Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچے کی تربیت یا تذلیل،تحریر:مبراء عبدالقیوم

نقطہ نظر
mubarra qayoum

جس بچے کو مسلسل ڈانٹ، مار، تذلیل اور خوف کے ماحول میں رکھا جائے، پھر اسی سے اعتماد، ادب اور اچھے رویے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

ہم بچے سے کہتے ہیں کہ استاد کی اور بڑوں کی عزت کرو مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ استاد یا بڑے بھی بچے کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہیں۔

کیا بچے یہ رویے لے کر پیدا ہوتے ہیں؟

آج جب ہم بچوں کے رویوں پر بات کرتے ہیں تو اکثر ایک جملہ سننے کو ملتا ہے:

"آج کل کے بچے بہت بدتمیز ہوگئے ہیں، نہ بڑوں کی عزت کرتے ہیں، نہ استاد کا لحاظ، نہ کسی کی بات سنتے ہیں۔"

لیکن کیا کبھی ہم نے اس سوال پر غور کیا کہ کیا بچے واقعی یہ عادات لے کر پیدا ہوتے ہیں؟

کوئی بچہ دنیا میں ضد، بدتمیزی، غرور یا بے ادبی لے کر نہیں آتا ہے۔ وہ تو صرف اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھتا، سنتا اور پھر آہستہ آہستہ اسے اپنے رویے کا حصہ بناتا ہے۔

اس سلسلے میں اسکول کا ماحول بہت اہم ہے۔

ہم بچے کو اسکول بھیجتے ہیں تاکہ وہ علم حاصل کرے۔ شخصیت بنائے، اعتماد سیکھے، سوال کرنا سیکھے اور معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بنے۔ لیکن اگر اسی جگہ اسے بار بار مارا جائے، سب کے سامنے ڈانٹا جائے، معمولی غلطی پر تذلیل کی جائے، اس کی بات سنے بغیر اسے خاموش کرا دیا جائے، تو پھر ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہم اس بچے کی شخصیت تعمیر کر رہے ہیں یا اس کے اندر خوف پیدا کر رہے ہیں۔

ایک بچہ اگر ہر وقت اس خوف میں رہے کہ ذرا سی غلطی ہوئی تو استاد سب کے سامنے بے عزت کریں گے، تو وہ سوال پوچھنے سے گھبرائے گا۔ اپنی رائے دینے سے ڈرے گا۔ غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اسے چھپانے کی کوشش کرے گا۔ اور ممکن ہے کہ اس کے اندر غصہ، ضد یا خاموش بغاوت پیدا ہونے لگے۔

پھر عجیب بات یہ ہے کہ ہم اسی بچے سے کہتے ہیں:

"استاد کی عزت کرو۔"

یقیناً استاد کا احترام ہونا چاہیے۔ استاد علم دیتا ہے، رہنمائی کرتا ہے اور بچے کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن احترام کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کی عزتِ نفس ختم کر دی جائے۔

کیا استاد کی عزت صرف اس وقت ثابت ہوتی ہے جب بچہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرے؟

کیا بچے کا نظریں جھکا کر بات کرنا ہی ادب کی واحد علامت ہے؟

ادب اور خوف میں فرق ہوتا ہے۔

ایک بچہ استاد کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ گستاخ ہو۔ ممکن ہے وہ اعتماد کے ساتھ بات کر رہا ہو۔ البتہ لہجہ، الفاظ اور اندازِ گفتگو یقیناً مہذب ہونا چاہیے۔ بچے کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ استاد سے احترام سے بات کرے، لیکن اسے ایسا خوف زدہ کرنا کہ وہ اپنی بات کہنے سے بھی گھبرانے لگے، تربیت کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بچے کی خاموشی ہمیشہ تربیت کی کامیابی نہیں ہوتی ہے۔

کبھی کبھی بچہ اس لیے خاموش ہوتا ہے کہ اسے بولنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

کبھی وہ اس لیے نظریں جھکا لیتا ہے کہ اسے ادب کا نہیں، سزا کا خوف ہوتا ہے۔

اور کبھی وہ اس لیے "جی سر" یا "جی میم" کہہ دیتا ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف یا سوال کی قیمت اسے ڈانٹ یا تذلیل کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچہ بڑوں کا احترام کرے تو کیا بڑوں کو بھی بچے کی عزت نہیں کرنی چاہیے؟

بچے کو عزت دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہر بات کی آزادی دے دی جائے یا اسے غلطی پر نہ روکا جائے۔ بچے کو حدود بھی چاہییں، اصول بھی چاہییں اور غلط رویے پر اصلاح بھی ضروری ہے۔ مگر اصلاح اور تذلیل ایک چیز نہیں ہے۔

غلطی پر سمجھانا تربیت ہے، غلطی پر سب کے سامنے ذلیل کرنا تذلیل ہے۔

غلط رویے کو روکنا تربیت ہے، ہر بات پر مارنا خوف پیدا کرنا ہے۔

بچے کو ادب سکھانا ضروری ہے مگر اس کی عزتِ نفس کچل کر ادب سکھانا شاید ادب نہیں، صرف اطاعت پیدا کرنا ہے۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں صرف بچوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے طریقۂ تربیت کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں پھر وہی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے:

کیا آج کے بچے واقعی ایسے ہی پیدا ہوتے ہیں، یا ہم انہیں اپنے رویوں، اپنے الفاظ، اپنے غصے اور اپنے تربیتی طریقوں سے ایسا بنا دیتے ہیں؟