Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

محمد رضوان کی این سی سی آئی اے کیخلاف درخواست مسترد

7dqjskp8_mohammad-rizwan-afp_625x300_30_October_24

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے طلب کیے جانے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو لاہور ہائیکورٹ نے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی ہے-


 تفصیلات کے مطابق محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے طلب کیے جانے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،محمد رضوان نے وکیل قاضی عمیر علی کی وساطت سےدائر کی گئی اپنی درخواست میں این سی سی آئی اے کے دائرہ اختیار اور جاری تحقیقات کی نوعیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے عدالت سے درخواست کی تھی کہ کیس کے حتمی فیصلے تک این سی سی آئی اے کی کارروائی روکنے کا حکم دیا جائے۔


درخواست میں محمد رضوان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے طلبی کے نوٹس میں ان پر کسی مخصوص الزام کی وضاحت نہیں کی گئی، جبکہ نوٹس کے مطابق آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق انکوائری جاری ہے، پیشی کے دوران ان سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کس آن لائن سٹے بازی یا جوئے میں ملوث رہے ہیں،انہوں نے بار بار غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق الزامات کی تفصیلا ت جاننے کی کوشش کی، تاہم ان کے سوالات کا جواب نہیں دیا گیا۔


درخواست میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کسی نامعلوم الزام کی بنیاد پر تحقیقات کیسے جاری رکھ سکتی ہے،محمد رضوان نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک این سی سی آئی اے کی کارروائی روکنے کا حکم دیا جائے۔


چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی ہے محمد رضوان عدالت میں پیش نہ ہوئے، درخواست گزار کی طرف سے عمیر قاضی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔


درخواست گزار کے وکیل عمیر قاضی نے موقف اپنایا کہ کھیل میں اچھی اور بری کارکردگی گیم کا حصہ ہوتی ہے، این سی سی آئی اے نے غیر قانونی طلبی نوٹس جاری کیے، محمد رضوان نے اپنے وکیل کے ذریعے پیش ہوکر لگائے گئے الزامات کا جواب داخل کروایا تاہم این سی سی آئی اے نے ان کے جواب کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ طلبی نوٹس دے دیے جبکہ این سی سی آئی اے کو اس کا قانونی اختیار نہ تھا۔


وکیل نے عدالت سے استدعا کی عدالت این سی سی آئی اے کے نوٹس کو کالعدم قرار دے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس میں کہا کہ آپ شوکاز نوٹس کا جواب دیں، آپ کو حقائق چھپانے پر بھاری جرمانہ ہونا چاہیے،آپ نے طلبی نوٹس چیلنج کیے، آپ شوکاز نوٹس کا جواب دیں اور وہاں پیش ہوں۔