Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کیا وقت واقعی گزرتا ہے، یا ہم گزر جاتے ہیں؟تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

اگر میں آپ سے اس لمحے ایک سوال پوچھوں تو شاید آپ فوراً جواب نہ دے سکیں۔

کیا واقعی وقت گزرتا ہے؟

ہم بچپن سے یہی سنتے آئے ہیں کہ "وقت گزر گیا"، "وقت بدل گیا"، "وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔" مگر کبھی کسی نے رک کر یہ سوچا کہ شاید وقت اپنی جگہ قائم رہتا ہے، اور گزرنے والے ہم ہوتے ہیں۔

ذرا اپنی زندگی کے کسی پرانے دن کو یاد کیجیے۔ وہی گلی، وہی گھر، وہی صحن، وہی دروازہ، جہاں کبھی آپ کی ہنسی گونجتی تھی۔ آج اگر آپ وہاں جائیں تو ممکن ہے سب کچھ ویسا ہی ہو، مگر ایک چیز ضرور بدل چکی ہوگی... آپ۔

دیواریں شاید اب بھی وہی ہوں، مگر ان پر ٹکی ہوئی نگاہیں بدل گئی ہیں۔ راستے شاید آج بھی وہیں ہوں، مگر ان پر چلنے والے قدم پہلے جیسے نہیں رہے۔ وقت نے شاید اپنے وجود میں کچھ نہ بدلا ہو، مگر اس نے ہمیں خاموشی سے بدل دیا۔

عجیب بات ہے کہ انسان پوری زندگی گھڑی کی سوئیوں کو دیکھتا رہتا ہے، مگر کبھی اپنے اندر چلنے والی گھڑی کی آواز نہیں سنتا۔ باہر کا وقت منٹوں اور گھنٹوں میں ناپا جا سکتا ہے، مگر اندر کا وقت احساسوں، جدائیوں، امیدوں اور ادھورے خوابوں میں گزرتا ہے۔

کبھی ایک لمحہ پوری زندگی جتنا طویل لگتا ہے، اور کبھی پوری زندگی ایک لمحے کی طرح ہاتھ سے پھسل جاتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم وقت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، لیکن شاید حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر طلوعِ آفتاب ہمارے حصے کی زندگی میں سے ایک دن کم کر دیتا ہے۔ ہر غروبِ آفتاب ہمیں ہماری منزل کے قریب نہیں، بلکہ ہماری آخری سانس کے قریب بھی لے آتا ہے۔

پھر بھی ہم ایسے جیتے ہیں جیسے ہمارے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں۔ ہم محبت کو کل پر ٹال دیتے ہیں، معافی کو کسی اور دن کے لیے چھوڑ دیتے ہیں، اپنے خوابوں کو "مناسب وقت" کا انتظار کرواتے رہتے ہیں۔ مگر زندگی اکثر مناسب وقت آنے سے پہلے ہی آگے بڑھ جاتی ہے۔

شاید سب سے بڑا دھوکا یہی ہے کہ ہمیں لگتا ہے ہمارے پاس بہت وقت ہے۔

اسی احساس نے شاید دل سے یہ رباعی کہلوائی:

وقت نے کچھ بھی نہیں، صرف ہمیں بدلا یہاں

چہرے وہی، خواب وہی، مگر نہ رہا دل کا جہاں

زینبؔ لمحوں کی قیمت تب سمجھ میں آتی ہے

جب ماضی صدا دے، اور لوٹنا ممکن نہ ہو...

شاید سوال یہ نہیں کہ وقت کتنا گزر گیا۔

اصل سوال یہ ہے کہ اس گزرتے ہوئے وقت میں ہم نے کتنا جیا؟

کتنی بار ہم نے کسی اپنے کو دل سے سنا؟ کتنی بار اپنے خوابوں کو صرف سوچا نہیں، ان کے لیے قدم بھی بڑھایا؟ کتنی بار ہم نے آئینے میں چہرہ نہیں، اپنی حقیقت دیکھی؟

آخرکار، وقت کبھی ہمارے خلاف نہیں ہوتا۔ وہ تو خاموش گواہ ہے۔ وہ صرف دیکھتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو کیسے گزارتے ہیں۔ فیصلہ ہمارا ہوتا ہے کہ ہم ہر دن کو صرف کیلنڈر کا ایک ورق بنائیں، یا اپنی کہانی کا ایسا باب، جسے برسوں بعد یاد کرتے ہوئے دل مسکرا اٹھے۔

شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ وقت نہیں گزرتا...

گزر تو ہم جاتے ہیں۔

اور سوال یہ ہے کہ جب ہم گزر جائیں گے، تو کیا ہمارے بعد صرف تاریخیں رہ جائیں گی، یا ایسی یادیں بھی، جو وقت سے زیادہ دیر تک زندہ رہیں؟