پنک اکتوبر، پاکستان میں بریسٹ کینسر ،آگاہی سے آگے،تحریر::صدف ابرار
نقطہ نظر
ہر سال اکتوبر کا مہینہ دنیا بھر میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس موقع پر گلابی ربن، آگاہی مہمات، واکس اور سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے خواتین کو اپنی صحت کے بارے میں محتاط رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ لیکن گلابی رنگ کی اس مہم کے پیچھے ایک ایسا سنگین سوال موجود ہے جس پر صرف ایک ماہ نہیں بلکہ پورا سال بات ہونی چاہیے.
اگر ایک پاکستانی خاتون کو اپنی چھاتی میں کوئی غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو تو کیا وہ بروقت تشخیص اور علاج تک پہنچ سکتی ہے؟
بریسٹ کینسر صرف ایک بیماری نہیں بلکہ ایسا بحران ہے جو ایک خاتون کے ساتھ پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے۔ تشخیص کے بعد علاج کے اخراجات، گھریلو ذمہ داریاں، معاشرتی دباؤ اور بیماری کے خوف کا سامنا ایک ساتھ کرنا پڑتا ہے۔
بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیقِ سرطان کے تازہ ترین عالمی تخمینوں کے مطابق، جو 2024 کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں، پاکستان میں ایک سال کے دوران بریسٹ کینسر کے تقریباً 43,721 نئے کیسز سامنے آنے کا تخمینہ لگایا گیا۔ خواتین میں عمر کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے بیماری کی شرح تقریباً 47.3 فی ایک لاکھ خواتین جبکہ اموات کی شرح 22.2 فی ایک لاکھ خواتین رہی۔
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ یہ تخمینی اعداد و شمار ہیں، حتمی قومی گنتی نہیں۔ 2026 میں دستیاب تازہ ترین عالمی سطح پر قابلِ موازنہ اعداد و شمار 2024 سے متعلق ہیں۔ اس لیے 2025 یا 2026 کے لیے ان اعداد کو حقیقی اور حتمی کیسز کی تعداد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
لیکن اعداد و شمار کہانی کا صرف ایک حصہ بیان کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ تشخیص میں تاخیر بھی ہے۔
پاکستانی خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں شامل 125 مریضوں میں سے 88.8 فیصد خواتین دیر سے طبی مرکز پہنچیں، جبکہ 59 فیصد خواتین میں بیماری کی تشخیص تیسرے یا چوتھے مرحلے میں ہوئی۔ تحقیق کے مطابق بیماری سے متعلق کم معلومات، چھاتی میں بغیر درد کے غیر معمولی تبدیلی کو خطرناک نہ سمجھنا اور مالی مشکلات تاخیر کی اہم وجوہات میں شامل تھیں۔
کراچی میں 499 نئی تشخیص شدہ بریسٹ کینسر مریضوں پر کی جانے والی ایک اور تحقیق میں ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں مریضوں کی اوسط تاخیر 15.7 ماہ ریکارڈ کی گئی۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 55.2 فیصد خواتین نے اپنی چھاتی میں غیر معمولی تبدیلی یا ابھار محسوس کیا تھا، لیکن انہوں نے فوری طبی مشورہ حاصل نہیں کیا کیونکہ انہیں اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔
یہ اعداد ایک اہم حقیقت سامنے لاتے ہیں صرف آگاہی کافی نہیں۔
ایک خاتون کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ بریسٹ کینسر ایک خطرناک بیماری ہے، لیکن اگر وہ اپنی چھاتی میں ہونے والی کسی غیر معمولی تبدیلی کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دے، درد نہ ہونے کی وجہ سے مطمئن ہو جائے، تشخیص کے خوف سے ڈاکٹر کے پاس جانے سے گریز کرے یا علاج کے اخراجات سے خوفزدہ ہو، تو محض آگاہی اسے بروقت علاج تک نہیں پہنچا سکتی۔
عالمی ادارۂ صحت کے عالمی بریسٹ کینسر اقدام کے مطابق اس بیماری سے نمٹنے کے لیے تین بنیادی مراحل انتہائی اہم ہیں: ابتدائی شناخت، بروقت تشخیص اور مکمل علاج۔
پاکستان میں بھی بریسٹ کینسر کے خلاف جنگ کو صرف آگاہی مہمات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ خواتین کو قابلِ اعتماد معلومات، آسانی سے دستیاب طبی سہولیات، بروقت تشخیصی خدمات اور معیاری علاج تک رسائی ملنی چاہیے۔
پنک اکتوبر کا مقصد صرف گلابی ربن پہننا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ایک خاتون اپنی چھاتی میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلی کو نظرانداز نہ کرے، بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرے، درست تشخیص حاصل کرے اور اگر بیماری کی تصدیق ہو تو اسے علاج کے لیے مہینوں انتظار نہ کرنا پڑے۔
آگاہی صرف معلومات دینے کا نام نہیں؛ آگاہی وہ ہے جو انسان کو بروقت قدم اٹھانے کے قابل بنائے۔
اکتوبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بریسٹ کینسر کے بارے میں بات کرنا ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ یہ گفتگو اکتوبر کے اختتام کے ساتھ ختم نہ ہو۔ کیونکہ ایک خاتون کے لیے کینسر کا سفر کسی کیلنڈر کے ایک مہینے تک محدود نہیں ہوتا۔
پاکستان کو صرف گلابی ربن نہیں، بروقت تشخیص، قابلِ رسائی علاج اور مسلسل صحت کی سہولیات کی ضرورت ہے۔ یہی پنک اکتوبر کی اصل روح ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں





