Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عکس ما ں ،تحریر : کلثوم افتخار

نقطہ نظر


کہا جاتا ہے کہ بیٹیاں ماں کا عکس یا پرتو ہوتی ہیں بات تو بڑی زو معنی ہے یعنی ماں کا ائینہ ماں جیسی ماں کی تمام جملہ خصوصیات رکھنے والی لیکن بڑا گہرا مطلب ہے سیانے کہتے ہیں بیٹیوں سے ماں باپ کو جنازے سج جاتے ہیں لیکن بات صرف ماں باپ کے جنازے تک نہیں رہتی ماں باپ کے جانے کے بعد ڈم ماں کا کمرہ خالی ہو جاتا ہے وہ تخت شاہی جس پر کبھی ماں نے بیٹھ کر پورے گھر کے انتظامات کو سنبھالا ہوتا ہے سوچا جائے تو اس تخت کا اصل وارث کون ہوتا ہے بیٹیاں یا بوئیں گھر کو جوڑ کر رکھنے والی پھر بیٹی اپنا کردار ادا کرتی ہے اور اسی طرح صبر شکر تحمل برداشت کے ساتھ معاملہ فہم ہو کر تمام معاملات کی کی الجھی ہوئی ڈوریں سلجھانے لگ جاتی ہے اور یوں ہی جب وہ بیٹی اپنے سسرال سے میکے اتی ہے تو اسی کوشش میں ساری عمر بتا دیتی ہے کہ اس کے بھائیوں اور بھابھیوں کے اختلافات گھر میں نفاق کا باعث نہ بنے اور اس کا گھر ویسے ہی چڑیوں کی چہچہاٹ سے گونجتا رہے ویسے ہی اس کے ہاتھ میں بھی ماں کا ذائقہ ا جاتا ہے اور پھر اس کے کھانوں میں بھی وہی خوشبو لوٹ اتی ہے جو کبھی ماں کے ہاتھ کے پکے ہوئے کھانوں میں تھی پھر کبھی ہم اپنی بہنوں میں اپنی ماں کا عکس تلاش کرتے ہیں کسی بہن کی چال ڈھال کپڑے پہننے کا طریقہ سلیقہ رنگ نقش لب و لہجہ ماں سے ملتا جلتا نظر انے لگتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہم اپنی اس بہن میں ماں کا پیار ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری اس بہن کو بھی یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کب وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ماں جیسی بن جاتی ہے ماں جیسی چھپر چھایا بن جاتی ہے سب کے دکھوں کو اپنی جھولی میں سمیٹنے کی کیفیت کو ماں جیسی بہن کہتے ہیں گرمیوں کی چھٹیوں میں سردیوں کی شاموں میں اپنی ماں جیسی بہن کے پاس بیٹھنا چائے کا ایک کپ بھی نہ اور پھر ماں باپ سے جڑی ہوئی یادوں کو سمیٹنا اور پھر اپنی ذات میں ماں باپ کو کھوجنا ہی تو محبت کی اصل معراج ہے