ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم،تحریر : عمران بشیر
نقطہ نظر
افسانہ اپنی ارتقا کی ان گنت منزلیں طے کرتے ہوئے آج تک کی جدید شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے. افسانہ فلسفے کی طرح حقیقت سے سیدھی دعا سلام نہیں کرتا. بلکہ کردار اور واقعات کے رنگ بکھیر کر حقیقت سے گلے ملتا ہے. اس گفتگو کا مقصد افسانے کی جانکاری سے ہٹ کر ایک ایسی شخصیت سے ملاقات ہے جو اس جادوگری کا ماہر ہے.
مضافات اور مضافاتی لوگوں کے اپنے دکھ ہوا کرتے ہیں. لیاقت علی عاصم کا ایک شعر ہے
کسی چراغ کی تصویر بھی نہیں گھر میں
کہ اس بہانے ہمیں شہر کی ہوا دیکھے
مضافاتی دنیااکثر گمنامی سے معمورہوا کرتی ہے. یہاں اچھی قابلیت یا زیادہ ذہانت خود ایک اذیت بن کے رہ جاتی ہے. میدان چھوٹا ہونے کے باعث عمومی طور پہ سوچنے کا اظہار زیادہ تر کنویں کے اندر گھومنے تک محدود رہ جاتا ہے یہاں نئی بات کرنا یا نئی طرح سے سوچنا گناہ کے زمرے میں شمار ہوا کرتا ہے لیکن اظہر سجاد وہ ماورائی مخلوق ہے جس پہ ایسے سادہ دل قوانین نافذ نہیں ہوتے. اظہر نے اپنی صلاحیتوں کا اظہار مضافات میں رہتے ہوئے کیا ہے. اور اس شدت سے کیا ہے کہ اس کے الفاظ کی گونج بڑی دور تک سنائی دی ہے. افسانوں پہ مشتمل ایک انتہائی اعلی مجموعہ تیسری دیوار کے نام سے منظر عام پہ آیا۔میرے نزدیک یہ لمحہ فخر کا لمحہ ہے. کھوڑ کی دھرتی سے افسانوں کا مجموعہ سامنے آنااس بات کی دلیل ہے کہ ادب کی گلکاریاں یہاں پورے لوازمات کے ساتھ موجود ہیں تیسری دیوار کے افسانے بیانیے کے ساتھ ساتھ علامت اور تجرید کے تجربات سے مرصع ہیں. کئی افسانوں میں کرداروں کا تعارف کراتے ہوئے افسانہ نگار ہمیں اپنی کہانی میں ایسے شامل کر لیتا ہے جیسے ہم اس افسانے کا بنیادی حصہ ہیں. تمثیل نگاری اور منظر نگاری ایسی کمال تراش سے نظر آتی ہے کہ ہر نئی سطر کے ساتھ دلچسپی بڑھنے لگ جاتی ہے موضوعات کے لحاظ سے اظہر نے ایسےمسائل کی طرف قاری کی توجہ دلانے کی کوشش کی ہے جو بالکل ہمارے اردگرد کے مسائل ہیں ایک اور دلچسپ بات ایک افسانے میں روایتی علامتوں کا جدید انداز سے استعمال ہے جس سے جدت اور روایت کی ہم آہنگی کا عجیب سا احساس نظر آتا ہے۔ کچھ افسانے خالص سائنس فکشن کی طرز پہ تحریر کیے گئے ہیں. افسانہ نگار نے تنہائی، طبقہ طبقاتی تقسیم ، معاشرتی اور معاشی استحصال کے ساتھ ساتھ مذہبی گھٹن جیسے مسائل کو افسانے کے موضوعات میں ڈھال کر بڑی رسان سے کتاب کی صورت سامنے رکھ دیا ہے. یہی اظہر سجاد جیسے لکھاری کا حسن ہے وہ گمنام گلی کوچوں سے کہانیاں تراش کر انہیں معنی پہنا دیتا ہے. اظہر کے افسانے پڑھ کر اس بات پہ فخر ہوتا ہے کہ ہم جیسے لوگ اس کے دوستوں کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں. اس کے افسانے پڑھتے ہوئی اکثر مجید امجد کی غزل یاد آنے لگتی ہے
روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول۔۔۔
مزید پڑھیں





