Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بے گھری کا عالمی المیہ،تحریر:سید ساجد علی شاہ

نقطہ نظر
sajid ali shah

دنیا آج ترقی، جدید ٹیکنالوجی، معاشی خوشحالی اور انسانی حقوق کے بلند دعووں کے دور سے گزر رہی ہے، مگر انہی دعووں کے درمیان ایک ایسا انسانی المیہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے جس نے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو بے یقینی، خوف اور بے گھری سے دوچار کر رکھا ہے۔ جنگ، مسلح تنازعات، تشدد، ظلم و ستم اور مختلف نوعیت کے بحرانوں کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد اپنے گھروں، شہروں اور آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ تازہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق جبری طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 11 کروڑ 78 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جن میں 6 کروڑ 87 لاکھ افراد اپنے ہی ممالک کے اندر جنگ اور تشدد کے باعث بے گھر ہیں، جبکہ لاکھوں افراد اپنے ممالک کی سرحدیں عبور کرکے تحفظ اور سلامتی کی تلاش میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ عرصے کے مقابلے میں مجموعی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن اس کمی کو بحران کے خاتمے کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ آج بھی بے شمار خاندان ایسے ہیں جن کے لیے اپنے گھر واپس لوٹنا ایک خواب بن چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض ہندسے نہیں بلکہ انسانوں کی زندہ کہانیاں ہیں؛ ہر عدد کے پیچھے ایک خاندان ہے، ایک ماں ہے جو اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے دربدر ہوئی، ایک باپ ہے جس نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اور گھر بار پیچھے چھوڑ دیا، ایک بزرگ ہے جس نے اپنی جنم بھومی سے دور آخری ایام گزارنے پر مجبور ہونا پڑا اور ایک بچہ ہے جس سے اس کا اسکول، دوست، کھیل کا میدان اور بچپن چھین لیا گیا۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے چیئرمین رانا بشارت علی خان نے کہا ہے کہ جنگ، مسلح تنازعات، تشدد یا ظلم و ستم کے باعث اپنے گھروں سے محروم ہونے والے افراد کو محض اعداد و شمار نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ ہر بے گھر انسان انسانی وقار، تحفظ، بنیادی سہولیات اور قانونی حقوق کا مستحق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستوں کو شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں اور ان حالات کے خاتمے کے لیے عملی کوششیں کرنا ہوں گی جو لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بے گھری کا مسئلہ صرف چھت سے محرومی کا نام نہیں، بلکہ اس کے اثرات انسان کی پوری زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ جب ایک خاندان اپنا گھر چھوڑتا ہے تو اس کے ساتھ تعلیم، روزگار، صحت، معاشرتی تعلقات، کاروبار اور مستقبل کے کئی خواب بھی متاثر ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان بچوں کو پہنچتا ہے، کیونکہ جن ہاتھوں میں کتابیں، قلم اور کھلونے ہونے چاہئیں، وہ کبھی امدادی سامان اٹھانے اور کبھی محفوظ مقام تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جنگ کا خوف بچے کے ذہن پر ایسے نقوش چھوڑ سکتا ہے جنہیں وقت بھی آسانی سے نہیں مٹا پاتا۔ ایسے حالات میں عالمی برادری کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو صرف وقتی امداد فراہم کرنے کے بجائے انہیں مستقل بنیادوں پر محفوظ اور باوقار زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے اقدامات کرے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں تقریباً ایک کروڑ 47 لاکھ بے گھر افراد اپنے علاقوں یا ممالک کو واپس لوٹے، جو ایک اہم پیش رفت ہے، مگر واپسی بذاتِ خود مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اگر واپس آنے والے افراد کو امن، سلامتی، رہائش، تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی سہولیات اور قانونی تحفظ میسر نہ ہو تو واپسی بھی ایک نئی مشکل میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ کسی شخص کو صرف اس کے گھر کی حدود تک پہنچا دینا کافی نہیں، اسے ایسا ماحول بھی دینا ضروری ہے جہاں وہ خوف کے بغیر زندگی دوبارہ شروع کر سکے، اپنے بچوں کو اسکول بھیج سکے، روزگار حاصل کر سکے اور اپنے مستقبل کے بارے میں امید رکھ سکے۔ طویل عرصے تک بے گھر رہنے والے افراد کے لیے تعلیم، علاج، روزگار، رہائش اور قانونی شناخت جیسے مسائل انتہائی اہم ہوتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر انسانی ضروریات اور دستیاب وسائل کے درمیان بڑھتا ہوا فرق بھی تشویش کا باعث ہے۔ اگر متاثرہ آبادیوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو غربت، محرومی اور سماجی مسائل مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ انسانی حقوق کسی خاص ملک، قوم یا خطے تک محدود نہیں، بلکہ ہر انسان کے بنیادی حقوق یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ بھی بنیادی آزادیوں، انسانی وقار اور انصاف کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرنے، جنگ، ظلم و ستم اور جبری نقل مکانی سے متاثرہ افراد کے حقوق اجاگر کرنے اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتیں جنگوں اور تنازعات کے مستقل حل، شہریوں کے تحفظ اور انسانی بحرانوں کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ دنیا میں امن صرف معاہدوں اور بیانات سے قائم نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے انسانی جان کی قدر، انصاف، قانون کی بالادستی اور کمزور انسان کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سوال بھی اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ آخر کب وہ دن آئے گا جب کسی ماں کو اپنے بچوں کو لے کر محفوظ مقام کی تلاش میں گھر چھوڑنا نہیں پڑے گا؟ کب ایک بچہ بمباری اور خوف کے بجائے کتاب، قلم اور کھیل کے میدان کے ساتھ اپنا بچپن گزار سکے گا؟ گھر صرف اینٹوں، پتھروں اور دیواروں کا نام نہیں بلکہ انسان کی شناخت، یادوں، رشتوں، محبتوں اور امیدوں کا مرکز ہوتا ہے۔ جب جنگ کسی انسان سے اس کا گھر چھینتی ہے تو صرف ایک مکان نہیں چھنتا بلکہ اس کے ساتھ ایک پوری زندگی بکھر جاتی ہے۔ اس لیے دنیا کے ہر انسان کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنے گھر میں محفوظ، پُرامن اور باوقار زندگی گزار سکے، اور عالمی برادری کی حقیقی کامیابی بھی اسی وقت ہوگی جب جنگ سے بے گھر ہونے والے انسانوں کے لیے محض اعداد و شمار نہیں بلکہ محفوظ گھر، پُرامن معاشرہ اور باعزت مستقبل یقینی بنایا جائے۔