Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

چائے کی ایک پیالی اور ہزار کا نوٹ،تحریر: عائشہ گُل

نقطہ نظر



کبھی آپ نے ایک غریب باپ کو ہزار کے نوٹ کو گھورتے ہوئے دیکھا ہے؟ اس کی آنکھوں میں بے بسی ہے، ہاتھ کانپ رہے ہیں، دل میں ایک ہی سوال ہے کہ اس ہزار سے وہ کیا کرے؟ وہ چائے کی ایک پیالی جو کبھی ہمارے غریب خانوں کی سب سے بڑی خوشی اور مہمان نوازی کی نشانی تھی، آج وہی ایک پیالی امیر اور غریب کے درمیان ایک گہری لکیر بن گئی ہے۔ امیر کے لیے یہ فیشن ہے اور غریب کے لیے ایک خواب۔


وہ بیچارہ مزدور جو سارا دن سخت دھوپ میں اپنا خون پسینہ بہاتا ہے، شام کو جب ہزار روپے لے کر گھر آتا ہے تو اس کی بیوی کی امید بھری نظریں اسے مزید شرمندہ کر دیتی ہیں۔ اگر وہ 300 روپے کلو دودھ لے لے، 540 روپے کلو گھی لے لے، اور 200 روپے کلو چینی لے لے تو بتائیں اس ہزار میں سے کیا بچتا ہے؟ اب وہ اس باقی پیسوں سے اپنے بچوں کی سکول کی فیس دے، گھر کا راشن لائے، مکان کا کرایہ دے، یا بجلی کا بل بھرے؟ یہ ہزار کا نوٹ اب راشن نہیں لاتا، یہ تو اب صرف شرمندگی اور بے بسی لاتا ہے۔


فاقوں سے تنگ آ کر معصوم بچے جب دوسروں کے گھروں میں کھانا پکتا دیکھ کر جھانکتے ہیں تو باپ کا دل خون کے آنسو روتا ہے، باپ بالکل بے بس ہو جاتا ہے، اور پھر وہی ماں جو کبھی چار دیواری میں عزت سے رہتی تھی، وہ مجبور ہو کر پیٹ پالنے کے لیے گھر سے نکلتی ہے، لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے اور پھر بھی گھر پورا نہیں ہوتا۔ یہ ہے آج کے غریب کی اصل کہانی، یہ ہے اس کی بے بسی کی انتہا۔


تب اسی بے بسی اور تکلیف میں دل چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ کاش حضرت عمرؓ کا دور واپس آ جائے۔ وہ رات یاد آتی ہے جب حضرت عمرؓ رات کو گشت کر رہے تھے اور ایک ماں کو دیکھا جو ہانڈی میں پتھر پکا رہی تھی اور اس کے بچے بھوک سے بلک بلک کر رو رہے تھے۔ آپؓ کا دل تڑپ اٹھا، آپ نے فوراً بیت المال سے آٹے کا تھیلا اپنے کندھے پر اٹھایا، حضرت اسلمؓ نے کہا امیر المومنین تھیلا مجھے دے دیں تو آپؓ نے فرمایا! کیا قیامت کے دن میرا بوجھ بھی تو اٹھائے گا؟ آج بھی ہر غریب کے گھر میں وہی ہانڈی چڑھی ہوئی ہے، اس میں امیدوں کے پتھر پک رہے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ آج کوئی عمرؓ آٹے کا تھیلا لے کر نہیں آتا۔


یہ سب زوال صرف مہنگائی کی وجہ سے نہیں ہے، یہ زوال ہماری بے حسی کی وجہ سے ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کا احساس ختم کر دیا ہے۔ ہم نے ہمدردی کے چراغ بجھا دیے ہیں تو گھروں سے برکت خود روٹھ کر چلی گئی ہے۔


اگر روشن مستقبل آنے والی نسل کو دینا ہے تو آج ہی ہمیں جاگنا ہوگا، آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ کل یہ غریب کا بچہ پھر مزدور ہوگا اور اس کی بیوی کسی امیر کی دہلیز کی نوکرانی بنے گی۔اے میرے اللہ! ہمارے دلوں کو نرم کر دے، ہمارے حکمرانوں کو فاروقیؓ نگاہی عطا کر اور ہمارے ہزار کے نوٹ میں پھر سے وہی پہلی سی برکت ڈال دے۔


اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، آمین یا رب العالمین۔