کوہاٹ خودکش حملہ:پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے مذمت کو ناکافی قرار دیا

پاکستان نے کوہاٹ خودکش حملے پر افغان طالبان کی جانب سے مذمت کو ناکافی قرار دیا ہے-
وزارت اطلاعات کے مطابق فغان وزارت خارجہ کے بیان میں دہشتگردی کا ذکر تک نہیں کیا گیا، صرف مذمت کافی نہیں بلکہ اسے عملی اقدامات کے ساتھ ثابت کرنا ہوگا، پاکستان نے افغان طالبان سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف قابل اعتماد اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ،کو ہاٹ حملہ افغانستان میں جڑیں رکھنے والے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے کیا، جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دہشتگردی کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ہی کوئی جواز۔ دہشتگردی میں ملوث، سہولت کاری کرنے وا لے یا دہشتگردوں کو پناہ دینے والے انسانیت کے بدترین دشمن ہیں۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی جانب سے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے پر بارہا سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے ساتھ ساتھ بھرتی اور معاو نت کا بنیادی ڈھانچہ پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ یہ تحفظات افغان طالبان حکومت اور اس کے رابطہ کاروں تک بارہا پہنچائے جاچکے ہیں، انہیں ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے کے بجائے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہوگا۔
پاکستان نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کو ‘کچل دینے والے جواب’ کی دھمکی کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کررہی ہے،افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے والے نظام سے نمٹنا چا ہیے، نہ کہ ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اس طرح کی کوششیں دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان کی انسداد دہشتگردی کی ذمہ داریوں اور اس عزم کو چھپا نہیں سکتیں کہ افغان سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف خطرات کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
https://x.com/MoIB_Official/status/2101331721962623143?s=20
پاکستان نے افغان وزارت خارجہ کی جانب سے ‘کوہاٹ حملے’ کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کا نوٹس لیتے ہوئےکہا کہ افغان بیان میں دہشتگردی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم صرف مذمت کافی نہیں ، اسے عملی اقدامات کے ساتھ ثابت کرنا ہوگا، دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے، انتہاپسندوں کی بھرتی اور تربیت کے نیٹ ورکس کو توڑنے اور دہشتگرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بند ی، سہولت کاری یا کارروائی سے روکنے کے لیے قابل اعتماد، قابل تصدیق اور مسلسل اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان نے کہا کہ اس نے افغان طالبان کے ساتھ مسلسل مذاکرات اور تعمیری رابطے کی پالیسی اختیار کی ہےتاہم مذاکرات کا بہانہ ان عناصر کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا جو پاکستا نی عوام کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان کے پاس دہشتگرد خطرات کے خاتمے کا عزم اور صلاحیت دونوں مو جود ہیں اور شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضر و ری اقدامات کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں





