مصنوعی ذہانت کو بریک بھی چاہیے، یا ” اے آئی کو Kill Switch چاہیے۔“یہ چند الفاظ بظاہر ایک تکنیکی جملہ ہیں، لیکن ان کے اندر آنے والے زمانے کی ایک بڑی تشویش چھپی ہوئی ہے۔ مصنوعی ذہانت، یعنی Artificial Intelligence (AI)، نے چند ہی برسوں میں ہماری زندگی میں ایسی جگہ بنا لی ہے، جس کا کچھ عرصہ پہلے تصور بھی مشکل تھا۔ آج ہم اے آئی سے سوال پوچھتے ہیں، مضمون لکھواتے ہیں، تصاویر بناتے ہیں، ترجمہ کرواتے ہیں، معلومات حاصل کرتے ہیں اور کاروباری کاموں میں مدد لیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہی ٹیکنالوجی اس سے کہیں زیادہ بڑے اور پیچیدہ کام انجام دے سکتی ہے اور دے بھی رہی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر اے آئی کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیے گئے تو اسے روکنے کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟
اسی سوال کے جواب میں اے آئی کے شعبے سے وابستہ بعض ماہرین“Kill Switch”کی بات کرتے ہیں۔ سادہ زبان میں اس کا مطلب ایک ایسا ہنگامی نظام ہے جس کے ذریعے ضرورت پڑنے پر کسی طاقتور اے آئی کو فوراً بند یا اس کی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔اس تصور کو سمجھنے کے لیے کسی سائنس فکشن فلم کی ضرورت نہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی میں بھی طاقتور نظاموں کے ساتھ حفاظتی انتظامات موجود ہوتے ہیں۔ گاڑی میں بریک ہوتی ہے، بجلی کے نظام میں مین سوئچ ہوتا ہے اور لفٹ میں ہنگامی بٹن۔ ان کا مقصد یہ نہیں کہ گاڑی، بجلی یا لفٹ لازماً خطرناک ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر کچھ غلط ہو جائے تو انسان کے پاس اسے روکنے کا راستہ موجود ہو۔اے آئی کے معاملے میں بھی یہی اصول اہم ہے۔
آج کی اے آئی صرف سوالوں کے جواب دینے والی مشین نہیں رہی۔ جدید اے آئی بڑی مقدار میں معلومات کا تجزیہ کر سکتی ہے، کمپیوٹر پر مختلف کام انجام دے سکتی ہے، منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہے اور بعض حالات میں کئی مرحلوں پر مشتمل کام خود مکمل کر سکتی ہے۔ جوں جوں اس کی صلاحیتیں بڑھیں گی، انسانی نگرانی کی اہمیت بھی بڑھتی جائے گی۔اصل خطرہ یہ نہیں کہ اے آءی لازماً انسان کے خلاف بغاوت کرے گی۔ یہ زیادہ تر فلموں کی کہانی ہے۔ حقیقی دنیا کا خطرہ زیادہ سادہ ہے، اے آئی غلط معلومات کی بنیاد پر غلط فیصلہ کر سکتی ہے۔انسان بھی غلط فیصلے کرتے ہیں، مگر ایک انسان کی غلطی کا دائرہ محدود ہو سکتا ہے۔ ایک طاقتور اے آئی نظام اگر غلطی کرے تو وہ غلطی بہت کم وقت میں ہزاروں یا لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔
مثلاً جعلی تصویر، جعلی آواز یا جعلی ویڈیو تیار کرنا پہلے مشکل کام تھا۔ اب اے آئی نے اسے نسبتاً آسان بنا دیا ہے۔ اگر ایسی ٹیکنالوجی کو غلط مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو کسی شخص کی شہرت متاثر ہو سکتی ہے، جھوٹی خبر پھیل سکتی ہے اور عوام کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ مسئلہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔ ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا رائے عامہ بنانے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ سیاسی، سماجی اور قومی معاملات میں ایک جھوٹی خبر چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر مستقبل میں اے آئی اس عمل کو مزید تیز کرتی ہے تو ہمیں ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت بھی دینا ہوگی۔لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔
اے آئی ہمارے لیے ایک بڑی نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک طالب علم مشکل سبق سمجھنے کے لیے اس سے مدد لے سکتا ہے۔ ڈاکٹر بیماری کی تشخیص میں معاونت حاصل کر سکتے ہیں۔ کسان موسم اور فصل کے بارے میں بہتر معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ کاروباری افراد مارکیٹ کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ صحافی تحقیق میں مدد لے سکتے ہیں اور سرکاری ادارے عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے اے آئی استعمال کر سکتے ہیں۔لہٰذا اے آئی سے خوفزدہ ہونا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل ضرورت اسے سمجھنے اور ذمہ داری سے استعمال کرنے کی ہے۔
روزگار کے بارے میں بھی ہمیں جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ اے آئی بعض کام ضرور کم کر سکتی ہے اور کچھ ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے، لیکن نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نئے کام اور نئی مہارتیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے نوجوان اس تبدیلی کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
پاکستان کے تعلیمی نظام کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ طلبہ کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ اے آئی سے جواب کیسے حاصل کرنا ہے، بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ اے آئی کے جواب کو پرکھا کیسے جائے۔ کیونکہ اے آئی کا جواب ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔
اور پھر آتا ہے“Kill Switch”کا سوال۔کیا صرف ایک بٹن اے آئی کی حفاظت کی ضمانت دے سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ طاقتور اے آئی کے لیے کئی حفاظتی دیواریں ضروری ہوں گی،انسانی نگرانی، محدود اختیارات، مسلسل جانچ، سرگرمیوں کا ریکارڈ، آزادانہ ٹیسٹنگ اور ضرورت پڑنے پر فوری بندش۔اصل اصول بہت واضح ہے:مشین کتنی ہی ذہین کیوں نہ ہو، آخری اختیار انسان کے پاس رہنا چاہیے۔
ہمیں ایسی اے آئی چاہیے جو ہماری مدد کرے، ہمارے فیصلوں کو بہتر بنائے اور زندگی آسان کرے؛ ایسی اے آئی نہیں جس کے فیصلوں پر انسان بے اختیار ہو جائے۔“Kill Switch”دراصل اے آئی کے خلاف اعلان نہیں۔ یہ ذمہ دار ٹیکنالوجی کی ایک بنیادی شرط ہے۔ جس طرح طاقتور گاڑی کے لیے مضبوط بریک ضروری ہے، اسی طرح طاقتور مصنوعی ذہانت کے لیے بھی مضبوط حفاظتی نظام ضروری ہے۔آنے والے برسوں میں اے آئی ہماری زندگی کا حصہ مزید بنے گی۔ سوال یہ نہیں کہ ہم اسے استعمال کریں گے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اسے استعمال کرنے سے پہلے اسے روکنے کا انتظام کر چکے ہوں گے یا نہیں۔کیونکہ ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک سادہ اصول ہے:جتنی زیادہ طاقت، اتنی ہی زیادہ ذمہ داری؛اور جتنی زیادہ ذہانت، اتنی ہی مضبوط بریک۔
مزید پڑھیں






