آزاد کشمیر: یوم تاسیس 24 اکتوبر ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
تاریخ کا چرکھا جب گھومتا ہے تو کچھ ایام محض ہندسوں اور مہینوں کے شمار تک محدود نہیں رہتے، بلکہ وہ قوموں کی قسمت، ان کے قومی شعور اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک ناقابلِ فراموش دن 24 اکتوبر 1947 ہے، جو تاریخِ کشمیر میں جدوجہد، خودداری اور جبر کے سامنے سینہ سپر ہونے کی ایک لازوال داستان کے طور پر درج ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب مقبوضہ ریاست کے مغرب اور شمال مغربی اضلاع کے غیور اور غیرت مند عوام نے ڈوگرہ راج کی دہائیوں پر محیط مظالم، ظالمانہ ٹیکسوں اور استبدادی تسلط کو ہمیشہ کے لیے پاش پاش کرتے ہوئے "آزاد جموں و کشمیر" کی بنیاد رکھی۔ اگر اس تاریخی دن کے تانے بانے بنے جائیں تو یہ محض ایک جغرافیائی خطے کا قیام نہیں تھا، بلکہ یہ مظلوم کشمیریوں کی اس اجتماعی بصیرت اور عزم کا مظہر تھا جس نے ثابت کیا کہ بندوق اور بارود کے زور پر کسی قوم کی آزادی اور خود مختاری کو زیادہ دیر دبایا نہیں جا سکتا۔
1947 کا وہ دور برصغیر کی تاریخ کا ایک انتہائی پرشور اور تغیر پذیر زمانہ تھا۔ انگریز سامراج برصغیر سے اپنا بستر گول کر رہا تھا اور دیسی ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی تھا۔ ایسے حساس موڑ پر ریاست جموں و کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے عوام کی اکثریت کی خواہشات اور جغرافیائی حقیقتوں سے منہ موڑتے ہوئے اپنے ظالمانہ رویے کو برقرار رکھا۔ خاص طور پر پونچھ اور میرپور کے علاقوں میں معاشی ناطقہ بند کرنے کے لیے چولہے اور مویشیوں تک پر سنگین ٹیکس عائد کر دیے گئے۔ مگر ڈوگرہ حکمران یہ بھول گئے تھے کہ ان علاقوں کے ہزاروں باشندے دوسری جنگِ عظیم کے تجربہ کار عسکری بصیرت سے لیس جوان تھے۔ جب معاشی جبر نے تشدد کا روپ دھارا تو پونچھ اور سدھنوتی کے غیور عوام نے زبردست مسلح اور سیاسی بغاوت کا علم بلند کر دیا۔ بے سر و سامانی کے عالم میں، بغیر کسی منظم فوج اور وسائل کے، محض جذبہِ ایمانی اور حبِ وطنی کے بل بوتے پر کشمیری مجاہدین نے ڈوگرہ فورسز کو پیچھے دھکیلا اور ایک وسیع علاقے کو واگزار کروا لیا۔
جب مہاراجہ کا انتظامی کنٹرول مکمل طور پر بکھر گیا تو خطے میں نظم و نسق، امن و امان کی بحالی اور جاری جدوجہد کو ایک سیاسی و قانونی سمت دینے کے لیے ایک منظم باڈی کی ضرورت پیش آئی۔ چنانچہ 24 اکتوبر 1947 کو غازیِ ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں "عارضی حکومتِ ریاستِ آزاد جموں و کشمیر" کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اس حکومت کا قیام کوئی یکایک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ 19 جولائی 1947 کو سری نگر میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے منظور ہونے والی تاریخی "قراردادِ الحاقِ پاکستان" کا عملی، انتظامی اور منطقی تسلسل تھا۔ اس عارضی حکومت کے لفظ میں ایک گہرا بین الاقوامی اور قانونی پیغام چھپا ہوا تھا، جس کا مقصد دنیا کو یہ بتانا تھا کہ یہ حکومت اس وقت تک عارضی ہے جب تک کہ پوری ریاست، بشمول مقبوضہ وادی اور جموں، کے مستقبل کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کے آزادانہ اور منصفانہ حقِ خود ارادیت کے ذریعے نہیں ہو جاتا۔
اس دن کی اہمیت اور نوعیت کا جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک خطے کی آزادی کا اعلان نہیں تھا بلکہ اس نے بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی سیاسی شناخت کو تسلیم کروایا۔ جب چند دن بعد، یعنی 27 اکتوبر کو، بھارت نے تمام اخلاقی اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سری نگر میں اپنی غاصبانہ فوجیں اتاریں، تو آزاد کشمیر کا یہ خطہ کشمیریوں کے لیے ایک مضبوط دفاعی ڈھال اور تحریکِ آزادی کے لیے ایک بیس کیمپ بن کر ابھرا۔ اگر 24 اکتوبر کو اس عارضی حکومت اور آزاد خطے کا قیام عمل میں نہ آتا تو آج کشمیری عوام کے پاس اپنی جدوجہد کو بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی قانونی یا انتظامی بنیاد موجود نہ ہوتی۔ اس خطے کی تشکیل نے یہ ثابت کیا کہ ڈوگرہ راج کا نام نہاد الحاق کا ڈرامہ عوامی حمایت سے مکمل طور پر محروم تھا اور ریاست کے عوام پہلے ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنے خون سے لکھ چکے تھے۔
پاکستان کے لیے اس دن کی اہمیت اور آزاد جموں و کشمیر کا قیام ہر اعتبار سے انتہائی گہرا، اسٹریٹجک اور دائمی مفاد کا حامل ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی، جغرافیہ، معیشت اور نظریہ، کشمیر کے ساتھ ناقابلِ انقطاع رشتہ رکھتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بے سبب کشمیر کو "پاکستان کی شاہ رگ" قرار نہیں دیا تھا۔ پاکستان کے تمام اہم ترین دريا، جیسے کہ جہلم، چناب اور سندھ، کا منبع اور بہاؤ کشمیر کے پہاڑوں سے جڑا ہوا ہے۔ اگر یہ پورا خطہ بھارت کے قبضے میں چلا جاتا تو پاکستان کے واٹر سیکیورٹی اور زرعی نظام کا دھارا ہمیشہ کے لیے دشمن کی مرضی کے مرہونِ منت ہو جاتا۔ 24 اکتوبر 1947 کے نتیجے میں قائم ہونے والے آزاد کشمیر کے باعث پاکستان کو اپنے شمال مغربی حدود کو محفوظ بنانے اور اپنے آبی وسائل کا بڑا حصہ قائم رکھنے کا زبردست تحفظ ملا۔
نظریاتی حوالے سے، پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور کشمیری مسلمان فطری اور ثقافتی طور پر خود کو پاکستان کے وجود کا حصہ سمجھتے تھے۔ 24 اکتوبر کا دن پاکستان کے اس نظریاتی مؤقف کی سب سے بڑی عملی توثیق ہے کہ کشمیری قوم نے ہر دور میں بھارت کے سیکولرازم کے جھوٹے ڈرامے کو رد کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنے مستقبل کو جوڑا ہے۔ سفارتی اور سیاسی محاذ پر آزاد جموں و کشمیر کی حکومت پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا طاقتور ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ ہو یا اسلامی تعاون تنظیم، پاکستان ہمیشہ آزاد کشمیر حکومت کے وجود کو اس بات کا ثبوت بنا کر پیش کرتا ہے کہ کشمیری عوام اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بھارت کا قبضہ غیر قانونی اور جبری ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کا خطہ پاکستان کے لیے عسکری اور دفاعی لحاظ سے بھی ایک مضبوط فصیل کا کام کرتا ہے۔ اس خطے کا وجود پاکستان کی سرحدوں کو براہِ راست دفاعی گہرائی فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت اسلام آباد اور پنجاب کے اہم ترین بالائی علاقوں کا دفاع انتہائی محفوظ ہو جاتا ہے۔ اگر آزاد کشمیر کا یہ علاقہ نہ ہوتا تو بھارتی عسکری پیش قدمی پاکستان کی حساس ترین شاہراہوں اور دارالحکومت کے انتہائی قریب تک پہنچ سکتی تھی۔ اس طرح 24 اکتوبر کا دن نہ صرف کشمیریوں کے لیے یومِ تاسیس اور مسرت کا دن ہے بلکہ یہ پاکستان کے دفاع، سالمیت اور پائیدار معاشی مستقبل کا بھی ضامن ہے۔
نتیجتاً، 24 اکتوبر کا دن ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ جو اقوام اپنے حق اور آزادی کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ رکھتی ہیں، تاریخ ان کی قربانیوں کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیتی۔ یہ دن آزاد کشمیر کے غیور عوام کی بے مثال شجاعت، قربانیوں اور قائدانہ بصیرت کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے نامساعد حالات میں بھی تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ آج بھی، جب مقبوضہ کشمیر کے مظلوم بہن بھائی بھارتی مظالم کا شکار ہیں اور اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، آزاد جموں و کشمیر ان کے لیے امید کی کرن اور تحریکِ آزادی کی مشعلِ راہ ہے۔ 24 اکتوبر کا دن پاکستان اور کشمیر کی دو جسد، ایک جان کی اس لا زوال حقیقت کا تجدیدِ عہد ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ مکمل آزادی کی سحر طلوع ہونے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
مزید پڑھیں





