Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی کبھی حمایت نہیں کریں گے،حافظ نعیم

مصنف:

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، خیبر پختونخوا کے حالات اور مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


ملاقات میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد میں بیرسٹر گوہر، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر اور مصطفیٰ نواز کھوکھر شریک تھے، جبکہ جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کی۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بڑی اچھی گفتگو ہوئی ہے، جماعت اسلامی اے پی سی کی دعوت قبول کرتی ہے اور اس میں شرکت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ ہم سب کا پاکستان ہے، یہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے، موجودہ حالات میں مل بیٹھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے بات چیت کے لیے بہت تاخیر کی، تاہم مذاکرات کو کسی نتیجے پر پہنچنا چاہیے۔حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی کبھی حمایت نہیں کرے گی۔ بانی پی ٹی آئی پارٹی کے سربراہ ہیں، انہیں ملاقات کا موقع ملنا چاہیے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت گرفتار خواتین کو رہا ہونا چاہیے، جبکہ پہلے سے گرفتار رہنماؤں کو صحت اور قانونی مواقع ملنے چاہئیں۔ سیاسی عمل اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے جماعت اسلامی بھرپور ساتھ دے گی۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی مہم میں بھی اپوزیشن جماعتیں اپنا حصہ ڈالیں۔


بیرسٹر گوہر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج اخلاص کے ساتھ حکومتی وفد سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں۔ ہم نے کوئی پیشگی شرط نہیں رکھی، حکومتی موقف سن کر اپنا موقف رکھیں گے۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ایک اہم وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان کا نظام ناکام ہو چکا ہے، جو ملک سے محبت کرتے ہیں وہ خاموش نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کے پاس حاضر ہوئے اور ملاقات کا مقصد اے پی سی کی دعوت دینا تھا۔علامہ راجہ ناصر عباس کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی اور اس بات پر اتفاق ہے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج مسئلے کا حل نہیں۔