپے اور بائیومیٹرک تصدیق کے لیے مزید 2,000 روپے وصول کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
اگر یہ اعدادوشمار درست ہیں تو صحافی برادری کو ان کی دستاویزی وضاحت ملنی چاہیے۔
- چالیس کروڑ روپے کس معاہدے یا مد میں ادا کیے گئے؟
- ادائیگی کی تاریخ، رسید اور متعلقہ منظوری کیا ہے؟
- کیا یہ رقم زمین کی قیمت، ایڈوانس، ترقیاتی اخراجات یا کسی دوسری مد میں ادا ہوئی؟
- اراکین سے وصول کی جانے والی رقم کا مجموعی حساب کیا ہے؟
- ان رقوم کے استعمال اور موجودہ مالی حیثیت کی تفصیلی رپورٹ کہاں دستیاب ہے؟
- کیا کسی آڈٹ یا مالی جانچ کے ذریعے اس ریکارڈ کی تصدیق کی گئی ہے؟
یہ محض مالی سوالات نہیں، بلکہ اراکین کے اعتماد کا معاملہ ہے۔ جب لوگ اپنی جمع پونجی کسی رہائشی منصوبے کے لیے جمع کرواتے ہیں تو انہیں یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ ان کی رقم کہاں، کس مقصد کے لیے اور کن شرائط کے تحت استعمال ہو رہی ہے۔
*رقم کی وصولی کے ساتھ اس کی قانونی بنیاد اور استعمال کی شفاف وضاحت بھی ضروری ہے۔*
## 7۔ چہار باغ انکلیو کا گوگل میپ اور زمینی حقیقت
چہار باغ انکلیو سے متعلق گوگل میپ اور مجوزہ فیز ٹو کے مقام کے حوالے سے بھی کئی سوالات زیرِ بحث ہیں۔
بعض اراکین کے مطابق، وہاں اے، بی اور سی بلاکس میں کام جاری ہے، جبکہ ڈی بلاک کے لیے زمین کی تلاش کا معاملہ بھی سامنے آ رہا ہے۔ ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے موقع کی صورتِ حال، مستند نقشوں اور سرکاری ریکارڈ کا تقابل ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد چہار باغ انکلیو کے دیگر بلاکس ہیں اور اس کے بعد جے بلاک کا منصوبہ ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ وہاں پر زمین موجود ہے اور کس کی ملکیت ہے
۔
اگر مجوزہ فیز ٹو کی زمین اسی علاقے میں ہے تو متعلقہ حکام واضح کریں کہ اس منصوبے کی حدود کہاں سے شروع ہوتی ہیں، کتنی زمین اس کے لیے دستیاب ہے اور کون سے بلاکس باقاعدہ طور پر منظور کیے جا چکے ہیں۔
یہاں صحافیوں کو بھی ایک احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے: گوگل میپ کسی مقام کی جغرافیائی شناخت اور عمومی محلِ وقوع سمجھنے میں مدد دیتا ہے، لیکن یہ زمین کی ملکیت، خسرہ نمبرز یا کسی بلاک کی قانونی منظوری کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا۔
اصل تحقیق کے لیے درج ذیل امور اہم ہیں:
1. مجوزہ فیز ٹو کا مستند نقشہ حاصل کیا جائے۔
2. نقشے میں درج موضع اور خسرہ نمبرز کو ریونیو ریکارڈ سے ملایا جائے۔
3. زمین کی حدود اور نقشے کی نشاندہی کا موقع پر جائزہ لیا جائے۔
4. متعلقہ اتھارٹی سے معلوم کیا جائے کہ اے، بی، سی، ڈی اور جے بلاکس میں سے کون سے بلاکس کی منظوری موجود ہے۔
5. اگر زمین نجی مالکان یا زمینداروں کی ملکیت ہے تو اس کے حصول اور منصوبے میں شمولیت کی قانونی حیثیت واضح کی جائے۔
اس طریقے سے محض نقشے دیکھ کر نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر درست تصویر سامنے لائی جا سکتی ہے۔
## 8۔ کیا چار سال بعد بھی منصوبہ قانونی دستاویزات کے بجائے وعدوں پر چل رہا ہے؟
یہ وہ بنیادی سوال ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اگر کئی برس سے منصوبے کے بارے میں اعلانات کیے جا رہے ہیں، مختلف مقامات کا ذکر سامنے آتا رہا ہے، اراکین سے رقوم وصول ہوئی ہیں اور بائیومیٹرک تصدیق کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے، تو پھر اب تک منصوبے کی مکمل قانونی حیثیت اور زمین کی واضح نشاندہی کے بارے میں اراکین کو کیا بتایا گیا ہے؟
کیا یہ تمام مراحل کسی طے شدہ قانونی اور انتظامی منصوبے کے تحت مکمل ہو رہے ہیں، یا اراکین کو ہر سال نئی یقین دہانیوں کے ذریعے مطمئن کیا جا رہا ہے؟
یہ کہنا کہ ہر اعلان محض انتخابی مہم کا حصہ تھا، کسی مستند ثبوت کے بغیر درست نہیں ہوگا۔ تاہم یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ اگر منصوبے کے وعدے اور عملی پیش رفت کے درمیان فرق موجود ہے تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟
انتخابی وعدوں کی حقیقت جانچنے کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ متعلقہ عہدیداران سے تحریری جواب، قانونی دستاویزات اور پیش رفت کا واضح شیڈول طلب کیا جائے۔
## 9۔ ایک اور 62,500 روپے کی قسط؟ پیشگی خدشے کا جواب ابھی سے دیا جائے
صحافی برادری میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انتخابی عمل کے آخری مرحلے میں، الاٹمنٹ لیٹرز اور زمین کی واضح نشاندہی کے بغیر، اراکین سے مزید 62,500 روپے وصول کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، اور بعدازاں اعتراضات سامنے آنے پر اس رقم کو قسطوں میں شامل کرنے یا اس کی نوعیت تبدیل کرنے کی وضاحت دی جا سکتی ہے۔
یہ فی الحال ایک خدشہ ہے، ثابت شدہ واقعہ نہیں۔ لیکن اس خدشے کو دور کرنا متعلقہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
اس لیے ابھی سے واضح کیا جائے:
- کیا اراکین سے مزید رقم وصول کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور ہے؟
- اگر ہے تو اس کا مقصد اور قانونی بنیاد کیا ہے؟
- کیا مزید ادائیگی سے پہلے زمین کی نشاندہی اور ضروری منظوریوں کی دستاویزات فراہم کی جائیں گی؟
- کیا تمام اراکین کو یکساں شرائط اور تحریری شیڈول دیا جائے گا؟
- کیا سابقہ وصولیوں اور آئندہ ادائیگیوں کی تفصیلات ایک شفاف مالی رپورٹ میں شامل ہوں گی؟
میرا پیشگی مطالبہ صرف یہ ہے کہ *کسی بھی نئی وصولی سے پہلے اس کی وجہ، منظوری، قانونی حیثیت اور اراکین کو حاصل ہونے والے حق کی وضاحت تحریری طور پر کی جائے۔*
اس طرح نہ کسی کو بلاوجہ موردِ الزام ٹھہرایا جائے گا اور نہ اراکین کو غیر یقینی صورتِ حال میں رکھا جائے گا۔
## 10۔ آگاہی دینے والے فیز ٹو کے دشمن نہیں
اس پورے معاملے کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی صحافی زمین کی ملکیت، قانونی منظوری، خسرہ نمبرز یا مالی شفافیت کے بارے میں سوال کرتا ہے تو بعض اوقات اسے منصوبے کا مخالف سمجھ لیا جاتا ہے۔
یہ رویہ مناسب نہیں۔
اگر کسی منصوبے کے قانونی تقاضے پورے ہیں تو سوال اٹھانے والوں کو دستاویزات دکھا کر مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی مرحلہ باقی ہے تو اس کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔ لیکن سوال کرنے والوں کو دشمن قرار دینے سے شکوک و شبہات کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہیں۔
صحافی برادری میں کیمرہ مین، فوٹوگرافر، سب ایڈیٹر، اسائنمنٹ ایڈیٹر، کاپی ایڈیٹر اور پروڈیوسر بھی اسی خواب کے شریک ہیں۔ ان میں سے ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے پیسوں اور مستقبل سے متعلق تمام ضروری معلومات حاصل کرے۔
*شفافیت کا مطالبہ کرنا منصوبے کی مخالفت نہیں، بلکہ اسے مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔*
## 11۔ سی ای او روڈا اور لاہور پریس کلب کی انتظامیہ سے براہِ راست مطالبہ
اب وقت آگیا ہے کہ سی ای او روڈا عمران امین، متعلقہ حکام اور لاہور پریس کلب کی انتظامیہ ایک مشترکہ اور جامع وضاحتی اجلاس منعقد کریں، جس میں صحافی برادری کے سامنے درج ذیل امور پر مستند ریکارڈ پیش کیا جائے:
1. فیز ٹو کے لیے منتخب زمین کا مکمل محلِ وقوع، موضع، رقبہ اور خسرہ نمبرز۔
2. زمین کی ملکیت اور حصول کے قانونی طریقۂ کار کی دستاویزات۔
3. متعلقہ مجاز اتھارٹی سے منظور شدہ ماسٹر پلان اور لے آؤٹ پلان۔
4. جے بلاک کی منظوری کا نوٹیفکیشن، اگر جاری ہو چکا ہے۔
5. زمین کی فراہمی کے لیے جوائنٹ وینچر یا دیگر متعلقہ معاہدے۔
6. روڈا کو مبینہ چالیس کروڑ روپے کی ادائیگی اور اراکین سے وصول کی گئی رقوم کا تفصیلی حساب۔
7. بائیومیٹرک تصدیق کے لیے 2,000 روپے وصول کرنے کی قانونی بنیاد۔
8. اراکین کو الاٹمنٹ لیٹرز اور زمین کی نشاندہی فراہم کرنے کا طریقۂ کار۔
9. منصوبے کی موجودہ قانونی و انتظامی حیثیت اور آئندہ مراحل کی تکمیل کا تحریری شیڈول۔
10. مزید ادائیگیوں کی صورت میں ان کی قانونی بنیاد، مقصد اور اراکین کے حقوق کی واضح تفصیلات۔
اگر یہ تمام مراحل مکمل ہیں تو دستاویزات سامنے لانے سے اعتماد بڑھے گا۔ اگر کوئی مرحلہ ابھی باقی ہے تو اس کی واضح نشاندہی اور تکمیل کا شیڈول فراہم کیا جائے۔
## میرا مؤقف: فیز ٹو بننا چاہیے، مگر قانونی اور شفاف بنیادوں پر
میں اس منصوبے کی مخالفت نہیں کرتا۔ میں خود اس کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہوں، بشرطیکہ متعلقہ حکام زمین کی قانونی حیثیت، خسرہ نمبرز، جوائنٹ وینچر معاہدے، منظور شدہ ماسٹر پلان اور جے بلاک کی منظوری سمیت ضروری دستاویزات پیش کریں۔
میں چاہتا ہوں کہ صحافیوں کو ان کے گھر ملیں، ان کی جمع پونجی محفوظ رہے اور یہ منصوبہ ان کے لیے خوشی کا باعث بنے، کسی قانونی یا مالی پریشانی کا سبب نہ بنے۔
لیکن حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ سوالات کرنا چھوڑ دیا جائے۔ کسی ادارے یا عہدیدار پر اعتماد اپنی جگہ، مگر قانونی دستاویزات اور شفافیت ہر صورت ضروری ہیں۔
اگر تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں تو ثبوت سامنے لائیں۔ اگر کچھ مراحل باقی ہیں تو انہیں واضح کریں۔ اگر مزید رقم درکار ہے تو اس کی قانونی بنیاد بتائیں۔ اور اگر اراکین کو کسی مخصوص مدت میں الاٹمنٹ لیٹرز دینے کا وعدہ کیا گیا ہے تو اس کی عملی پیش رفت سے آگاہ کریں۔
صحافیوں کو اب صرف امید نہیں، قابلِ تصدیق حقائق درکار ہیں۔
## اختتامی سوال
سی ای او روڈا عمران امین کی یقین دہانیوں کا خیرمقدم کیا جا سکتا ہے، لیکن صحافی برادری کے بنیادی سوالات کا جواب صرف ویڈیو یا بیان سے نہیں ملے گا۔ اس کے لیے زمین کے ریکارڈ، متعلقہ منظوریوں، معاہدوں اور مالی دستاویزات کو سامنے لانا ضروری ہے۔
اگر فیز ٹو قانونی طور پر مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ رہا ہے تو شفافیت اس کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ اور اگر کوئی قانونی یا انتظامی مرحلہ ابھی مکمل ہونا باقی ہے تو اسے چھپانے کے بجائے واضح کرنا ہی دانش مندی ہوگی۔
صحافیوں کی جمع پونجی، ان کے گھر کا خواب اور ان کا مستقبل کسی انتخابی نعرے سے زیادہ اہم ہیں۔
*فیز ٹو کے مخالف وہ نہیں جو قانونی دستاویزات مانگتے ہیں؛ اصل کامیابی تب ہوگی جب ہر صحافی کو اس کے سوال کا جواب، اس کی رقم کا حساب اور اس کے مستقبل کے بارے میں واضح یقین دہانی دستاویزات کی صورت میں ملے۔*
اب وقت بیانات سے آگے بڑھنے، سوالات کے جواب دینے اور قانونی حقائق سامنے لانے کا ہے۔
مزید پڑھیں




