مشرق وسطیٰ خصوصاً خلیجی ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام کیا جائے،چین

چین نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مشرق وسطیٰ، خصوصاً خلیجی ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پرے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
چین نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکا کی پالیسیوں پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے خلیجی ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دیا ہے اور کیوبا کے خلاف دھمکیوں اور پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے-
چینی نائب صدر ہان ژینگ نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکا کا براہِ راست نام نہیں لیا، تاہم ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے کیوبا پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں بھی امریکا اور چین کے درمیان اختلافات موجو د ہیں۔
ہان ژینگ نے کہا کہ بڑی طاقتوں پر عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انہیں بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی پاسداری میں مثال قائم کرنی چاہیے, چین کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک، جن میں خلیجی ریاستیں بھی شامل ہیں، کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کو ایران کی حمایت سے خبردار کیا تھا امریکی سفیر برائے چین کے مطابق شی جن پنگ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ چین ایران کی حمایت نہیں کرے گا۔
یہ انتباہ ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ نے ایران کو کندھے سے چلائے جانے والے فضائی دفاعی میزائل لانچرز فراہم کیے اور تہران نے چین کی مدد سے اپنے تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں سے بچنے کے طریقے تلاش کیے۔
چینی نائب صدر نے اپنی تقریر میں کیوبا کا معاملہ بھی اٹھایا اور امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ متعلقہ ملک کو کیوبا کے خلاف طاقت کے ا ستعمال کی دھمکی فوری طور پر روک دینی چاہیے اور کیوبا پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کرنی چاہیے,چین متعلقہ ملک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کیوبا کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی فوری طور پر بند کرے اور اس کے خلاف ناکہ بندی اور پابندیاں مکمل طور پر اٹھائے۔
چینی نائب صدر ہان ژینگ نے اپنی تقریر میں چین کو عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد شراکت دار اور ترقی پذیر ممالک کے مستقل حامی کے طور پر پیش کیا کہا کہ چین کا مؤقف ہے کہ بڑی ہو یا چھوٹی، تمام ریاستیں عالمی برادری کی برابر کی رکن ہیں اور عالمی معاملات تمام ممالک کی مشاورت سے طے کیے جانے چاہئیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں کیوبا کا بجلی کا نظام مکمل طور پر بیٹھ گیا تھا، جس کے باعث ملک میں بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش ہوئی اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔
چینی نائب صدر کے خطاب کے چند گھنٹے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے واشنگٹن سے کیوبا کا ’محاصرہ‘ ختم کرنے اور تجارتی پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا لاوروف نے امریکا سے کیوبا کو ’دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں‘ کی فہرست سے نکالنے کا بھی مطالبہ کیا۔
مزید پڑھیں




