Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بیج سے فصل تک ہر بوجھ کسان پر، فروخت کے وقت بھی مبینہ کٹوتیاں

مصنف:

گھوٹکی باغی ٹی وی / نامہ نگار: مشتاق علی لغاری


گھوٹکی: سندھ کی زرعی معیشت کا پہیہ جس آبادگار کے خون پسینے سے چلتا ہے، آج وہی آبادگار اپنی تیار فصل کی مناسب قیمت کے لیے پریشان دکھائی دیتا ہے۔ ضلع گھوٹکی میں چاول کی خریداری کے دوران مبینہ کٹوتیوں، کم نرخوں، وزن، نمی، باردانے اور دیگر مدات سے متعلق شکایات نے آبادگاروں میں شدید تشویش پیدا کردی ہے۔ آبادگار رہنماؤں نے حکومت، ضلعی انتظامیہ، محکمہ زراعت اور رائس مل مالکان سے مطالبہ کیا ہے کہ خریداری کے عمل میں شفافیت یقینی بنا کر آبادگاروں کو ان کی فصل کی جائز قیمت دلائی جائے۔


کریم میں آبادگاروں کی اہم بیٹھک کے دوران آبادگار رہنماؤں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فصل تیار کرنے تک آبادگار کو بیج، کھاد، زرعی ادویات، پانی، بجلی، ڈیزل، مزدوری اور دیگر اخراجات کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ موسمی حالات اور زرعی خطرات بھی اسی کے ذمہ ہوتے ہیں، لیکن جب مہینوں کی محنت کے بعد فصل فروخت کرنے کا وقت آتا ہے تو مبینہ طور پر مختلف مدات میں کٹوتیوں اور کم نرخوں کے باعث آبادگار کی آمدنی مزید سکڑ جاتی ہے۔


آبادگاروں کا کہنا ہے کہ چاول کی خریداری کے دوران نمی (Moisture)، وزن، باردانے، مل ٹیکس اور دیگر مدات کے نام پر ہونے والی مبینہ کٹوتیوں کی مکمل تفصیل آبادگار کے سامنے ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی فصل کے معیار میں کوئی کمی ہو تو اس کا پیمانہ، شرح اور کٹوتی کا طریقہ واضح اور تحریری ہونا چاہیے تاکہ آبادگار کو معلوم ہو کہ اس کی فصل کی قیمت کس بنیاد پر کم کی گئی۔


آبادگار رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ جب بیج مہنگا، کھاد مہنگی، زرعی ادویات مہنگی، ڈیزل مہنگا، بجلی مہنگی اور مزدوری مہنگی ہو تو فصل کی قیمت طے کرتے وقت آبادگار کی پیداواری لاگت کو نظرانداز کیوں کیا جاتا ہے؟


انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی پیداوار بڑھانے اور ملکی معیشت مضبوط کرنے کے دعوے کرتی ہے، مگر اگر پیداوار کا بنیادی ذمہ دار آبادگار ہی اپنی فصل کی مناسب قیمت سے محروم رہے تو یہ پالیسی عملی سطح پر کیسے کامیاب ہوسکتی ہے؟


آبادگاروں کے مطابق یہ مسئلہ صرف کریم تک محدود نہیں بلکہ ضلع گھوٹکی کے مختلف زرعی علاقوں میں فصل کی قیمت، خریداری کے طریقہ کار، پانی، بجلی اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت سے متعلق مسائل آبادگاروں کے لیے مستقل تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔


گھوٹکی، میرپور ماتھیلو، ڈہرکی اور اوباوڑو سمیت ضلع کے مختلف علاقوں میں زراعت سے وابستہ خاندانوں کا روزگار براہِ راست فصلوں اور زرعی سرگرمیوں سے جڑا ہوا ہے۔ آبادگاروں کا کہنا ہے کہ اگر انہیں پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملی تو اس کا اثر صرف ایک کسان کے گھر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مزدور، ٹرانسپورٹر، آڑھتی، تاجر اور مقامی کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی۔


آبادگار رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ چاول کی خریداری کے تمام مراکز پر وزن، نمی، خریداری نرخ، باردانے اور کٹوتیوں کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے اور ہر آبادگار کو اس کی فصل کے وزن، معیار، مقررہ نرخ اور کی جانے والی کسی بھی کٹوتی کی تحریری رسید فراہم کی جائے۔


انہوں نے ڈپٹی کمشنر گھوٹکی، محکمہ زراعت اور متعلقہ ضلعی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ خریداری مراکز کے اچانک معائنے کریں، آبادگاروں کی شکایات براہِ راست سنیں اور مبینہ غیرضروری کٹوتیوں کے حوالے سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔


آبادگار رہنماؤں نے کہا کہ صرف سرکاری بیانات اور کاغذی کارروائی کافی نہیں؛ فصل خریدنے کے مقام پر آبادگار کو عملی تحفظ اور شفاف نظام فراہم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ایسا طریقہ کار ہونا چاہیے جس میں آبادگار کو اپنی فصل کے معیار، وزن، نرخ اور کٹوتی کی مکمل معلومات موقع پر فراہم کی جائیں۔


انہوں نے حکومت اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ آبادگاروں کے مسائل کو سیاسی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے حل کیا جائے اور چاول کی خریداری کے نظام کی مؤثر نگرانی کی جائے۔


آبادگار رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی، مبینہ کٹوتیوں کا سلسلہ جاری رہا اور فصل کی مناسب قیمت کا مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ احتجاج، دھرنے اور دیگر قانونی و جمہوری اقدامات کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL