حقدار کا قتل ایک ایسا سنگین سماجی المیہ ہے جو کسی بھی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب ہم حقدار کے قتل کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد صرف کسی کی جان لینا نہیں ہوتا بلکہ کسی محنتی انسان کے خوابوں، اس کی دن رات کی محنت اور اس کے جائز حق کو بے دردی سے کچل دینا ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش زہر ہے جو ہمارے پورے نظام میں سرایت کر چکا ہے اور جس کے باعث بے شمار باصلاحیت نوجوان مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔ایک ایسے معاشرے میں جہاں سفارش اور دولت کا چمکتا ہوا سکہ ہر تالے کو کھول سکتا ہو، وہاں علم اور قابلیت کی حیثیت مٹی کے برابر رہ جاتی ہے۔ ایک ہونہار طالب علم اپنی زندگی کے قیمتی سال کتابوں کے ساتھ گزارتا ہے، اس امید پر کہ ایک دن اس کی یہ محنت رنگ لائے گی اور اسے اپنی قابلیت کے مطابق معاشرے میں معزز مقام ملے گا۔ اس کے بوڑھے والدین اپنی پیٹ کاٹ کر اس کی تعلیم کے اخراجات پورے کرتے ہیں تاکہ ان کا بچہ ان کے بڑھاپے کا سہارا بن سکے۔ لیکن جب وہ نوجوان عملی زندگی کے میدان میں قدم رکھتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں قابلیت کی کوئی قدر نہیں بلکہ ہر جگہ اثر و رسوخ کی ضرورت ہے، تو اس پر جو قیامت گزرتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔جب کسی ملازمت کے لیے ایک اہل اور حقدار امیدوار کو محض اس لیے مسترد کر دیا جائے کہ اس کے پاس کسی بڑے افسر کی پرچی نہیں ہے، تو وہ صرف ایک شخص کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ وہ اس پورے خاندان کی امیدوں کا جنازہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ایک ایسے نااہل شخص کو اس عہدے پر بٹھا دیا جاتا ہے جو اس کام کے لائق ہی نہیں ہوتا۔ نااہل لوگ جب اہم منصبوں پر فائز ہوتے ہیں تو وہ نظام کو بہتر بنانے کے بجائے اسے مزید بگاڑ کی طرف لے جاتے ہیں، جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔اس ناانصافی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ہمارے ملک کا بہترین دماغ اور باصلاحیت نوجوان یہاں سے دلبرداشتہ ہو کر غیر ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ وہ اپنا وطن اور اپنی مٹی صرف اس لیے چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان کی صلاحیتوں کا کوئی خریدار نہیں ہے۔ یہ ہجرت ہمارے معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا فکری نقصان ہے، کیونکہ جو لوگ اس ملک کی تقدیر بدل سکتے تھے، وہ اب دوسروں کی خدمت پر مامور ہیں۔ پیچھے وہ لوگ رہ جاتے ہیں جو سفارش کے بلبوتے پر نظام کو چلاتے ہیں اور یوں بدعنوانی کا ایک ایسا دائرہ بن جاتا ہے جس سے نکلنا نامکن نظر آتا ہے۔مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے بھی قابلیت کی پامالی اور حقدار کا حق مارنا بہت بڑا گناہ ہے۔ ہمارے دین میں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کی جائیں۔ منصب اور ملازمتیں بھی ایک امانت ہیں اور جب ان میں خیانت کی جائے تو معاشرے کا امن و سکون برباد ہو جاتا ہے۔ جہاں انصاف کا ترازو ڈگمگا جائے، وہاں برکت ختم ہو جاتی ہے۔اگر ہم ایک زندہ اور معزز قوم کے طور پر ابھرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس خاموش قتل عام کو روکنا ہوگا۔ ہمیں ایک ایسا شفاف نظام قائم کرنا ہوگا جہاں ہر فرد کو اس کی محنت کا پھل ملے اور کسی بھی غریب کے بچے کو اپنا جائز حق حاصل کرنے کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ جب تک ہم قابلیت کو اپنا شعار نہیں بنائیں گے، تب تک ہم حقیقی ترقی کی منزل حاصل نہیں کر سکتے۔ تبدیلی کا آغاز ہمیں اپنی ذات سے کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک بہتر اور منصفانہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں






