جب لفظ خاموش ہو جائیں...تحریر: طاہر محمود
نقطہ نظرسچ، شعور اور انسانی کردار کے بدلتے موسموں کی ایک داستان

کچھ آوازیں کانوں سے نہیں، ضمیر سے سنی جاتی ہیں۔ کچھ چیخیں زبان سے نہیں نکلیں، مگر انسان کے اندر عمر بھر گونجتی رہتی ہیں۔ اور کچھ معاشرے شور کے باوجود خاموش ہو جاتے ہیں۔ ان کی گلیاں آباد، بازار روشن اور عمارتیں بلند ہوتی رہتی ہیں، مگر ان کے اندر سے احساس، کردار اور سچ کی روشنی آہستہ آہستہ رخصت ہونے لگتی ہے۔
معاشرے اچانک نہیں مرتے، ان کا زوال پہلے لفظوں سے شروع ہوتا ہے۔
جب لفظ کمزور پڑتے ہیں تو معنی رخصت ہوتے ہیں، معنی سے احساس، احساس سے کردار اور کردار سے وہ روشنی مدھم ہونے لگتی ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ یہ ویرانی مکانوں میں نہیں اترتی، ضمیر میں گھر کرتی ہے۔
ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں بولنے کے مواقع کبھی اتنے وسیع نہیں تھے۔ ایک انگلی کی جنبش سے بات لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے۔ سماجی رابطوں اور ذرائع ابلاغ نے اظہار کو عام کر دیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس بے پناہ اظہار کے درمیان سچ کہاں کھڑا ہے؟
ہم معلومات کے ایک ایسے سمندر میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہر لمحہ نئی خبر، نئی تصویر اور نئی رائے ہمارے سامنے آتی ہے۔ مسئلہ معلومات کی کمی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم تحقیق سے پہلے یقین اور تصدیق سے پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں۔ ایک غیر مصدقہ بات ہزاروں ذہنوں میں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے اور پھر سچ کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے بھیڑ کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
ہم معلومات سے مالا مال، مگر حقیقت سے پیاسے ہوتے جا رہے ہیں۔
ہم نے اختلاف کو حق سمجھ لیا، مگر اختلاف کا احترام بھول گئے۔ اپنی بات سنانے کا ہنر تو سیکھ لیا، مگر دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ کم ہوتا گیا۔ ہم دوسروں کے کردار کا احتساب چاہتے ہیں، مگر اپنے گریبان میں جھانکنے سے گھبراتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ضمیر کا بحران جنم لیتا ہے۔
ضمیر انسان کے اندر جلنے والا وہ چراغ ہے جس کے لیے کسی عدالت، کسی گواہ اور کسی فیصلے کی ضرورت نہیں۔ وہ تنہائی میں بھی بتاتا ہے کہ درست کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر جب مفاد، خوف، شہرت، لالچ اور مصلحت اس چراغ کو دھندلا دیں تو انسان دنیا کے سامنے کامیاب دکھائی دے سکتا ہے، مگر اپنے اندر ہار جاتا ہے۔
پھر ایک جملہ معاشرے کی اجتماعی سوچ بن جاتا ہے:
مجھے کیا؟
کسی غریب کا حق چھن جائے، مجھے کیا؟
کسی مظلوم کی آواز دبا دی جائے، مجھے کیا؟
کسی کی عزت پامال ہو، مجھے کیا؟
یہ ’’مجھے کیا‘‘ صرف الفاظ نہیں، اجتماعی بے حسی کا اعلان ہے۔ ظلم کو ہمیشہ صرف ظالم کی طاقت نہیں ملتی؛ کبھی کبھی خاموش تماشائیوں کی بے حسی بھی اسے طاقت فراہم کرتی ہے۔
یہیں قلم کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔
صحافت محض خبر لکھنے کا نام نہیں؛ یہ اپنے عہد کی گواہی ہے۔ صحافی واقعات کا راوی ہی نہیں، معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا شخص بھی ہے۔ اس کا ایک لفظ کسی کے لیے امید، کسی کے لیے سوال اور کسی کے لیے آئینہ بن سکتا ہے۔ اس لیے صحافت میں رفتار ضروری سہی، مگر صداقت اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
ادب بھی اسی سچ کا دوسرا نام ہے۔
ادب الفاظ کی سجاوٹ نہیں، انسان کے اندر موجود انسان کو جگانے کا عمل ہے۔ شاعر وہ دیکھ لیتا ہے جو عام آنکھ نہیں دیکھ پاتی، ادیب وہ سوال اٹھاتا ہے جسے معاشرہ دبانا چاہتا ہے اور سچا کالم نگار وہ بات کہنے کی کوشش کرتا ہے جسے کہنا آسان نہیں ہوتا۔
لفظ کی اصل طاقت اس کی خوبصورتی میں نہیں، اس کی سچائی میں ہوتی ہے۔
ہم نے ترقی کی ہے، فاصلے کم کیے، رابطے تیز کیے، علم تک رسائی آسان بنائی اور ٹیکنالوجی کو زندگی کا حصہ بنا لیا۔ مگر ایک سوال آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے:
کیا انسان بھی بہتر ہوا؟
اگر ہاتھ میں جدید ذرائع ہوں مگر دل میں رحم نہ ہو، علم بہت ہو مگر شعور کم ہو، آزادی ہو مگر ذمہ داری نہ ہو تو ایسی ترقی ادھوری رہ جاتی ہے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف کامیاب ہونا نہیں، اچھا انسان بننا بھی سکھانا ہوگا۔ اسے بتانا ہوگا کہ کسی کی تضحیک تفریح نہیں، جھوٹی خبر معمولی غلطی نہیں، کسی کی نجی زندگی کو تماشا بنانا آزادی نہیں اور اختلاف رکھنے والا شخص دشمن نہیں ہوتا۔
مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں سب ایک جیسا سوچیں؛ مہذب معاشرہ وہ ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام زندہ رہے۔
ہمیں دوبارہ مکالمہ سیکھنا ہوگا، کیونکہ معاشرے دلیل سے مضبوط ہوتے ہیں، شور سے نہیں۔
اور امید ابھی باقی ہے۔
اب بھی ایسے قلم موجود ہیں جو مصلحت کے بجائے سچ کا ساتھ دیتے ہیں۔ اب بھی ایسے استاد ہیں جو کتاب کے ساتھ کردار پڑھاتے ہیں۔ اب بھی ایسے والدین ہیں جو اولاد کو دولت سے پہلے عزتِ نفس دیتے ہیں۔ اب بھی ایسے نوجوان ہیں جو ہجوم میں گم ہونے کے بجائے اپنی سوچ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
تبدیلی ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں آتی۔ کبھی ایک سچا سوال، ایک بے خوف تحریر، ایک مخلص گفتگو، ایک معافی یا کسی ضرورت مند کے لیے بڑھایا گیا ہاتھ بھی انقلاب کی پہلی دستک بن جاتا ہے۔
اس لیے اپنے لفظوں کو مرنے نہ دیں۔
لفظوں میں سچ، گفتگو میں شائستگی، اختلاف میں احترام، آزادی میں ذمہ داری اور فیصلوں میں ضمیر کو شامل رکھیے۔
کیونکہ انسان کی اصل پہچان اس کی آواز کی بلندی نہیں، اس کے کردار کی گہرائی ہے۔
معاشرے کی اصل طاقت اس کے شور میں نہیں، اس کے زندہ ضمیر میں ہوتی ہے۔
لفظ ابھی زندہ ہیں۔
ضمیر ابھی زندہ ہے۔
امید ابھی باقی ہے۔
ضرورت صرف اتنی ہے کہ ہم دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر جھانکیں، اپنے خاموش ضمیر کی آواز سنیں اور اس سچ کو پہچانیں جسے دنیا کے شور نے ہم سے چھپا دیا ہے۔
شاید معاشروں کو بچانے کے لیے ہزاروں بلند آوازوں کی ضرورت نہیں ہوتی؛ چند سچے لفظ، ایک حساس دل اور ایک بیدار ضمیر ہی کافی ہوتے ہیں۔
کیونکہ جب لفظ خاموش ہو جائیں تو ضمیر چیخنے لگتا ہے، اور جب ضمیر جاگ جائے تو ایک سچا لفظ بھی اندھیرے میں جلتا ہوا چراغ بن جاتا ہے
مزید پڑھیں





