Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک قاتل رات ،تحریر :عقیل خان

نقطہ نظر
aqeel khan blog


زندگی کا سفر ایک مسافر کی مانند ہے جسے ایک دن اپنی منزل پر پہنچنا ہی ہے۔ اور وہ منزل ''موت'' ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس سے نہ کوئی فرار پا سکا ہے نہ پا سکے گا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ''کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِ'' ('ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے)

ہم سب صبح سے شام تک ''کل'' کے لیے جی رہے ہوتے ہیں اور موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ''آج'' ہی سب کچھ ہے۔ موت انصاف ہے بادشاہ ہو یا فقیر، جوان ہو یا بوڑھا، امیر ہو یا غریب - موت کے دروازے پر سب برابر ہیں۔ نہ کوئی سفارش چلتی ہے نہ کوئی رشوت۔ یہی وجہ ہے کہ موت کو ''حقیقت'' کہا جاتا ہے۔ باقی سب عارضی ہیں۔

موت کے بعد کیا رہ جاتا ہے؟انسان کا جسم مٹی ہو جاتا ہے، لیکن 3 چیزیں زندہ رہتی ہیں:

1. نیک اولاد جو دعا کرے، 2. صدقہ جاریہ - کوئی کنواں، درخت، سکول، علم ، 3. علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں

یعنی موت جسم کو ختم کرتی ہے، کردار کو نہیں۔

زندگی ایک امانت ہے۔ موت اس امانت کی واپسی کی تاریخ ہے۔ تاریخ کسی کو نہیں بتائی جاتی۔ اس لیے ہر دن ایسے جیو جیسے یہ آخری ہو اور ہر کام ایسے کرو جیسے تمہیں ہمیشہ جینا ہے۔انسان ساری عمر ''کل'' کے چکر میں ''آج'' گنوا دیتا ہے۔ موت وہ سچ ہے جو ہمیں ''آج'' کی قیمت یاد دلاتی ہے۔ہم موت سے کیوں ڈرتے ہیں؟ کیونکہ ہم نے زندگی کو موقع نہیں دیا۔ رشتوں کو وقت نہیں دیا۔ معافی مانگنی تھی، نہیں مانگی۔ شکر کرنا تھا، نہیں کیا۔ نیکی کرنی تھی، ''کل پر'' ٹال دی۔اصل کامیابی وہ نہیں جو دنیا مانے۔ اصل کامیابی وہ ہے جو موت کے بعد بھی زندہ رہے۔

کچھ راتیں صرف لمبی نہیں ہوتیں، وہ قاتل بن جاتی ہیں۔ وہ عمر چھین لیتی ہیں، خواب چھین لیتی ہیں، اور ایک پورا گھر سوگ میں ڈبو دیتی ہیں۔14اگست کی رات بھی ایسی ہی تھی۔ باہر موسم خوشگوار تھا۔لگا تھا کل ایک نئی صبح ہوگی مگر ہمیں کیا پتہ تھا کہ یہ رات ہمارے لیے ایک قاتل رات ثابت ہوگی۔ ہمیں کیا معلوم کہ آج کی رات ہمارے لیے دکھ اور تکلیف سے بھری ہوگی۔ اس رات میری جوان بھتیجی ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلی گئی۔اس قاتل رات نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔فجر سے پہلے وہ سانس، جو کل تک ہنستی تھی، خاموش ہو گئی۔جوان بیٹی کا جنازہ... یہ منظر اللہ کسی دشمن کو بھی نہ دکھائے۔ ہر طرف صف ماتم بچھ گیا۔اس کے معصوم بچوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کل کائنات سوتی کی سوتی رہ گئی۔ چھ دن کا معصوم بچہ اپنی ماں کی ممتا سے محروم ہوگیا۔ اب اسے کیا پتہ اس کی ماں کون ہے اور وہ کس کا دودھ پی کر جوان ہوا۔

جوانی میں موت سب سے بڑا صدمہ ہے۔ کیونکہ ادھورے خواب، ادھوری باتیں، اور ادھوری زندگی پیچھے رہ جاتی ہے۔لوگ کہتے ہیں وقت مرہم ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ وقت صرف زخم چھپانا سکھا دیتا ہے، بھرتا نہیں۔آج گھر میں اس کی ڈگری کا کارڈ، اس کے کپڑے، اس کی چوڑیاں اور سب سے بڑھ کر اس تین بچے سب موجود ہیں۔ بس وہ نہیں ہے

نبی ﷺ نے فرمایا کہ صبر کرنے والے کے لیے اللہ کے پاس بے حساب اجر ہے۔میری بھتیجی اب جنت کی حور ہے۔ وہاں وہ کسی تکلیف، کسی غم، کسی قاتل رات کا شکار نہیں ہوگی۔ وہ ہمارے لیے دعا کر رہی ہوگی۔اللہ نے اس کی روح لے لی اور قبر نے اس کا جسم لے لیامگر اس کی یادیں کوئی نہیں لے سکا۔اس کی ہنسی آج بھی دیواروں میں قید ہے۔ اس کی آواز آج بھی ہمارے فون میں محفوظ ہے۔

اللہ میرے بھائی اور بھابھی اور ہمارے سب گھروالوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ اور میری بھتیجی کی قبر کو جنت کا باغ بنا دے۔ آمین۔

آخر میں بس یہی:زندگی کا بھروسہ نہیں۔ پیاروں کو وقت دیں۔ ان سے ''محبت ہے '' کہہ دیں۔ کیونکہ ایک رات ایسی بھی آ سکتی ہے جس کا نام ''قاتل رات'' پڑ جائے۔اس لیے آج مسکرا لیں۔ آج معاف کر دیں۔ آج کسی کا کام آ جائیں۔ کیونکہ کل کا وعدہ کسی نے نہیں کیا۔''جیو ایسے کہ مرنے کے بعد بھی لوگ یاد رکھیں ''