Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف ، سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

زندگی کا سفر کئی نشیب و فراز سے گزرتا ہے۔ کچھ چیزیں بچپن سے ہمارے ساتھ چلتی ہیں اور کچھ راستے وقت کے ساتھ بدلتے جاتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ بچپن ہی سے تقریر اور اظہارِ خیال کا شوق تھا۔ اسکول کے زمانے میں تقریری مقابلوں میں حصہ لیتا رہا اور کئی مقابلوں میں انعامات بھی حاصل کیے۔ شاید وہیں سے بولنے اور الفاظ سے رشتہ بننا شروع ہوا، جو آگے چل کر لکھنے تک پہنچا۔


میرا نام سید ضیغم حسن ہے۔ میں نے یونیورسٹی آف سرگودھا سے بی اے جرنلزم کیا اور بعد ازاں یونیورسٹی آف پنجاب سے ایم ایس سی ڈویلپمنٹ اسٹڈیز مکمل کی۔ تعلیم کے بعد عملی زندگی کا آغاز میڈیا سے کیا۔ صحافت کے ابتدائی دور میں مختلف پریس کانفرنسز اور صحافتی سرگرمیوں کو کور کرنے کا موقع ملا لیکن میڈیا کے ساتھ یہ سفر زیادہ طویل نہ چل سکا اور کچھ عرصے بعد میں نے صحافت کو خیرباد کہہ دیا۔


اس کے بعد زندگی نے ایک بالکل مختلف رخ اختیار کیا۔ کسٹمر سروس، ٹیم مینجمنٹ، آپریشنز، ڈیٹا اینالیسس اور ای کامرس کے شعبوں میں کام کیا۔ کئی سال اسی مصروف زندگی میں گزر گئے، لیکن لکھنے کا شوق کہیں اندر موجود رہا۔


میڈیا سے دوری کے بعد سوشل میڈیا نے اظہار کا ایک نیا راستہ دیا۔ میں نے "چوردروازہ" کے نام سے ایک پیج بنایا۔ اس وقت جو پڑھتا تھا، جو سوچتا تھا، جو محسوس کرتا تھا، لکھ دیتا تھا۔ شاید اس وقت مجھے یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ لکھنے کے ساتھ اختلاف بھی آئے گا۔ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کا مسئلہ یہ ہے کہ اختلافِ رائے اکثر ذاتی مخالفت بن جاتا ہے۔ پیج پر تنقید بڑھتی گئی اور بالآخر مجھے وہ پیج ڈیلیٹ کرنا پڑا۔


اس کے بعد اپنے نام سے پیج بنایا۔ آہستہ آہستہ لوگ جڑتے گئے اور آج وہاں تقریباً دس ہزار فالوورز ہیں۔ یوٹیوب بھی شروع کیا، کچھ ویڈیوز بنائیں، کچھ خیالات وہاں بھی شیئر کیے، لیکن ملازمت اور روزمرہ کی مصروفیات کے باعث اسے وہ وقت نہیں دے سکا جو شاید دینا چاہیے تھا۔


اس دوران پڑھنے کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ ابتدا میں تاریخ پڑھتا تھا، پھر فلسفے کی طرف گیا۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو کو پڑھا تو ذہن میں ایک نئی کھلبلی شروع ہوئی۔ کچھ سوال ایسے تھے جن کے جواب کتابوں میں بھی سیدھے نہیں ملتے تھے۔ شاید یہی وہ مرحلہ تھا جہاں مجھے محسوس ہوا کہ لکھنے کا مطلب صرف اپنی رائے بتانا نہیں، بلکہ کبھی کبھی اپنے ہی سوالات دوسروں کے سامنے رکھ دینا بھی ہے۔


کچھ عرصہ پہلے تک میں صحافت سے کافی دور تھا۔ پھر باغی رائٹرز فورم کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ یوں لگا جیسے کئی سال بعد دوبارہ اسی راستے پر قدم رکھا ہے جہاں سے کبھی سفر شروع کیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار میں پہلے سے زیادہ پڑھ چکا ہوں، زیادہ سوالات میرے ساتھ ہیں اور شاید اپنی بات کہنے سے پہلے اسے خود سمجھنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔


اب دوبارہ باقاعدہ صحافتی انداز میں لکھنے کا موقع ملا ہے۔ میری کوشش ہے کہ جو کچھ لکھوں وہ محض الفاظ کا مجموعہ نہ ہو بلکہ اس میں کوئی سوال ہو، کوئی خیال ہو، کوئی ایسی بات ہو جو پڑھنے والے کو چند لمحوں کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کر دے۔


میں خود کو ابھی کوئی بڑا لکھاری نہیں سمجھتا۔ سیکھنے کا سفر جاری ہے۔ کبھی کچھ لکھ کر لگتا ہے بات سمجھ آگئی، پھر کوئی نئی کتاب، کوئی نیا سوال یا زندگی کا کوئی تجربہ پچھلی بات کو دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔


شاید یہی میرا اصل تعارف ہے کہ میں اب بھی سیکھ رہا ہوں، پڑھ رہا ہوں، سوال کر رہا ہوں اور لکھ رہا ہوں۔