نوری اگر اب کی بار بھی بیٹی ہوئی تو یاد رکھنا پرچہ ہاتھ میں آ جائے گا تمہارے۔" اسلم نے خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے کہا"۔۔۔۔۔!!
نوری آنکھوں میں ویرانی لیے بس چپ چاپ بیٹھی تھی اور سوچ رہی تھی کہ وقت کیسے کیسے کھیل کھیل جاتا ہے۔کیا خوبصورت دن تھے جب امّاں، ابّا مل جل کر ہمیں اچھے سے اچھا کھانا ، پینا ،پڑھائی غرض کے ہر چیز مہیا کرتے تھے ۔ پھر اچانک وقت نے ایسی کروٹ لی کہ خزاں کے پت جھڑ کی طرح سب کچھ بکھر گیا،سب شجر سوکھ گئے۔ ان میں سے ایک شجر نوری کے گھر کا تھا۔
وہ ایک کالی سیّاہ رات تھی۔اس رات کی سیاہی آج تک نور بانو کو یاد ہے۔"ہاں نور بانو آپ صحیح سمجھے" !!
نام تو امّاں ابّا نے" نور بانو" ہی رکھا تھا لیکن وقت کی گردش نے اسے نوری بنا دیا تھا. وہ سیاہ رات جب نور بانو کی ماں کو اچانک رات میں خون کی الٹی آئی اور وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں اپنے بچوں کو دیکھتے ہوئے بس اتنا کہہ رہی تھی نور بانو کے ابا بچوں کا خیال رکھنا اور پلک جھپکتے میں ہی نوری کے سر سے ماں کا سایہ چھن گیا۔ماں کے جانے کے بعد ابا کو نشے کی لت لگ گئی۔ بیوی کی جدائی کا غم یا پھر ذمہ داری کا بوجھ، دونوں کو سر سے اتارنے کے لیے انہیں نشہ بہتر پناہ گاہ محسوس ہوا۔ سارا دن ہواؤں میں جھومتے رہتے، گھر کی ہر چیز اونے پونے داموں فروخت کرتے اور اپنا نشہ پورا کرتے۔
نوری گھر میں سب سے بڑی تھی اور میٹرک کے امتحان کے بعد آگے پڑھنا چاہتی تھی لیکن ماں کی اچانک موت نے سب کچھ اتھل پتھل کر کے رکھ دیا تھا۔ اور اس پر ایک آفت اس وقت ٹوٹی جب اچانک ابا نے اسلم کے ساتھ اس کی شادی طے کر دی۔ شروع میں تو سسرال میں خوب آؤ بھگت ہوئی مگر نوری اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔ اس کے خواب سارے بکھر گئے تھے ۔اس کو ماں کی یاد بہت ستاتی، اور تنہائی میں روتی رہتی۔ اسے یاد ہے کہ کیسے اسلم نے اسے ہر بار بیٹی کے پیدا ہونے پر ذلیل کیا تھا۔ اب کی بار بھی ڈاکٹر نے اسے بیٹی کی نوید سنائی تو نوری بہت پریشان ہو گئی۔ اسے رہ رہ کر اسلم کی باتیں دماغ میں گھوم رہی تھی اور آخر وہ دن آ گیا جب ہسپتال کے بیڈ پر اسلم طلاق نامہ دے کر یہ جا وہ جا۔۔۔۔!
نوری پھر سے تنہا ہو گئی تھی۔ ایک بار ماں کے جانے کے بعد یتیمی کا سایہ سر پہ پڑا اور اب طلاق جیسا دھبّہ اس کے دامن پر آ لگا تھا۔ وہ پھر سے ٹوٹ گئی تھی۔اور اس دنیا میں طلاق جیسے دھبے کے ساتھ جینا، کسی کٹھن مرحلے سے کم نہ تھا۔
وہ تو بھلا ہو اس لیڈی ڈاکٹر کا جنہوں نے نوری کو پناہ دی اور اس کی بیٹیوں کو گورنمنٹ اسکول میں ہی سہی، لیکن پڑھایا، لکھایا۔ ڈاکٹر صاحبہ کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ نوری نے بھی ان کی دل سے خدمت کی اور رب کا شکر ادا کیا کہ اسلم جیسے جنونی شخص سے چھٹکارا حاصل ہوا۔
آج نوری کی تینوں بیٹیاں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو چکی ہیں۔ کوئی ڈاکٹر ،کوئی ٹیچر ،اور کوئی کمپیوٹر میں ماہر ،اس سارے سفر میں "نور بانو" کہیں کھو گئی تھی. اسے اپنے خوابوں کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑی تھی!
ورنہ اس معاشرے میں طلاق کا دھبہ ایک تنہا عورت کو کہاں جینے دیتا ہے۔ لوگوں کی خباثت بھری نظریں نہ جانے کتنی تنہا عورتوں کے اندر گڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ یہ تو نوری تھی جس کو لیڈی ڈاکٹر کی صورت میں ایک مہربان شفیق سایہ مل گیا۔ نہ جا نے اور کتنی "نوری" وقت اور حالات کے رحم و کرم پر آج بھی کسی نہ کسی دارلامان میں کسی مسیحا کی منتظر ہیں۔
آخر میں ایک درخواست ہے کہ "خدارا کسی کو بیٹیوں کے ہونے پر طلاق جیسی اذیت سے دو چار نہ کریں" بیٹا بیٹی رب کے کھیل ہیں ،میرا مالک جس کو چاہے بیٹی دے۔ جس کو چاہے بیٹا دے۔ دونوں رحمت اور نعمت ہے۔ ہمیں دونوں کو دل سے قبول کرنا چاہیے اور طلاق تو میرے رب کی نظر میں سب سے برا فعل ہے۔
مزید پڑھیں





