Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

یو اے ای کی فنڈنگ سے امریکی مسلمانوں کیخلاف خفیہ مہم چلانے کا انکشاف

Abu dhabi skyline waterfront
مصنف:

لیک ہونے والی دستاویزات میں امریکی مسلم تنظیموں اور درجنوں شہریوں کو بدنام کرنے کے لیے مبینہ خفیہ منصوبے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔


واشنگٹن: لیک ہونے والی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے لیے کام کرنے والی ایک نجی انٹیلی جنس کمپنی نے امریکی مسلم تنظیموں اور درجنوں مسلم شہریوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے مبینہ طور پر ایک منظم مہم چلائی۔


امریکی خبر رساں ادارے ڈراپ سائٹ نیوز کی حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق جنیوا میں قائم نجی انٹیلی جنس کمپنی الپ سروسز (Alp Services) نے 2018 میں امریکی مسلم تنظیموں سے متعلق ایک رپورٹ تیار کروائی، جس کا مقصد ان تنظیموں کو اخوان المسلمون سے منسلک ظاہر کرکے ان کی ساکھ متاثر کرنا تھا۔رپورٹ امریکی محقق لورینزو ویڈینو نے تیار کی تھی، جو جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروگرام آن ایکسٹریمزم کے سربراہ ہیں۔ ’’دی ایم بی اِن دی یو ایس‘‘ کے عنوان سے تیار کردہ رپورٹ میں متعدد امریکی مسلم تنظیموں، مساجد، سماجی کارکنوں اور مذہبی رہنماؤں کے نام شامل کیے گئے تھے۔ان تنظیموں میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR)، اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا (ISNA)، مسلم پبلک افیئرز کونسل (MPAC)، مسلم امریکن سوسائٹی (MAS)، یو ایس کونسل آف مسلم آرگنائزیشنز اور اسلامک ریلیف یو ایس اے شامل ہیں۔رپورٹ میں ان تنظیموں اور افراد کو مبینہ طور پر اخوان المسلمون کے وسیع خفیہ نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا گیا، تاہم ڈراپ سائٹ نیوز کے مطابق رپورٹ میں ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔


دستاویزات کے مطابق الپ سروسز نے جولائی 2017 میں ایک منصوبہ تیار کیا تھا، جس کے تحت امریکا اور یورپ میں اخوان المسلمون اور قطر کے مبینہ اثرورسوخ کے نیٹ ورک کا نقشہ تیار کرنا تھا۔ اس منصوبے میں فلاحی اداروں، لابنگ گروپس، میڈیا اداروں، ماہرین تعلیم، سیاسی حامیوں، بینکوں اور کاروباری شخصیات کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔فروری 2018 میں ’’آرنیکا 6‘‘ کے نام سے ایک کارروائی کی منظوری دی گئی، جس کے منصوبے میں منفی میڈیا رپورٹس شائع کروانا، صحافیوں کو پس پردہ معلومات فراہم کرنا، وکی پیڈیا پر متعلقہ افراد کے خلاف منفی مواد شامل کرنا، مالیاتی نگرانی کے اداروں کو منفی معلومات بھیجنا اور سیاسی لابنگ کرنا شامل تھا۔دستاویزات کے مطابق لورینزو ویڈینو نے 12 مئی 2018 کو اپنی رپورٹ اور دیگر متعلقہ دستاویزات واٹس ایپ کے ذریعے الپ سروسز کو بھیجی تھیں۔ رپورٹ کی تیاری کے لیے مجوزہ معاوضہ 2 ہزار یورو تھا، جبکہ بعد ازاں یہ رپورٹ اماراتی ادارے ARIAF Studies and Research LLC کے لیے تیار کی گئی۔


رپورٹ میں شامل امریکی مسلم تنظیموں اور کارکنوں نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی مقاصد کے تحت بدنام کرنے اور امریکی سیاسی و سماجی سرگرمیوں سے باہر رکھنے کی کوشش قرار دیا۔مسلم پبلک افیئرز کونسل کے صدر سلام المریاتی نے کہا کہ ان حربوں کے ذریعے مسلم تنظیموں کو طویل عرصے سے سیاسی عمل سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق امریکی مسلم تنظیموں کے خلاف یہ مہم بعد کے برسوں میں بھی جاری رہی۔ 5 اگست 2026 کو امریکی سینیٹ کی جوڈیشری ذیلی کمیٹی میں ہونے والی سماعت کے دوران بھی بعض مسلم تنظیموں کو اخوان المسلمون اور حماس کے مبینہ خفیہ ڈھانچے کا حصہ قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دلوانے کی کوششیں مغربی ممالک میں بھی جاری رہی ہیں۔ نومبر 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مصر، اردن اور لبنان میں اخوان المسلمون کی بعض شاخوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔


دوسری جانب امریکی مسلم برائے فلسطین کے قومی ڈائریکٹر اسامہ ابو ارشید نے کہا کہ ان کے اور ان کی تنظیم کے نام بھی رپورٹ میں شامل کیے گئے، تاہم ان کے بقول الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی شہریوں اور تنظیموں کو سیاسی طور پر منظم ہونے کا حق حاصل ہے اور ان کی سرگرمیاں عوامی سطح پر جاری ہیں۔رپورٹ کے مطابق لورینزو ویڈینو، الپ سروسز اور متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔