لاک ڈاؤن؛ ضرورت، پالیسی اور عام آدمی،تحریر:شمسہ رانی

ریاستی فیصلے کبھی خلا میں جنم نہیں لیتے۔ ہر فیصلے کے پس منظر میں کوئی نہ کوئی معاشی مجبوری، انتظامی ضرورت یا قومی ترجیح کارفرما ہوتی ہے۔ اگر حکومت جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز سمارٹ لاک ڈاؤن یا کاروباری اوقات میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ تو اس فیصلے کو صرف تنقید کی کسوٹی پر پرکھنے کے بجائے اس کے محرکات، ممکنہ فوائد اور عام آدمی پر پڑنے والے اثرات، تینوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔
توانائی و پٹرول کا بحران، بڑھتے ہوئے اخراجات اور بجلی اور پٹرول کے استعمال میں کمی کی ضرورت حکومت کو ایسے انتظامی اقدامات پر مجبور کر سکتی ہے۔ دنیا کے مختلف معاشروں میں بھی توانائی کے دباؤ یا غیر معمولی حالات کے دوران کاروباری اور انتظامی اوقات میں تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت کوئی فیصلہ کیوں کر رہی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ فیصلہ کتنا مؤثر، کتنا منصفانہ اور کتنا قابلِ عمل ہے۔
سب سے حساس معاملہ تعلیم کا ہے۔
اسکول، کالج اور جامعات محض عمارتیں نہیں، ایک قوم کے مستقبل کی تعمیر گاہیں ہیں۔ اگر کسی بڑے قومی مفاد میں تعلیمی اداروں کی عارضی بندش ناگزیر ہو تو اسے یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، مگر اس کے تعلیمی اثرات سے آنکھیں بھی نہیں چرائی جا سکتیں۔ خصوصاً ان بچوں کے لیے، جن کے پاس آن لائن تعلیم کی مناسب سہولت موجود نہیں، ہر اضافی تعطل ان کے تعلیمی سفر میں ایک اور خلا پیدا کر سکتا ہے۔
بہتر راستہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش کو آخری آپشن رکھا جائے۔ جہاں اوقاتِ کار میں تبدیلی ممکن ہو وہاں اسے ترجیح دی جائے، اور اگر چند دن کی تعطیلات ناگزیر ہوں تو تعلیمی کیلنڈر میں ایسی مناسب ایڈجسٹمنٹ کی جائے جس سے طلبہ کے نقصان کا ازالہ ممکن ہو۔
کاروباری طبقے کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ ایک چھوٹا تاجر صرف ایک دکان نہیں چلاتا؛ اس دکان کے ساتھ اس کے گھر کا چولہا، بچوں کی فیس، کرایہ، بجلی کا بل اور بعض اوقات کئی ملازمین کے گھر وابستہ ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حکومت کو قومی معیشت اور توانائی کے وسیع تر مفاد کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوتا ہے۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور تاجر ایک دوسرے کے مدِمقابل کھڑے ہونے کے بجائے مسئلے کا ایسا درمیانی راستہ تلاش کریں جس میں توانائی کی بچت بھی ہو اور کاروباری سرگرمی بھی غیر ضروری طور پر مفلوج نہ ہو۔
مگر پالیسی سے بھی زیادہ اہم اس کا نفاذ ہے۔
ریاست کو اوقاتِ کار مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن قانون کا نفاذ شہری کے احترام سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی ہونی چاہیے، مگر تضحیک، بدسلوکی یا غیر ضروری سختی کو ریاستی نظم و ضبط کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ قانون کی اصل طاقت صرف اس کے نفاذ سے جھلکتا ہے۔
اس بحث کا ایک اہم پہلو حکمران طبقے اور عام شہری کے درمیان موجود معاشی تفاوت بھی ہے۔ عوام یہ سوال ضرور اٹھاسکتے ہیں۔ اگر قومی مشکل کے وقت قربانی درکار ہے تو اس قربانی کا بوجھ معاشرے کے مختلف طبقات میں منصفانہ طور پر تقسیم کیوں نہ ہو۔؟ سرکاری اخراجات ,غیر ضروری مراعات اور توانائی کے بڑے صارفین بھی اسی بحث کا حصہ ہونا چاہیں۔
تاہم تنقید کو الزام تراشی میں تبدیل کرنے کے بجائےاصل سوال پالیسی کے یکساں اطلاق قومی، وسائل کے منصفانہ استعمال حکومتی ترجیحات کا ہونا چاہیے ۔ریاستی پالیسی کی ساکھ اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب قربانی کا مطالبہ صرف کمزور سے نہ کیا جائے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کے پاس بعض ایسے اعداد و شمار و انتظامی معلومات موجود ہوتی ہیں۔ جو عام شہری کے سامنے مکمل طور پر نہیں ہوتی ہیں۔اس لیے کسی پالیسی کو رد یا قبول کرنے سے پہلے حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس کے محرکات، متوقع توانائی ، بچت ،معاشی اثرات اور عوامی فوائد کو واضح کرے۔ شفافیت اعتماد پیدا کرتی ہے۔ اور اعتماد کے بغیر بہترین پالیسی بھی عوام کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتی۔
لہذا سوال یہ نہیں کہ لاک ڈاؤن اچھا ہے یا برا
اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس مخصوص فیصلے سے واقعی مطلوبہ فائدہ حاصل ہوگا۔ اور اگر ہوگا تو اس کی قیمت کون ادا کرے گا؟
ریاست کو توا نائی بھی بچانی ہے ،معیشت بھی چلانی ہے، تعلیم بھی جاری رکھنی ہے، اور شہریوں کا اعتماد بھی قائم رکھنا ہے۔ یہ اسان توازن نہیں، مگر اچھی حکمرانی کا امتحان بھی یہی ہے کہ مشکل فیصلے کرتے ہوئے کمزور طبقے کو تنہا نہ چھوڑا جائے ۔قومی ضرورت اگر پابندی کا تقاضا کرتی ہے۔ تو پابندی ہو مگر اس کے ساتھ متبادل راستہ بھی دیا جائے ۔بازار کے اوقات محدود کیے جائیں تو کاروباری طبقے کی مشکلات کا بھی جائزہ لیا جائے۔ تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں تو بچوں کے تعلیمی نقصان کی تلافی کا بھی منصوبہ سامنے انا چاہیے۔
کیونکہ ایک ذمہ دار ریاست صرف یہ نہیں گنتی کہ کتنے یونٹ بجلی بچ گئے، وہ یہ بھی دیکھتی ہے کہ بچت کے سفر میں کتنے گھر متاثر ہوئے ،کتنے کاروبار مشکلات سے گزرے، کتنے بچوں کی تعلیم رکی اور کتنے شہریوں نے خود کو ریاست کے قریب یا دور محسوس کیا ۔
ریاست کی کامیابی صرف وسائل بچانے میں نہیں ۔بلکہ وسائل بچاتے ہوئے انسان کو بچانے میں ہے اور شاید یہی وہ توازن ہے۔ جہاں قومی مفاد بھی محفوظ رہتا ہے اور عام ادمی کا حق بھی اور ریاست پر عوام کا اعتماد بھی۔
مزید پڑھیں





