بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ارشد انصاری کیساتھ ہاتھا پائی اور لڑائی کی خبریں ,صحافی حفیظ اللہ نیازی نے واقعے کی سچائی بتا دی


سینئر صحافی اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے اپنے ساتھ کسی بھی قسم کی ہاتھا پائی یا لڑائی جھگڑے کی افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے-


سوشل میڈیا پر خبریں زیردش گردش ہیں کہ حفیظ اللہ نیازی اور صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کے درمیان شدید تلخ کلامی، گالم گلوچ اور ہاتھا پائی۔ تقریب کے دوران ایک دوسرے پر سخت جملوں کی بوچھاڑ، ہوئی ہے جس کی اب سینئیر صحافی نے ایک ویڈیو کے ذریعے تردید کی ہے-


سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں گردش کرنے والی ان خبروں کے جواب میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ یا جسمانی تصادم پیش نہیں آیاانہوں نے ان افواہوں کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی جھوٹی خبریں صرف سنسنی پھیلانے اور ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں-


حفیظ اللہ نیازی نے اس واقعے کے پیچھے کی وجہ بھی بتائی انہوں نے کہا کہ اس وقعے کے بعد میں نے دریافت کیا ہے کہ ایک منظم جرم پروان چڑھ چکا ہے اگر یہ واقعہ نا ہوتا تو مجھے اس کی سن گن ہی نا لگ پاتی،انہوں نے کسی کا نام ؛لئے بغیر کہا کہ سوشل میڈیا پر خبریں وائرل ہو رپی ہیں کہ میری کسی کے ساتھ کوئی چپقلش ہوئی ہے اور بات ہاتھا پائی تک پہنچی تو یہ غلط ہے یہ مبالغہ آرائی ہے ہاتھا پائی بالکل نہیں ہوئی او رنہ ہی اس کی نوبت آئی ہے،اس سے پہلے ہی میری طرف سے چیزیں ختم ہو گئیں تھیں رفع دفع ہو گئیں تھیں،لیکن دوسرے کونے سے جا کے جس دوسرے بندے کا نام لیا جا رہا ہے اس نے مغلظات بکیں گالم گلوچ کی اور بڑئ گندی غلیظ زبان استعمال یں جبکہ وہں پر خواتین اورمرد لوگ بھی تھے مجھ تک سوشل میڈیا کے ذریعے یہ سب بات پہنچی-


انہوں نے اس کے پیچھے کا واقعہ بتایا کہ ان کے پاس ایک قن کے قریبی جاننے والے ایک بندے کو لے کر آئے کہ اس کا بچہ مرید کے میں ایک فیکٹری میں کام کرتا وہ کام چھوڑ کر چلا گیا ،اس مالک کا نام اعجاز ہے اس کو قلق ہوا اس نے بُرا منا لیا بعد میں اس لڑکے کوپتہ چلا کہ اس پر ایک ایف آئی آر بنائی گئی ہے جس میں اس پر 50 لاکھ روپے کے غبن کا الزام لگا گیا ہے حفیظ اللہ نیازی کے مطابق ان کے پاس وہ اسی لئے آئے کہ انہوں نے سنا ہوا تھا کہ رانا تنویر اقبال جو وہاں ایم این اے اور وفاقی وزیر ہیں ان کے ساتھ قریبی دوستی ہےان سے سفارش کی درخواست کی جو انہوں نے کر دی-


سینئیر صحافی نے مزید بتایا کہ انہوں نے رانا تنویر اقبال کو کہا کہ ابھی وہ خود اس بات کو دیکھ لیتے ہیں اگر ضرورت پڑی تو وہ وہاں ڈی پی اور یا پولیس حکام سے بات کردیں گے ان کے مطابق انہوں نے فیکٹری مالک کو بھی اپنے نام کے ساتھ میسج کیا ان بچوں کا میرے اوپر بھروہ بڑھ گیا وہ میرے پاس دوبارہ آ گئے اور بیٹھے رہے آپ نے کسی سے کچھ کہا نہیں آپ ات کریں اور ان کے پیچھے علامہ طاہر اشرفی کا پریشر ہے علامہ صاحب پمارے بہت اچھے دوست ہیں ان کو میں نے کال کیا اور کہا کہ آپ کن چکروں میں پڑ گئے ہیں اپ کو تو جا ر سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی کے اند ر جا کر ثالثی ادا کرنی چایئے بہرحال انہوں نے میری بات بہت اچھے سے سنی ان کو کسی بات کا نہں پتہ تھا جس پر مجے غصہ آیا لوگ الٹی سیدھی باتیں اپنے پاس سے آ کر بتا دیتے ہیں میں نے وہاں کے ڈی پی او بلال ظفر شیخ کا نمبر لیا میں نے ان لوگوں کی پریشانی دیکھ کر اپنے بھتیجے سے کہا ان کا کام کرنے کو ،آئی جی کے نام درخواست لکھی اور پیغام آ گیا آپ انویسٹی گشن افسر سے آکر ملیں جب وہ بچہ ایس پی انویسٹی گیشن سے ملا تو مجھے انہوں نے وہی رپورٹ دی جو کہ آئی جی کو درخواست میں لکھا گئی تھی-


حفیظاللہ نیازی کے مطابق ان کو بتایا گیا کہ یہ بالکل جھوٹی ایف آئی آر ہے اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی کائی گرفتاری نہیں ہو گی اور یہ بالکل کھوٹی ایف آئی آر کٹوائی گئی ہے اور یہ ان آفیشلز نے بتایا جنہوں نے ایف آئی آر کاٹی،بعد میں ہمارے اوپر اب پریشر ہے لاہور پریس کلب کا عہدیدار ہےجس کا نام ارشد انصاری ہے جبکہ ایس پی انویسٹی گیشن نے ان متاثرہ لڑکوں کو بھی بتا دیا کہ یہ ایف آئی آر جھوٹی ہے اور ان میں جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ کسی طور بھی مناسب نہیں ہیں اوریہ ایف آئی آر ختم ہو جائے گی۔


انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے بعد وہ ایک تقریب میں گئے میزبان سے ملنے سے پہلے ان کا ٹاکرا ارشد انصارئ سے ہوا ان سےمیں نے پوچھا ایک لڑکا ہے جس کا نام مجھے یاد نہین اس کے خلاف آپ نے جھوٹی اف آئی آر کٹوائی ہوئی ہے انہوں نے کہا کونسا لڑکا مجھے پتہ نہیں میں نے کہا لڑکے کا نام یاد نہیں لیکن فیکٹری مالک کا نام احمد اعجاز ہے تب ارشد انصاری نے کہا کہ اس لڑکے نے تو فراڈ کیا ہوا جس پر میں نے کہا وہ تو مجھے پولیس نے بتا دیا لیکن جس بندے نے ایف آئی آر کٹوائی مجھے انتہائی فراڈیہ اور بیلک میلر لگتا ہے ایک انڈسٹری کا مالک ہے اور ایک بچے کو بلیک میل کر رہا ہے،اس پر ارشد انصاری نے مہرے ساتھ بحث شروع کردی جو کہ جھگڑے والی تو نہیں تھی اس نے کہا اس سے پیسے نکلوانے ہیں ہم نے،حفیظ اللہ نیازی کے مطابق انہوں نے کہا اگر یہ صحیح ہے تووہ پیسے دے گا اگر اسے بیلک میل کیا جا رہا ہے تو میں اس مالک کر ایک کروڑ ہرجانے کا دعویٰ کرواوں گا-


سینئیر صحافی کے مطابق میں نے انہیں نصیحت کی کہا کہ آپ ان بلیک میلنگ والے کاموں میں نا پڑیں کہ جس یں لوگوں کو بلیک میل کیا جا رہا ہواس کے پیچھے ایک حقیقت تھی جو مجھے پولیس آفیشلز نے کنفرم کی کہ یہ ایف آئی آر ایک بلیک میلنگ ہے تب تو نہیں لیکن بعد میں مجھے مبینہ طور پر پتہ چلا کہ یہ موصوف ارشد انصاری ایک بہت بڑے بلیک میلر ہیں انہوں نے بلیک میلنگ کے اندر نام پیدا کیا ہوا،میں وہ نصیحت کر کے بات کر کے نکال ہوں چند قدم دور گیا مجھے پیچھے سے غلیظ گالیوں کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں اچھل اچھل کر غیلظ زبان استعمال کر رہا تھا-


سینئیر صحافی کے مطابق انہوں نے بس ایک نصیحت کی تھی اور اچے سے بات کرنی چاہی تھی میں نے آج تک اپنی زندگی میں نے گالی دی نا قسم کھائی ہے اب اس سب میں پنجاب حکومت پر انگلی اٹھتی ہے کہ آرگنائز کرائم ایسے ہیں لوگ جا کر جھوٹی ایف آئئ آر کرواکر وگوں سے پیسہ بٹو رہے ہیں تو جو طالبان کے پی میں کر رہے ہیں یا جو ایم کیو ایم کراچی می کر رہی ہے ان مسے کیا مختلف ہے اگر یہ آپ تک پہنچی ہے اور اگر آپ کے پاس اتنا وقت ہے پنجاب کے نظم و نسق کو چلانے کا تو بھول جائیں گے یہ بلیک میلر صدر بن جائیں کسی چیز کے یا پریس کلب کے یی مافیا لوگ ہیں یہ کوئی نا کوئی عہدپ کرکھ لیتا یا کسی نا کسی سرکاری افسر سے تعلق بنا لیتے ہیں اب اس ایف آئی آر کو نقطہ بنا کر اس کی تفتیش کرائیں اور پولیس سے بھی شکایت ہے کہ جب وہ خود بتا رہے ہیں یہ ایف آئی آر غلط ہے تو انہوں نے تب یہ کاٹی کیوں کیا انپر تنا دباؤ ہے ان کو یہ سب کرنا پڑا؟-